دوقومی نظریہ اوربھارتی میڈیا کامتعصبانہ رویہ

دوقومی نظریہ اوربھارتی میڈیا کامتعصبانہ رویہ
دوقومی نظریہ اوربھارتی میڈیا کامتعصبانہ رویہ

  

سمجھوتہ ایکسپریس کاقیامت خیز سانحہ ہویا انڈین پارلیمنٹ پرحملہ کاڈرامہ یاپھربمبئی حملہ کاشوروغوغا، بھارت کے میڈیا نے ہرجگہ ہمیشہ اپنی فطرت کے مطابق جلتی پر تیل ڈالنے کاکردار اداکیاہے۔

بھارتی میڈیا کی شرانگیزیوں کا ہی یہ کیا دھراتھاجب واجپائی نے اپنی افواج پاکستان کی سرحد پرلاکھڑی کیں۔جنگ کے ماحول کو گرمانے، بلکہ دونوں ملکوں کوایٹمی جنگ کی بھٹی میں جھونکنے کے لئے بھارت کے میڈیا نے ایڑی چوٹی کازور لگادیا۔

بھارتی میڈیا نے نفرت کاالاؤ پاکستان بھارت سرحد پرتودہکاہی رکھاہے، لیکن اس کی شرانگیزی سے کھیل کے میدان تک محفوظ نہیں ہیں۔

آزاد پاکستان میں رہتے ہوئے بھارت کے میڈیا کی لگائی ہوئی آگ کی تپش ہمیں اس قدر محسوس نہیں ہوتی جتنی ہندوستان میں بسنے والی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو برداشت کرنا پڑتی ہے۔

گجرات میں مسلمانوں کے خون سے جو ہولی کھیلی گئی، اس کاراستہ جنونی ہندؤوں کو وہاں کے میڈیانے ہی دکھایا تھا۔ آج مسلمانوں کو شدھی بنانے کی تحریک بھی وہاں کے میڈیا نے ہی گرما رکھی ہے۔

بھارتی میڈیاکا یہ بھیانک کردار کوئی نئی بات نہیں، جب ہندوستان کے مسلمانوں نے ہندؤوں کے خطرناک ارادوں کو بھانپ کر علیحدہ ملک کی راہ کاچناؤ کیا توان کی راہ میں کانٹے بونے میں ہندو میڈیا نے کلیدی کرداراداکیاتھا۔

ہندو یہ سمجھتے تھے کہ انگریز کے ملک چھوڑنے کے بعد بہترین موقعہ ہوگا جب وہ مسلمانوں سے اپنی صدیوں پرمحیط غلامی کاادھار چکائیں گے۔گاہے گاہے ان کے بھیانک عزائم اور بنیا پن کی جھلک دکھائی دے جاتی تھی۔

کلکتہ کے اخبارات جن کے تمام مالکان ہندو تھے، تقسیم کی مخالفت میں پیش پیش تھے، کیونکہ ان کو یہ تشویش لاحق ہوگئی تھی کہ ڈھاکہ سے مسلم اخبارات کے اجرا سے ان کی اپنی اشاعت ختم ہوکر رہ جائے گی۔

دی بنگالی اخبار کا ایڈیٹر سریندرناتھ بینرجی اورامرت بازار پتریکا کا ایڈیٹر ایس کے گھوش دونوں مخالفت میں پیش پیش تھے۔ سریندر ناتھ نے تقسیم کوبم کا گولہ قرار دیا۔ ہندواخبارات نے کھلم کھلا مسلمانوں کودھمکیاں دیناشروع کر دیں۔

مسلمانوں کے خلاف زہر اگلا جاتا۔ مسلمانوں پرروزانہ یہ الزام لگائے جاتے کہ وہ ہندؤوں پرحملہ کرنے کے لئے پرتول رہے ہیں، لہٰذا ہندؤوں کوچاہئے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھا لیں۔

