مریضوں کو تین ماہ میں سہولتیں مہیا کرنے کی ہدایت

مریضوں کو تین ماہ میں سہولتیں مہیا کرنے کی ہدایت

  

یہ خبر خوش آئند ہے کہ سپریم کورٹ نے دل کے مریضوں کو سہولتیں مہیا کرنے کے لئے قائمہ کمیٹی کی سفارشات پر تین ماہ کے اندر عملدرآمد کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں فل بینچ نے صحت اور دیگر معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے جاری کیا ہے۔ حکم میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ قائمہ کمیٹی کی سفارشات بہت جامع ہیں۔ ان پر 90 روز میں عملدرآمد ہونا چاہئے۔ ان سفارشات کا اطلاق سرکاری ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ نجی ہسپتالوں پر بھی ہوگا۔ قائمہ کمیٹی کی سفارشات بنیادی طور پر صحت کی سہولتوں کے حوالے سے ہیں، خصوصاً دل کے مریضوں کے لئے مہنگا علاج سستا کرنے کی تجاویز کو عملی شکل دینا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اگر ان سفارشات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا گیا تو دل کے مریضوں کو سٹنٹ ڈالنے کے اخراجات چار سے پانچ لاکھ روپے کی بجائے صرف ایک لاکھ روپے برداشت کرنا ہوں گے۔ اس طرح دل کے امراض سے بچاؤ کے لئے بھاری اخراجات بھی کم ہو جائیں گے۔ موجودہ حالات میں ڈاکٹر اپنے نسخے میں جو ادویات خریدنے کی ہدایت کرتے ہیں، ان کی قیمتوں میں کمی کے لئے بھی سفارشات تیار کی گئی ہیں۔ سفارشات پر عملدرآمد کا مطلب یہ ہوگا کہ دل کے مریضوں کا پہلے کی نسبت سستا علاج ممکن ہوگا ۔

اہم مسئلہ یہ ہے کہ بعض کمپنیاں پہلے اپنی اجارہ داری قائم کرتی ہیں اور اس سلسلے میں وہ اعلیٰ حکام سے بھی مک مکا کرتی ہیں اور ادویات کے نرخوں میں من مرضی سے اضافہ کرتی رہتی ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ ہمسایہ ملک بھارت میں جو دوائیں بے حد سستی ہیں، وہی ادویات ہمارے ملک میں کئی گنا زیادہ قیمت میں فروخت ہوتی ہے۔ مہنگی ادویات اس وقت مریضوں کے لئے سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ کئی بار ادویات سستی کرنے کی خوش کن آوازیں سنائی دی گئیں، لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ دل کے مریضوں کو چار سے پانچ لاکھ روپے میں سٹنٹ ڈالا جاتا ہے۔ غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والوں کے لئے یہ بہت بڑی رقم ہے۔ ایک لاکھ روپے میں سٹنٹ کی دستیابی سے مالی بوجھ بہت کم ہو جائے گا۔ یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ قائمہ کمیٹی کی سفارشات میں ڈائیلسز کی سہولتیں بہتر بنانے کے لئے بھی کہا گیا ہے جبکہ ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں مزید سہولتوں کو یقینی بنانے کا انتظام کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ سفارشات پر عملدرآمد کے لئے نجی ہسپتال بھی پابند ہوں گے۔ خصوصاً سٹنٹ کی قیمت میں نمایاں کمی کے حوالے سے یکساں اطلاق ہوگا۔ اس کے لئے ضروری ہوگا کہ نجی ہسپتالوں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر سستے داموں سٹنٹ کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ وہ یہ عذر پیش نہ کریں کہ مہنگے داموں سٹنٹ خریدنا پڑتے ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے اچھی سفارشات تیار کی ہیں، ان پر بہتر طریقے سے اور جلد عملدرآمد کو یقینی بنانا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -