چھوٹے میاں ،سبحان اللہ!

چھوٹے میاں ،سبحان اللہ!
چھوٹے میاں ،سبحان اللہ!

  

بڑے میاں سو بڑے میاں، چھوٹے میاں سبحان اللہ، ہمارے ہنر مند وزیرخزانہ اسحاق ڈار تو تھے ہی، ان کی جگہ اب جو مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل تشریف لائے ہیں وہ ان سے بھی دوچار ہاتھ کیا، گزوں اونچے نکلے ہیں، انہوں نے نہ صرف ملکی معیشت کو مستحکم قرار دیا بلکہ یہ ارشاد بھی فرمایا ہے کہ جی ڈی پی 6فیصد پر تو آ چکی اسے دس فیصد تک لے جانا ہدف ہے۔

انہوں نے آئی ایم ایف کی حالیہ وارننگ کو بھی نظر انداز کر دیا ہے۔ سابق بلکہ رخصت پر گئے وزیرخزانہ اسحاق ڈار تو زرمبادلہ کے ذخائر پر فخر کرتے اور بڑھانے کے نت نئے طریقے اختیار کرتے رہتے تھے انہوں نے جمع پونجی میں اضافے کے لئے عالمی ایجنسیوں سے قرض لئے اور بانڈ فروخت کئے کہ زرمبادلہ کے ذخائر دکھائے جا سکیں۔

یہ الگ بات ہے کہ اب آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ پاکستان کی مالی حالت پتلی ہے اور صرف تین ماہ تک درآمدی ادائیگیاں ممکن ہیں۔

ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ قرضوں کی قسط اتارنے کے لئے مزید قرض بھی لینا ہوگا جس کے لئے ابھی تک کوئی کوشش نہیں، اسحاق ڈار تو ’’علاج‘‘ کے لئے لندن میں مقیم ہو گئے اور گم ہیں حالانکہ انہوں نے نیب ریفرنسوں کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ وہ واپس آکر پائی پائی کا حساب دیں گے، ابھی تک واپسی کی کوئی تاریخ بھی نہیں دی۔ انہوں نے عارضہ قلب ظاہر کیا اگر ملک میں ہوتے تو اب تک ڈاکٹر حضرات نے سینہ چیر کر دل کی مرمت بھی کر دی ہوتی لیکن یہاں تو ان کو ضرورت محسوس نہیں ہوئی اور بھاگے دوڑے پھرتے سخت گرمی میں بھی گرم سوٹ زیب تن کئے رہتے تھے۔

اب محترم مفتاح اسماعیل آئے ہیں تو انہوں نے بھی معیشت کے توانا اور صحت مند ہونے ہی کی بات شروع کی ہے اور خوشخبری پر خوشخبری دیئے جا رہے ہیں۔

اسی میں چھ فیصد شرح نمو بھی ہے حالانکہ محترم اسحاق ڈار 4.5 فیصد کہتے تھے اور عالمی ادارے اسے بھی زیادہ تصور کر رہے تھے۔ اب ایک طرف انہوں نے معاشی استحکام کی بات کی تو دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ ڈالر نے ایک بار پھر یکایک اڑان بھری اور گزشتہ روز تک مارکیٹ میں 119 روپے کا تھا جبکہ کہا گیا ہے کہ انٹر بینک ریٹ بھی ایک سو سولہ روپے کا ہو گیا۔ انٹربینک میں شرح ایک روپیہ بڑھی تو اوپن مارکیٹ میں یہ تین سے چار روپے تک زیادہ ہو چکی ہے۔

گزشتہ روز کرنسی کے ان نرخوں نے درمیانہ طبقہ کو وحشت زدہ کر دیا ہے کہ یہ حکومت پہلے ہی پٹرولیم کے نرخوں میں مسلسل سات ماہ سے اضافہ کرتی چلی آ رہی ہے اور 60روپے فی لیٹر والا پٹرول 80روپے سے زیادہ نرخ تک جا پہنچا ہے اور یوں اضافہ قریباً32روپے فی لیٹر ہے جو سات ماہ میں ہوا، یہ اعداد گزشتہ تین ماہ کے ہیں۔