ایک اخبارنے یہاں تک لکھ دیاکہ تمام غنڈوں (مسلمانوں) اور سرکاری افسران کو جوان کی مدد کررہے ہیں جب تک زندہ نہیں جلادیاجائے گا،اس وقت تک مسلمانوں کے خلاف بدلہ لینے کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوگی۔

علامہ اقبال کے خطبہ الٰہ آباد کے بعد ہندو میڈیا نے ان کے خلاف بھی زہراگلنا شروع کر دیا۔ روزنامہ ٹریبیون نے لکھا چونکہ اقبال کو پہلی گول میز کانفرنس میں مدعونہیں کیا گیا تھا، لہٰذا انہوں نے انتقامی کارروائی کے طورپرکانفرنس کوتباہ کرنے کے لئے یہ خطبہ دیا۔

لاہور سے شائع ہونے والے متعصب اخبار پرتاپ نے خطبہ الٰہ آباد پرجواداریہ لکھا ،اس کا عنوان تھا، ’’شمال مغربی ہندوستان کاایک خطرناک مسلمان‘‘۔

روزنامہ انقلاب نے 15جنوری1931ء کو لاہور کے ایک ہندو اخبار کا بیان نقل کیا کہ اقبال ہندؤوں کا ملک ان سے چھین کر مسلمانوں کے حوالے کرناچاہتا ہے۔

الٰہ آباد کے انگریزی اخبارلیڈر نے لکھاکہ اقبال نے وفاقی حکومت کے تصور پرحملہ کیاہے۔ بنگالی سیاستدان پین چندر پال نے اپنے مضمون میں زہرافشانی کرتے ہوئے لکھا اقبال اوران کے ساتھی عالم خواب میں پھراس زمانے کا مزہ لیتے ہیں جب ہندوستان مسلمانوں کے قبضے میں تھا۔ اب حالات بدل چکے ہیں اوروہ لوگ بھی اس قابل نہیں رہے کہ اب ہندوستان میں مغل یاپٹھان راجیہ قائم کرنے میں مدد دے سکیں۔

بھارت کامتعصب میڈیاآج بھی اسی جگہ کھڑاہے جہاں1947ء کے وقت تھا، بلکہ بھارتی میڈیاکی مسلمانوں اورپاکستان کے خلاف زہرافشانی پہلے سے کئی گنابڑھ چکی ہے۔بھارت کامیڈیا آر ایس ایس اورجنونی ہندؤوں کی طرف سے اقلیتوں کوجبر اً ہندو بنانے کی مہم کی خوب سرپرستی کر رہاہے۔

اخبارات میں مضامین لکھے جاتے ،تجزیے اور خبریں شائع کی جاتیں جن میں مسلمانوں کو ہندومت اختیار کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔’’لوجہاد‘‘اور ’’لوڈرگز‘‘ کے ذریعے خوف وہراس پھیلاکر ہندومت کو جبراً مسلط کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے اس مکروہ مہم کا نام’’ گھرواپسی‘‘ رکھاہواہے۔ جب ہندو کو یہ یقین ہوگیا کہ انگریزوں کے جانے کے بعد ہندوستان پکے ہوئے پھل کی طرح ان کی جھولی میں آگرے گاتوانہوں نے اس وقت بھی سنگھٹن اور شدھی کی تحریکیں شروع کی تھیں۔

ہندو اخبارات نے اسے مقدس فریضہ سمجھ کر شدھی اور سنگھٹن تحریکوں کا خوب پراپیگنڈا کیا۔تمام ہندو اخبارات میں یہ اشعار تواتر سے چھپتے تھے۔

