آنکھوں کے بغیر توانا جسم

آنکھوں کے بغیر توانا جسم
آنکھوں کے بغیر توانا جسم

  

میں گاہے گاہے تعلیم پر لکھتا رہتا ہوں اپنے کالم کے توسط سے بھی اور سوشل میڈیا پر بھی۔ اور پچھلے ہفتے مجھے ریڈ فاونڈیشن کے زیر اہتمام ہائی سکول کڈھالہ آزاد کشمیر میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا جہاں پر میں نے تعلیم اور خواتین پر خطاب کیا۔ اور آج اسی تقریر میں کچھ ردو بدل کے ساتھ کالم لکھ رہا ہوں۔

پاکستان تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے رہ گیا ہے اور عصر حاضر میں تعلیم کی اہمیت سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا، دنیا کا مستقبل تعلیم اور تحقیق کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور وہی ممالک دنیا میں کامیاب ہوں گے جو تعلیم و تحقیق میں سبقت لے جائیں گے۔

اقوام متحدہ کی تعلیم کے حوالے سے ایک حالیہ رپورٹ جو نو مارچ کو ایک انگریزی اخبارڈان میں شائع ہوئی ہے ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔

عالمی سطح پر اسکولوں سے محروم ہر 10واں بچہ پاکستانی ہے اور پاکستان کے 5سے 16 سال کے بچوں میں سے 47% بچے سکول سے محروم ہیں اور یہ تعداد دنیا بھر میں لائبیریا کے بعد دوسری بڑی تعداد ہے۔ یہاں تک کہ افغانستان کی صورتحال پاکستان سے بہتر ہے جہاں پر 46% بچے سکول سے محروم ہیں۔

پاکستان کے نسبتاً خوشحال صوبے پنجاب کی یہ حالت ہے کہ اس کے5 سے 16 سال کے 44% بچے سکول سے محروم ہیں۔ جن کی تعداد ایک لاکھ چودہ ہزار بنتی ہے۔

خادم اعلی جو اب خادم پاکستان بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں دن رات اپنے صوبے کی ترقی کے راگ الاپتے رہتے ہیں انہیں کوئی بتائے کہ جناب تعلیم کے بغیر ترقی کی مثال آنکھوں کے بغیر توانا جسم جیسی ہو سکتی ہے۔ جسم جتنا بھی توانا ہو جائے آنکھوں کے بغیر مفلوج ہی رہے گا۔

تعلیمی اعتبار سے سب سے بری حالت بلوچستان کی ہے جہاں 70% سے زائد بچے سکول گئے ہی نہیں یا پرائمری سے ہی بھاگ گئے۔ جب کہ سندھ کے 56% بچے سکول کی سہولت سے محروم ہیں۔

اگر فاٹا کو الگ کر کے دیکھا جائے جہاں 59% بچے سکول نہیں جاتے تو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی صورتحال قدرے تسلی بخش یا دوسرے صوبوں سے بہتر ہے اور وہاں کے 64% بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور 36% تعلیم سے محروم ہیں۔

اب سکول میں خطاب کا کچھ حصہ ملاحظہ ہو۔میں خال خال ہی کبھی لکھی ہوئی تقریر کرتا ہوں زیادہ تر فی البدیہہ بات کرتا ہوں ،لیکن آج میں جہاں کھڑا ہوں ، جن لوگوں کے سامنے کھڑا ہوں اور جس موضوع پر بات کرنے جا رہا ہوں وہ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ لفظوں کا درست استعمال کیا جائے اور الفاظ کا وزن کیا جائے۔

تو میرے قابل احترام اساتذہ اور پیارے طالب علمو سنو۔

میں آج بے حد ممنون ہوں کہ مجھے آج جو مقام ملا ہے میں نے کبھی خود کو اس قابل نہیں سمجھا کیوں کہ میں اس لحاظ سے بد نصیب ہوں کہ آپ لوگوں کے راستے پر چلتے چلتے پھسل گیا تھا اور منزل کھو دی تھی۔

