پنجاب یونیورسٹی‘ 70 طلبہ کا سنگین جرائم میں ملوث ہونیکا انکشاف

پنجاب یونیورسٹی‘ 70 طلبہ کا سنگین جرائم میں ملوث ہونیکا انکشاف
پنجاب یونیورسٹی‘ 70 طلبہ کا سنگین جرائم میں ملوث ہونیکا انکشاف

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب یونیورسٹی کے 70 طلبہ کا سنگین جرائم میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ طلبہ پر مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہیں جس کی سپیشل رپورٹ تھانہ مسلم ٹاﺅن نے 27 دسمبر 2016 کو پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ کو جاری کرتے ہوئے انہیں یونیورسٹی اور ہاسٹلز سے خارج کرنے کی سفارش کی تھی مگر اس رپورٹ کے ایک ہفتہ بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے 4 جنوری 2017 کو طلبہ سے خفیہ مذاکرات کر کے جرائم میں ملوث تمام طلبہ کو معاف کرنے کا مراسلہ ہاسٹلز وارڈن کو جاری کر دیا۔ اس سے قبل دو طلبہ تنظیموں کا آپس میں ٹکراﺅ اور ہاسٹلز پر پتھراﺅ میں بھی یہ لوگ ملوث تھے۔

روزنامہ دنیا کے مطابق دسمبر 2016ءمیں پنجاب یونیورسٹی ہاسٹلز میں دو طلبہ تنظیموں کے درمیان پتھراﺅ کے بعد تھانہ مسلم ٹاﺅن نے ایک سپیشل رپورٹ تیار کر کے پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ کو 70 کے قریب سنگین مقدمات میں ملوث طلبہ کو یونیورسٹی سے خارج کرنے کی سفارش کی تھی۔ان طلبہ میں اسامہ نصیر، عمیر اشرف، احمد رضا، عبدالعزیز، بہرام سعید، عبدالصمد، تنزیل الرحمان، عمر خالد، اسامہ اعجاز، زاہد حسین، رب نواز ، صداقت علی، راﺅ ذیشان ، عبدالماجد ، تصور عباس، جنید شاہد سکھیرا، عبدالمقیت ، عبدالکریم ، معاذ اکرم ، وقاص، طارق عزیز، ذیشان ، رانا ماجد، ضیاالرحمان، عمر ، حافظ رضوان ، توقیر احمد، بھلی عمر، عمرارشاد ، گل زیب ، مظہر جنید ، رانا حسن ، حمزہ ، سمیع الرحمان ، قربان ، ظہیر بٹ، آدم ملک ، ابرار حسین، دلنواز اظہر، سعود، ہدایت اللہ خان، عبدالعلیم خان، صائم اللہ خان، فہیم، عقیل، رانا وسیم، طاہر عثمان، سرور ، عبداللہ، عثمان اکبر، فہد خان، جاوید، عبدالکبیر، ساجد، صہیب ، غلام مرتضیٰ، یاسر ملک ، تجمل، ممتاز رانا، حافظ سلمان، اسجد، وجاہت ، ملک احسن ، طارق، احسن ، فرمان ، ارسلان طارق، سکندر اعظم اور امیر حمزہ شامل ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں گستاخانہ مواد کیس کی سماعت،فیس بک تعاون نہیں کرتی تو پاکستان میں بند کردیں:جسٹس شوکت عزیز صدیقی

تھانہ مسلم ٹاﺅن کی اس رپورٹ پر پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے کارروائی کرنے کے بجائے 4 جنوری 2017 کو سابق رجسٹرار ڈاکٹر لیاقت علی نے مراسلہ نمبر no/d.012/rمیں چیئرمین ہال کونسل اور تمام ہاسٹلز کے وارڈن اور سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت جاری کی کہ جرائم میں ملوث اور تھانہ مسلم ٹاﺅن کو مطلوب تمام طلبہ کو معاف کر دیا جائے، ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی عمل میں نہ لائی جائے۔ ایجوکیشن ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تھانہ مسلم ٹاﺅن کی سپیشل رپورٹ پر کارروائی عمل میں لائی جاتی تو آج دو طلبہ تنظیموں کے درمیان دوبارہ اتنا بڑا واقعہ پیش نہ آتا۔

مزید :

لاہور -