کام شدھی کا کبھی بند نہ ہونے پائے

بھاگ سے وقت یہ قوموں کو ملا کرتے ہیں

ہندؤو! تم میں ہے گر جذبہ ایمان باقی

رہ نہ جائے کوئی دنیا میں مسلمان باقی

ان حالات میںآل انڈیامسلم لیگ نے23مارچ 1940ء کی قرارداد لاہور پاس کی۔ امرواقع یہ ہے کہ یہ قراداد مسلمانوں کے لئے ایک سنگ میل اورمشعل راہ ثابت ہوئی۔ اس قرارداد سے مسلمانوں کو ایک سمت ملی جس نے جنوبی ایشیاء کے نقشے کو تبدیل کرکے رکھ دیا۔ قراردادِ لاہور کا منظور ہوناتھاکہ ہندو اخبارات نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔

پرتاب، ملاپ، ٹریبیون وغیرہ نے اس قرارداد کو اگلے روز کی اشاعت میں قراردادِپاکستان کانام دے دیا۔ حالانکہ قرارداد میں کسی بھی جگہ پاکستان کالفظ استعمال نہیں ہوا تھا۔

روزنامہ ٹریبیون نے 21اگست 1940ء کو پاکستان سکیم کو ناقابل عمل اور گھناؤنی سکیم کہا۔ اس نے لکھا کہ یہ ہندوستان کے فرقہ وارانہ مسئلے کاکوئی حل نہیں ہے۔

ہندوستان ٹائمز نے لکھاکہ تاریخ نے ہندؤوں اور مسلمانوں کو ایک قوم بنایاتھااور اب کسی بھی قوم کو مطمئن کرنے کی خاطر ہندوستان کی وحدت کوتوڑنا یہاں کے لوگوں کی ترقی اور امن وسکون کوبرباد کرنے کے مترادف ہو گا۔

روزنامہ امرت بازار پتر یکا(کلکتہ) نے پاکستان سکیم کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے لکھااگر مسلمان ایک آل انڈیا گورنمنٹ کے تحت بحیثیت اقلیتی قوم کے نہیں رہ سکتے تو وہ کس طرح سے توقع کرتے ہیں کہ ہندومسلمانوں کی اکثریت کے تحت رہیں گے۔

گاندھی نے 6اپریل1940ء کو اپنے اخبار ہریجن میں لکھا کہ میراخیال ہے کہ مسلمان تقسیم کو قبول نہیں کریں گے۔ ان کامذہب انہیں اس قسم کی واضح خودکشی کی اجازت نہیں دے گا۔گاندھی نے باربار لکھا کہ دوقومی نظریہ ایک جھوٹ ہے۔

میری روح اس نقطۂ نظر کے خلاف بغاوت کرتی ہے کہ ہندومت اور اسلام دو مختلف عقیدوں اورمتضاد تہذیبوں کانام ہے۔ رام گوپال اچاریہ کے ’’ہندو توا‘‘کی فکرسے لتھڑے ہوئے مضامین تمام ہندو اخبارات میں شائع ہوئے، جس میں اچاریہ نے کہاکہ تقسیم ہند سے متعلق مسٹرجناح کایہ اقدام اس طرح کا ہے جیسے دوبھائیوں کے درمیان ایک گائے کی ملکیت پرجھگڑا ہو اور وہ دوٹکڑوں میں کاٹ کربانٹ لیں۔

ہندوپریس کی شعلہ بیانیوں سے متاثرہوکر برطانوی پریس نے قرارداد لاہور کو کوئی خاص اہمیت نہ دی، بلکہ لندن ٹائمز،مانچسٹر گارڈین، ڈیلی ہیرلڈ اور اکانومسٹ وغیرہ نے قرارداد لاہورکی مخالفت کرتے ہوئے لکھا کہ قائداعظم نے قراردادلاہور منظور کروا کر ہندوستانی ریاست میں دوبارہ انتشار پیدا کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ قرارداد ہندوستانی نیشنل ازم کے قلب پر ضربِ کاری ہے۔