اور ان پڑھ لوگوں کے گروہ میں شامل ہو گیا، لیکن جب ہوش آیا کہ میں نے اپنے اوپر بہت ظلم کر لیا ہے، میں علم کا راستہ چھوڑ کر جہالت کی گلیوں میں داخل ہو گیا ہوں تو پھر بہت پچھتایا اور دوبارہ مکتب کی طرف دوڑا، لیکن تب اتنی دیر ہو چکی تھی کہ مکتب والے میرے تمام ساتھی اپنی اپنی منزلوں پر پہنچ چکے تھے۔

اور پھر اس وقت سے لیکر آج تک میں اس علم کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہوں اور آج بھی طالب علم ہوں اسی لئے اپنی تمام مصروفیات سے صرف نظر کی اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔

آج میں اپنے ہم مکتب بھائیوں اور بچوں کے سامنے کھڑا ہوں۔ جی بچو میں بھی آپ جیسا ہوں، میں آپکا ساتھی ہوں کیوں کہ میں ایک ادنی طالب علم ہوں۔ قمیں نے جو غلطی کی تھی، میں نے جو مستی کی تھی، میں نے جو وقت کی قدر نہ کی تھی آج تک اس کا خمیازہ بھگت رہا ہوں اور ہر جگہ علم علم کی سدا لگاتا پھرتا ہوں۔

علم کا گداگر بن کر ہر آنے جانے والے سے ہر راہ گیر سے علم کی بھیک مانگتا ہوں اور دوسروں کو علم کا راستہ نہ چھوڑنے کی تلقین کرتا رہتا ہوں اسی لئے آج آپ کے سامنے بھی کھڑا ہوں۔

آپ سے بھی ہاتھ جوڑ کر التجا کرتا ہوں میرے بچو منزل مقصود پر پہنچنے سے پہلے اپنا راستہ نہ چھوڑنا۔ اپنا وقت ضائع نہ کرنا اپنی کتابوں کی قدر کرنا اور قدر یہ نہیں کہ کتابوں کو چوم چوم کر اونچی جگہ پر رکھا جائے ،بلکہ قدر یہ ہے کہ ان کو غور سے پڑھا جائے پڑھے ہوئے کو سمجھا جائے اور سمجھے ہوئے پر عمل کیا جائے اور پھر دوسروں کی مدد کی جائے۔ آج سب سے قیمتی چیز آپ لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور وہ چیز وقت ہے اس وقت کی قدر کرو اور اس وقت سے پورا پورا فائدہ اٹھاو۔

ویسے تو علم ماں کی گود سے لیکر قبر کی آغوش تک سیکھا جا سکتا ہے کیوں کہ علم کی آخری سرحد آج تک کسی نے نہیں دیکھی ہے۔ علم کی آخری سرحد ارسطو نے دیکھی نہ افلاطون نے، البیرونی نے عبور کی نہ بو علی سینا نے ارشمیدس، ایڈیسن اور آئن سٹائن سب نے اپنی پوری زندگیاں علم کے حوالے کیں ،لیکن علم کے ایک ایک قطرے سے زیادہ کچھ نہیں سمجھ پائے۔

علم مشرقی ہے نہ مغربی، علم دینی ہے نہ دنیاوی علم نام ہے تحقیق کا علم نام ہے سوچنے کا علم نام ہے سمجھنے کا، علم نام ہے آج کے بندوبست کا اور کل کی منصوبہ بندی کا۔ علم اپنا راستہ خود بناتا ہے اور علم کی درسگاہ سے مسلسل کن فیکون کی سدا اٹھتی ہے۔ کیوں کہ جو علم آج ہے وہ کل تو رہے گا ،لیکن کل اس میں اتنا اضافہ ہو جائے گا جو ہم آج سوچ بھی نہیں سکتے۔

آنے والا وقت نئے نئے علم لیکر آئے گا اور وہ علم اسی آنے والے زمانے کے لوگوں کی میراث ہو گا آج ہم اس کے متعلق نہیں جانتے۔ کہا جاتا ہے ،بلکہ یہ حدیث بتائی جاتی ہے کہ علم مومن کی میراث ہے میرے خیال میں یہ اس لئے کہا گیا ہے کہ علم کے بغیر انسان مومن ہو ہی نہیں سکتا۔ اور کوئی مومن بے علم نہیں ہوتا ہے۔

