افغانستان کی زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے، مشیر خارجہ طارق فاطمی کی سعودی عرب میں صحافیوں سے گفتگو

افغانستان کی زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے، مشیر خارجہ طارق فاطمی کی ...
افغانستان کی زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے، مشیر خارجہ طارق فاطمی کی سعودی عرب میں صحافیوں سے گفتگو

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ریاض (محمد اکرم اسد) افغانستان کی زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے جبکہ افغانستان ہمارا پڑوسی اور بھائی اسلامی ملک ہے، ہماری کوشش ہے کہ افغانستان کے ساتھ مل کر سرحد کے دونوں جانب دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ پوری دنیا میں دہشتگردی کے خلاف ضرب عضب اور ردالفساد کو سراہا جارہا ہے اس میں ہمارے فوجی جوانوں اور افسروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر دہشتگردی کا خاتمہ ممکن بنایا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستانی مشیر خارجہ طارق فاطمی نے سفارتخانہ پاکستان میں صحافیوں سے بات چیت میں کیا۔ان کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کی روک تھام کے لئے پاکستان اور سعودی عرب ملکر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان معاشی لحاظ سے ترقی کی جانب گامزن ہے، اس وقت موجودہ حکومت توانائی، گوادر پورٹ اور اکنامک زونز کی طرف توجہ دے رہی، 2008ئ تک ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ یقینی بنادیا جائے گا۔ اس دوران 10 ہزار میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کرلی جائے گی، پاکستانی حکومت اپنے وسائل سے پاور سیکٹر میں تھرمل، ونڈ،سولر، گیس اور ای این اور کوائل کا استعمال کرکے پاور ہاﺅس بنارہی ہے۔ 2022ئ تک ہمارے پاس 20 ہزار میگا واٹ بجلی کی پیداوار ممکن ہوگی۔ طارق فاطمی نے کہا کہ پاکستان کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں، بھارت کے ساتھ بھی برابری کے اصولوں پر ہی تعلقات استوار ہوسکتے ہیں۔ کشمیر کاذ کا ذکر کرتے ہوئے مشیر خارجہ نے کہا کہ کشمیری عوام کے حقوق کے لئے پاکستان ہر فورم پر آواز اٹھاتا رہے گا۔ طارق کے ساتھ قائمقام سفیر حسن وزیر بھی موجود تھے۔ مشیر خارجہ اپنے دورہ کے دوران سعودی حکومت کے اہم ارکان سے ملاقات کے علاوہ ڈپلومیٹک انسٹیٹیوٹ میں لیکچر بھی دیں گے اور عمرہ کی سعادت بھی حاصل کریں گے۔
دریں اثنائ طارق فاطمی نے سعودی وزیر محنت سے بھی ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ و برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر بات چیت ہوئی۔ انہوں نے وزیر محنت سے مختلف سعودی کمپنیوں میں پھنسے پاکستانی محنت کشوں کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر بھی گفتگو کی وہ تین روز سعودی عرب میں قیام کریں گے۔

مزید :

عرب دنیا -