کابینہ مشن نے مسلم لیگ اورکانگریس سے ہندوستان کے آئینی مسئلے کے حل کے لئے تجاویز طلب کیں، لیکن شدید اختلافات کے پیش نظر16مئی کومشن نے اپنی طرف سے ایک منصوبے کااعلان کیا۔

مشن کی تجاویز کے مطابق برطانوی ہند اور دیسی ریاستوں پر مشتمل ایک یونین آف انڈیا ہوگی جس کی تحویل میں امور خارجہ، دفاع اور مواصلات ہوں گے۔

ہندوستان کے تمام صوبوں کے تین گروپ بنا دئیے جائیں گے،گروپ اے ہندواکثریت کے چھ صوبوں پر مشتمل ہوگا، جبکہ گروپ بی میں پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان اورگروپ سی میں بنگال اور آسام ہوں گے۔

کوئی بھی صوبہ اپنی اسمبلی کے اکثریتی ووٹ کے ذریعے دس سال بعد یا ہر دس سال کے بعدآئین کی شرائط پر ازسر نو غورکرنے کی فرمائش کرسکے گا۔ایک آئین سازاسمبلی کے انتخابات کے لئے ہرصوبے کواس کی آبادی کے تناسب سے نشستیں مخصوص کی جائیں گی۔

آئین ساز اسمبلی کے تینوں حصوں میں سے ہرایک اپنے گروپ میں شامل صوبوں کے لئے آئین بنائے گااور ساتھ ہی یہ بھی فیصلہ کرے گا کہ آیابحیثیت مجموعی گروپ کے لئے آئین بننا چاہیے۔

نئے آئین کے تحت پہلے عام انتخابات کے بعد کسی بھی صوبے کی نئی مجلس قانون ساز کو اپنے گروپ سے نکلنے کااختیارہوگا۔کابینہ مشن کی آخری شِق یہ تھی کہ ایک عبوری حکومت قائم کی جائے گی جس میں دفاع سمیت تمام محکمے عوام کے قابل اعتماد لیڈروں کو سونپ دیئے جائیں گے۔

کابینہ مشن نے چونکہ اپنے پلان میں مسلمانوں کے علیحدہ ملک پاکستان کے مطالبے کو رد کردیاتھا۔ ان تجاویز کے اعلان پرکانگریس اور ہندؤوں میں جشن کا سماں پیداہوگیا۔

اس موقع پر پنڈت نہروکے روزنامے نیشنل ہیرالڈنے لکھا کہ جناح کے نظریۂ پاکستان کوکابینہ مشن پلان میں سرکاری طورپردفن کردیاگیا ہے۔

نیشنل ہیرالڈ کی اس رائے سے تمام ہندواخبارات نے اتفاق کیا۔ انہوں نے بھرپور اندازمیں اس پراداریے اور مضامین لکھ کر قیام پاکستان کاخوب مذاق اڑایا۔

کانگرس سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ مسلم لیگ اپنے علیحدہ وطن کے مطالبے سے دستبردار ہو جائے گی اور اگر وہ اس کابینہ مشن کو تسلیم کرتی ہے توپھر اسے متحدہ ہندوستان میں ہی رہنا ہوگا جس کی باگ ڈورہندؤوں کے ہاتھ ہو گی۔ کانگریس کی سوچ کے برعکس مسلم لیگ نے باہمی مشاورت کے بعدکانگریس کو سرپرائز دیتے ہوئے کابینہ مشن کے دونوں حصوں کو تسلیم کر لیا۔

اس کے ساتھ ساتھ قائداعظم نے اس یقین محکم کا بھی اظہار کیاکہ جب تک ایک جامع ،مکمل اورخودمختار پاکستان معرض وجود میں نہیں آجاتا،مسلمانانِ ہند چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

دراصل مسلم لیگ نے کابینہ مشن کو تسلیم کرتے ہوئے یہ بات مدنظر رکھی تھی کہ چھ مسلم صوبوں کی بی اور سی گروپنگ کی شکل میں پاکستان کی بنیادمشن پلان میں موجود ہے۔