تو میں عرض کر رہا تھا کہ علم تو ماں کی گود سے قبر کی آغوش تک سیکھا جا سکتا ہے، لیکن علم سیکھنے کا بہترین وقت وہ ہوتا ہے جو آج آپکے پاس ہے۔

کیونکہ کسی بھی عمارت کی مضبوطی اس عمارت کی بنیاد ہوتی ہے اور علمی عمارت کی بنیاد پہلی جماعت سے انٹرمیڈیٹ تک ہے اس کے بعد عمارت کا ڈھانچہ شروع ہوتا ہے تو میرے پیارے بچو اپنے وقت کی قدر کرو اور اپنی سب سے خوبصورت عمارت کی بنیاد مضبوط کرو۔ آج جتنی محنت کر لو گے کل اسی قدر پھل پاو گے۔

میں جو زبان بول رہا ہوں جو اردو استعمال کر رہا ہوں اس سے کچھ زیادہ مشکل الفاظ بھی میرے پاس ہیں، لیکن میں سادہ زبان اور آسان اردو میں بات اس لئے کر رہا ہوں کہ میرے بچوں کی سمجھ میں آسکے۔ میں جانتا ہوں، میں مانتا ہوں کہ آپ کے راستے میں بہت مشکلات ہیں۔

آپ میں سے بیشتر بچوں کے والدین زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں، اور علم کی اہمیت کا ادراک نہیں رکھتے اور کئی ایک کے والدین بچوں کو تعلیم دلانے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں کیونکہ پاکستان میں علم کا حصول بہت مشکل بنا دیا گیا ہے۔

تعلیم کا شعبہ سرکار سے نکل کر نجی سرکار کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے اور نجی سرکار علم بانٹ نہیں رہی ،بلکہ بیچ رہی ہے ،جبکہ علم بکاو مال نہیں ہوتا۔

لیکن میرے بچو پھر بھی آپ نے ہر مشکل کو عبور کرنا ہے اور علم حاصل کرنا ہے۔

بچو آپ بہت خوش قسمت ہیں جن کو یہ موقع ملا ہے ورنہ اس مملکت خداداد پاکستان میں اڑھائی کروڑ سے زائد بچوں کو یہ موقع میسر نہیں اڑھائی کروڑ بچے تعلیم کے زیور سے محروم ہیں وہ یا تو گھر کے کام میں والدین کی مدد کر رہے ہیں یا مختلف جگہوں پر محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔

پاکستان میں علم ادھورا ہے یہاں مکمل علم نہیں ملتا۔ اساتذہ آپ کو پونا علم پڑھا رہے ہیں، والدین آپ سے آدھی مخبت کرتے ہیں۔ اور مکتب آپ کے لئے اپنا سینہ کشادہ نہیں رکھتے۔

اساتذہ پونا علم اس طرح پڑھاتے ہیں کہ ایک مخصوص نصاب کا رٹا لگوایا جاتا ہے بچوں کے ذہنوں کو کھلے سمندر بنانے کی بجائے محدود رکھا جاتا ہے اساتذہ مخصوص نصاب پڑھائے پر مجبور ہیں کیوں کہ یہ حکومتی پالیسی کے پابند ہیں۔

والدین آدھی مخبت اس طرح کرتے ہیں کہ اپبے بچوں سے پیار کرتے ہیں ، ان کے رہن سہن ، لباس اور اچھی تعلیم کا بندوبست بھی کرتے ہیں، لیکن بچوں سے اپنی زندگی کے تجربات شیئر نہیں کرتے، بچوں کو اپنا دوست نہیں بناتے ان کو سوال کرنے کی اجازت نہیں دیتے ان پر اپنی مرضی ٹھونستے ہیں۔

مکتب کا سینہ کشادہ نہ ہونے سے میری مراد سکولوں میں کھیلوں کا بندوبست نہ ہونا ہے غیر نصابی اور صحت مند سرگرمیاں بچوں کے لئے نہایت ضروری ہیں۔۔۔ اسی طرح سکولوں سے فارغ التحصیل بچوں میں اخلاقیات اور تربیت کا فقدان نظر آتا ہے۔

