قرارداد پاکستان اور موجوہ مسائل

قرارداد پاکستان اور موجوہ مسائل
قرارداد پاکستان اور موجوہ مسائل

  

قراردادپاکستان ہماری ملی تاریخ کا روشن باب ہے۔ اس روز برصغیر کے مسلمانوں نے الگ وطن کا مطالبہ کرکے اپنے جذبات اور احساسات کا کھل کر اظہار کیا۔

قراردادپاکستان سے آزادی کی راہ ہموار ہوئی ،جس کے نتیجے میں صرف سات سال اور پانچ ماہ کی قلیل مدت میں مسلمان الگ وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔چودہ اگست 1947ء کو قرارداد لاہور نے اپنا رنگ دکھایا اور قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں پاکستان دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔

تحریک پاکستان کے دوران بھارت کے مسلمانوں نے پہلی بار اس قرارداد کے ذریعے ایک علیحدہ وطن حاصل کرنے کا مطالبہ کیا اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ایک ہی وطن میں ہندوؤں کی بالادستی میں رہنا مسلمانوں کے مفاد میں نہیں ہے۔

1940ء کی قرارداد چونکہ پہلی قرارداد تھی جس میں مسلمانوں کی منزل کی نشاندہی کی گئی تھی اور جسے تاریخی شہر لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جنرل باڈی کے اجلاس میں قائداعظم کی صدارت میں پْرجوش انداز میں منظور کیا گیا تھا لہٰذا ہر سال اس تاریخی قرارداد کی یاد منائی جاتی ہے۔

23 مارچ 1940کو لاہور کے منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک) میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی اور اسی دن 1956 میں پاکستان کا پہلا آئین منظور ہوا۔ اس روز یوم پاکستان کے طور پر منانے کا اعلان سرکاری طور پر ہوا۔

پورے برصغیر کی مسلمان قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے نئے عزم اور ولولے سے سفر آزادی شروع کرنے کا عہد کیا اورجب قائداعظم 21مارچ کو فرنٹیئر میل کے ذریعے لاہور پہنچے ریلوے اسٹیشن پر تل دھرنے کو جگہ نہ تھی لوگوں کا جوش قابل دید تھا۔ قائد اعظم زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے ساری فضا گونج رہی تھی۔

23 مارچ 1940 کے تاریخی جلسے اور قرارداد کو اس لئے بھی اہم مقام حاصل ہے کہ یہ ایک اجتماعی سوچ کا شاخسانہ تھا اور اجتماعی طور پر تمام مسلمان ایک قوت اور ایک تحریک کا روپ دھارے ہوئے تھے۔

اس سے پہلے ان کی کوئی سر زمین نہیں تھی جہاں وہ اپنے عقیدے اور اپنے مذہب کے مطابق آزادی سے زندگی بسر کر سکیں اور ایسی سر زمین کے حصول کی لگن نے انہیں یکجا کردیا تھا اور یہ قوم ایک ہی قائد کی سربراہی میں پروان چڑھ رہی تھی۔

یہ دن یہ وقت جسے تمام دنیا نے ایک خواب سے تعبیر میں ڈھلتے ہوئے دیکھا۔ وہ دن وہ وقت 23 مارچ 1940 تھا۔ اس دن کا حال ایسا تھا جیسا ہمارے اسلام نے ہمیں درس دیا ہے۔ اسلام نے تمام قسم کی فرقہ واریت کو پس پشت ڈال دیا اور رنگ، نسل اور زبان کے فرق کو ختم کردیا۔

اس دن بھی نہ کوئی سندھی تھا، نہ کوئی پنجابی اور نہ ہی کوئی پٹھان تھاوہ سب مسلمان تھے۔ ایک اللہ کو ماننے والے تھے اور اسی کے پیروکار تھے۔

1940ء کو لاہور کے منٹو پارک میں جو قرارداد منظور کی گئی تھی، جن مقاصد کے حصول کا اعلان کیا گیا تھا، ان کا بڑا مقصد اسلامی مملکت پاکستان کے قیام کی خاطر جدوجہد تھی جو 1947ء کو کامیابی سے ہمکنار ہوگئی تھی۔

اس تاریخی اجتماع میں قائداعظم محمد علی جناح نے ڈھائی گھنٹے تقریر کی۔ اس تقریر میں انھوں نے فرمایا کہ مسلمان کسی بھی تعریف کی رو سے ایک قوم ہیں۔

ہندو اور مسلمان دو مختلف مذہبی فلسفوں سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ لوگ نہ تو آپس میں شادی کر سکتے ہیں اور نہ ہی یہ لوگ مل کر کھانا کھا سکتے ہیں اور یقیناًیہ لوگ مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

جو بنیادی طور پر اختلافی خیالات اور تصورات پر محیط ہیں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اس قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے بیگم مولانا محمد علی جوہر نے سب سے پہلے قرارداد پاکستان کا لفظ استعمال کیا اور ہندوستان کی تقسیم سے قبل ہی آل انڈیا مسلم لیگ نے 1941ء سے 23 مارچ کے دن ہندوستان بھر میں یوم پاکستان منانا شروع کر دیا تھا قرارداد میں پاکستان کا لفظ شامل نہیں ہوا تھا۔

پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنا نا ہے تو ہمیں قائداعظم کی گیارہ اگست کی تقریر کی روشنی میں اس ملک کے عوام کی بلا تفریق مذہب ، نسل و جنس حق شہریت تسلیم کرنا ہوگا۔ قرارداد مقاصد کے ایک ایک حرف پر عمل کے ذریعے ہی پاکستان کی تعمیر ہونی ہے اور ایسا ہونا دیوار پر لکھی تحریر ہے۔

جب تک آمریت ، جبر ، طبقاتی تقسیم ، فرقہ واریت ، تنگ نظری اور ظلم کے دروازے بند نہ ہونگے تب تک پاکستانی معاشرہ اسلامی ، پْرامن ،بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح ترقی یافتہ ، خوشحال اور آسودگی کے راستے پر گامزن نہیں ہوسکتا ہے۔

قائداعظم کی دستور ساز اسمبلی سے پہلی تقریر ہمارے لئے مشعل راہ ہونی چاہئے۔ آپ نے 11 اگست 1947 کو مجلس دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ، ’’ آپ آزاد ہیں ، آپ مندروں میں جائیں ، اپنی مساجد میں جائیں یا کسی اور عبادت گاہ میں۔

آپ کا کسی مذہب ، ذات یا عقیدے سے تعلق ہو، کاروبار ریاست کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ہم سب ایک مملکت کے یکساں شہری ہیں۔

جیسے جیسے زمانہ گزرتا جائے گا نہ ہندو ہندو رہے گا ، نہ مسلمان مسلمان۔ مذہبی اعتبار سے نہیں ،کیونکہ یہ ذاتی معاملہ ہے، بلکہ سیاسی اعتبار سے اور ایک مملکت کے شہری کی حیثیت سے’’۔

مزید :

رائے -کالم -