آل انڈیامسلم لیگ کی جانب سے کابینہ مشن کی منظوری نے ایک دلچسپ صورتحال پیدا کر دی۔ کانگریسی لیڈر جنہیں پلان میں پہلے پاکستان کی تدفین نظر آرہی تھی ، اب وہ اس میں پاکستان کی روح دیکھنے لگے۔

اب ہندو اخبارات نے پلٹاکھایااور چیخ چیخ کر کانگریس سے پلان کو مسترد کرنے کی دہائیاں دینے لگے۔ مدراس کے مشہور اخبار’’ہندو‘‘ نے تووہ طوفان اٹھایا جیسے پاکستان بننے کااعلان ہوچکاہو۔

اس کی ایک ہی رٹ تھی کہ کانگریس اس پلان کو مسترد کردے۔ روزنامہ امرت بازار پتریکا کلکتہ نے جوپہلے پلان کو امرت دھارا کہہ رہاتھا ،اب اس نے اسے زہر قرار دیتے ہوئے کانگریس کو تنبیہ کی کہ وہ اس زہر کو اپنے حلق میں نہ اتارے۔ ہندوستان ٹائمز نے کابینہ سکیم کی مذمت میں صفحات سیاہ کرنے شروع کردیے۔

روزنامہ ٹریبیون نے لکھاکہ مسٹرجناح نے پاکستان کی روح حاصل کرلی ہے۔ لاہور کے روزنامہ پرتاپ نے کانگرس کو اس پلان کو ٹھکرا دینے کوکہا اور لکھاکہ لیگ ان تجاویزکوکبھی منظورنہ کرتی اگرانہیں اس میں پاکستان کی جھلک نظرنہ آتی۔

اخبارویربھارت نے لکھا کہ اس حقیقت سے آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں کہ وزارتی سکیم میں ہندوستان کے ساتھ انصاف کرنے کی بجائے مسلم لیگ کوخوش کیاگیاہے۔

ہندوبنیاہونے کے ناطے کسی بھی کاروبار میں اپنے نفع ونقصان کے بارے میں مسلمانوں سے کہیں زیادہ محتاط اوردوراندیش واقعہ ہوا ہے۔ سو کانگریسی بنیا کو یہ خوف لاحق ہوگیاتھاکہ دس سال بعد کہیں مکمل پاکستان معرض وجود میں نہ آجائے اور انہیں پوراآسام، بنگال اور پنجاب نہ دینا پڑ جائے۔لہٰذا انہوں نے پلان کی دھجیاں اڑانا شروع کردیں۔

کابینہ پلان توناکام ہوگیا، لیکن بھارت کے مسلم دشمنی میں غرق میڈیا کے تمام ترہتھکنڈوں کے باوجود قائداعظم کی قیادت میں مسلمانوں نے پاکستان لے لیا۔

اب انہوں نے پھر پینترا بدلہ اور لاکھوں مسلمانوں کو پاکستان کے حصول کی قیمت پرخون میں نہلادیا۔آج بھارت کامیڈیا جس’’ میڈیا وار‘‘کے بخارمیں مبتلاہے ، قیام پاکستان کے وقت اس سے کہیں زیادہ مبتلا تھا۔اسے نہرو، پٹیل اور گاندھی جیسے رہنمامیسر تھے اور سلطنت برطانیہ ان کی دست وبازو تھی ،مگروہ پاکستان کے قیام کی راہ نہ روک سکے۔

آج کے بھارتی میڈیا کی مہار ’’را‘‘ کے ہاتھ میں ہے۔دنیا کے طاقتور ملک اس کے ساتھ ہیں مگر اسے یاد رکھناچاہیے کہ وہ پاکستان کے حجم میں اضافے کو کبھی نہ روک سکیں گے۔ان شاء اللہ۔

مزید :

رائے -کالم -