وہ سچ بولنے اور وقت کی پابندی کی اہمیت سے واقف نہیں ہوتے اور معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کا بھی حصہ بن جاتے ہیں۔

سکولوں کے اندر بچوں کوعقل و شعور کی بجائے جذباتی انداز سکھایا جاتا ہے میرے خیال میں بچوں کے ہاتھ میں بندوق نہیں کتاب اور قلم ہونا چاہیے اور دنیا میں اپنا نام بنانے کے لئے علم اور سائنس میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

کائنات کے اسرار و رموز جاننے کے لئے سائنس کے میدان میں ترقی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

خواتین کی تعلیم مردوں سے بھی زیادہ ضروری ہے کیوں کہ خواتین کو معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے اور اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے ۔

میں نے تبدیلی کی طرف قدم اٹھایا ہے تمام مرد و خواتین کو ساتھ چلنے کی دعوت دیتا ہوں۔ تاکہ ہم اس فرسودہ اور بوسیدہ نظام کو تبدیل کر کے معاشرے میں صحت مند رحجان کی بنیاد رکھ سکیں۔

ریڈ فاونڈیشن تعلیمی میدان میں اپنا کردار خوب نبھا رہی ہے یہ ادارہ اس لحاظ سے منفرد مقام کا حامل ہے کہ بغیر نفع و نقصان کی بنیاد پر چلایا جا رہا ہے۔

موجودہ سال الیکشن کا سال ہے دوسرے لفظوں میں یہ ایک ایسا دن یا موقع ہے جب عام آدمی کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے۔جو اپنے انتخاب کے حق کو استعمال کرکے آئندہ نصف عشرے کے لئے اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کی باگ ڈور اپنے منتخب کردہ نمائندوں کے حوالے کرنے کے بھاری فیصلے کی ذمہ داری پوری کرتا ہے۔

دنیا بھر میں ترقی کی بنیاد انسانوں پر سرمایہ کاری کی جاتی ہے جو مستقبل میں عام آدمی کی فلاح بہبود کا سفرطے کرتی حقیقی ترقی کا روپ دھارتی ہے،لیکن وطن عزیر میں انفراسٹرکچرل ڈیولپمنٹ یعنی تعمیرات کو ہی اصل ترقی قرار دینے کا پراپیگنڈا کر کے عام آدمی کوکنفیوڑکیا جاتا ہے۔اور اب یہ ظاہری ترقی ہی لوگوں کو مطمئن کرنے اور الیکشن میں ووٹ کے حصول اور کامیابی کاذریعہ بن چکی ہے۔

ورلڈ بنک کے مطابق پاکستان اپنی جی ڈی پی کا صرف 3فیصد صحت،غذا اور تعلیم پرصرف کرتا ہے۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری سیاسی جماعتیں،سیاستدان اور الیکشن لڑنے والے عوامی نمائندے کبھی تعلیم کی فراہمی، صحت کی سہولتیں اور روز گار کے مواقع کی دستیابی کو کارکردگی کی بنیاد بنائیں گے یا پھرکیا ووٹرز ہی کبھی تعلیم،صحت اور روزگار کی بنیاد پرعوامی نمائندوں کا احتساب کریں گے۔

حکومتوں کی تر جیحات میں تعلیم کہاں اسٹینڈ کرتی رہی۔

ملک کے 40فیصد اسکولوں میں بجلی دستیاب نہیں ہے،29فیصد اسکول پینے کے پانی،30فیصد بیت الخلا کی سہولت سے محروم ہیں، جبکہ33فیصد اسکول بغیر چار دیواری کے ہیں۔

جب کہ 7 فیصد سکولوں کی سرے سے عمارت ہی نہیں ہے۔ 21% پرائمری سکولوں میں ایک ٹیچر اور 14% سکول ایک کمرے پر مشتمل ہیں۔ ایسے میں پاکستان کیسے ترقی کر سکے گا اور آنے والے 50 سالوں میں ہم کہاں کھڑے ہوں گے؟

مزید :

رائے -کالم -