اس سے قبل عالمی مارکیٹ میں نرخ گرتے رہے اور محترم اسحاق ڈار ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرکے یہ فائدہ صارفین تک منتقل کرنے کی بجائے، ٹیکس وصولی کی شرح بڑھانے کے لئے سرکاری خزانے کے لئے حاصل کرتے رہے۔ ان کے بعد بھی اس پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ ڈالر کے نرخ بڑھنے کی وجہ سے درآمدی بل میں اضافہ ہوگا، درآمدی اشیاء کے نرخوں میں اضافہ ہوگا اور ملک پر قرضوں کا بوجھ بھی بڑھتا چلا جائے گا۔

ان ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کی شرح میں اضافہ حیرت انگیز ہے اور یہ بھی کوئی ملی بھگت نظر آتی ہے کہ دنیا میں ایسا کوئی معاشی طوفان نہیں اٹھا کہ ڈالر یوں مہنگا ہو گیا اور یہ بھی صرف پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ہوا۔ ایسا عالمی منڈی میں نہیں ہوا ہے۔

جہاں تک ہمارے مفتاح اسماعیل کی مہارت کا تعلق ہے تو یہ اعدادوشمار ہی سے نظر آنے لگی ہے ان کو مارکیٹ کا متاثر ہونا نظر ہی نہیں آ رہا کہ اشیائے خورد و نوش اور ضرورت بھی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں اور ڈالر کی اڑان سے مزید پریشانی ہونا لازم ہے۔ اس پر ان کا فرمانا کہ اپریل کے آخری ہفتے میں دیا جانے والا وفاقی بجٹ مراعات والا ہوگا۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ سرکاری ملازمین پوچھتے ہیں کہ کیا یہ مہنگائی کے تناسب سے ہوگا یا پھر بنیادی تنخواہ پر دس فیصد پر ہی ٹرخا دیا جائے گا کہ جب سے موجودہ حکومت آئی ایسا ہی کیا جا رہا ہے یہ اپنے مشیر خزانہ تو اور بھی بڑے ’’ہنرمند‘‘ ہیں کہ ایمنسٹی سکیم سے امیدیں دلا رہے ہیں اور ان کو یقین ہے کہ جب یہ سکیم نافذ کریں گے تو جن پاکستانیوں کی رقوم ملک سے باہر اور بلیک منی ہیں وہ ان کو سفید کرنے کے لئے سرمایہ ملک میں لے آئیں گے، ان کو شاید تجربہ نہیں کہ جن لوگوں نے بیرونی ممالک میں کالا دھن (حرام کی کمائی) جمع کر رکھا ہے وہ ان سے زیادہ سیانے ہیں، کوئی بھی سرکاری ملازم رقم واپس نہیں لائے گا خواہ اسے کتنا بھی لالچ دیں کہ یہ کالا دھن حرام کی کمائی کا ہے اور واپسی پر بھید کھل جائے گا، البتہ ہمارے وہ سرمایہ دار جو منی لانڈرنگ کے ذریعے سرمایہ باہر رکھے ہوئے ہیں وہ اس سکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں کہ ان کا کالادھن معمولی ٹیکس کے عوض سفید ہو جائے گا۔ کیا خوب حکمت عملی ہے۔ اس پر تو نوبل انعام دیا جانا چاہیے۔

یوں بھی ہمارے تمام سیاست دان بھی نوبل انعام ہی کے حق دار ہیں کہ ان کو دھاندلی اور کرپشن تو نظر آتی ہے۔ عوام پر مالی بوجھ بالکل دکھائی نہیں دیتا وہ سب ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچ رہے ہیں اور ان کو محاذ آرائی ہی سے فرصت نہیں، ہم تو دعا کرتے ہیں کہ ہمارے سمیت پوری قوم پر اللہ ہی رحم کرے۔

مزید :

رائے -کالم -