حقوق نہیں فرائض کا بیانیہ

حقوق نہیں فرائض کا بیانیہ
حقوق نہیں فرائض کا بیانیہ

  

جسے دیکھو سڑکوں پر آ کر اپنا حق مانگ رہا ہے، اپنے فرض کی بات کوئی نہیں کرتا۔ اس ملک میں اب یہ بیانیہ بھی بدلنا چاہئے، حق لینے کی بات بہت ہو چکی، اب فرض ادا کرنے کی بات بھی ہونی چاہئے۔ قومیں صرف حق لینے سے نہیں بنتیں بلکہ ملک و قوم کا حق ادا کرنے سے مستحکم ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں یہ روش پچھلے 70 برسوں سے چل رہی ہے کہ حق چھین لینے کی باتیں ہوتی ہیں، ملک کا قرض ادا کرنے کی بات کوئی نہیں کرتا۔

یہ سیاست ہمیشہ خودغرضی کے گرد گھومتی رہی ہے۔ جسے دیکھو وہ اپنی محرومی کا رونا رو رہا ہے، اجتماعی محرومی کو دور کرنے کی کسی کو فکر نہیں، جبکہ ہماری محرومی ختم ہی تب ہو سکتی ہے، جب اجتماعی سطح پر محرومی دور ہو اور اجتماعی محرومی تب ہی دور ہوگی جب ہم سب اپنے حقوق کا راگ الاپنے کی بجائے ملک کے حقوق ادا کرنے کی فکر کریں گے۔

مَیں اکثر سوچتا ہوں کہ اداروں میں ٹکراؤ کس وجہ سے ہے، اصولاً تو یہ سب ایک ہی مقصد کے لئے کام کر رہے ہیں، یعنی ملک و قوم کی خوشحالی، پھر ان میں تصادم کیسا ہے، جب سارے لوگ ایک ہی سمت کو جا رہے ہوں تو ان میں مقابلہ تو ہو سکتا ہے، تصادم نہیں۔

اگر ہمارے قومی ادارے ملک و قوم کی بہتری کے لئے مقابلہ کریں تو اس سے بڑھ کر اور کوئی بات نہیں ہو سکتی مگر ان کے بارے میں تو یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے متحارب کھڑے ہیں۔ ان میں لڑائی کی صورت حال ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ ملک آگے بڑھے انہیں تو بس اپنی اپنی چودھراہٹ جمانے کی فکر ہے۔

غربت و امارت کی جس خلیج نے معاشرے کو تقسیم کر رکھا ہے، اسے پاٹنے کی کبھی کوشش نہیں کی گئی۔ ایک فلاحی ریاست میں حقوق کی تقسیم ویسی نہیں ہوتی جیسی ہمارے ہاں ہے کہ ایک طرف نان جویں کو ترسنے والے کروڑوں پاکستانی ہیں اور دوسری طرف چند فیصد مراعات یافتہ اشرافیہ، یہی تفاوت ہمیں اس الجھن میں ڈالے ہوئے ہے کہ ہمیں حقوق نہیں مل رہے۔

حالانکہ ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ کیا ہماری ریاست کو وہ حقوق ملے ہیں، جو اس کا حق ہیں، جب ریاست کو ہی ہم نے بھلا رکھا ہے اور ہر کوئی اپنی من مانی پر تلا ہوا ہے تو صورت حال کیسے بہتر ہو سکتی ہے۔

نوازشریف کی وجہ سے آج کل عوام کے حقوق کا نعرہ بہت گرم ہے مگر کوئی نہیں سوچتا کہ نوازشریف کے اپنے ادوار میں عام آدمی کو کتنے حقوق ملے۔

ووٹ کی عزت کے فرسودہ نعرے سے عام آدمی کو بے وقوف بنانے کی مہم بذات خود اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ نوازشریف آج جس حق کا نعرہ لگا رہے ہیں وہ تو کبھی عوام کو ملا ہی نہیں، عوام تو ووٹ ڈال کر اپنا فرض پورا کرتے آئے ہیں، مگر ان کے ووٹ کی کتنی تکریم کی گئی، کبھی دھاندلی کے ذریعے اور کبھی منتخب ہونے کے بعد ان کی طرف مڑ کے نہ دیکھنے کی روش نے ان کے حق پر ہمیشہ ڈاکہ ڈالا۔

عوام کے یہ بات سن سن کر کان پک گئے ہیں کہ ان کے بھی کچھ حقوق ہیں۔ انہیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ریاست کے بھی کچھ حقوق ہیں جنہیں دیا جانا ضروری ہے، اچھا شہری بن کر قانون کی عملداری تسلیم کرکے اور دوسروں کو ان کا حق دے کر ہم ریاست کے حقوق ادا کر سکتے ہیں، جب ہم یہ حقوق ادا کر دیں گے تو ریاست ہمیں ہمارے حقوق لوٹائے گی۔ یہاں تو ہم یکطرفہ ٹریفک چلا رہے ہیں۔ قانون شکنی کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور ریاستی اداروں کو بے توقیر کرنا ہمیں اچھا لگتا ہے۔

ہماری سیاسی اشرافیہ ابھی تک اس مخمصے سے نہیں نکل سکی کہ وہ اہم ہے یا فوج اور عدلیہ زیادہ طاقتور ہے جس ملک میں ذرا ذرا سی بات پر یہ بیان بازی شروع ہو جاتی ہے کہ ادارے پارلیمینٹ کے کام میں مداخلت کر رہے ہیں، وہاں جمہوریت یا نظام کیسے مضبوط ہو سکتا ہے۔

اس حقیقت کو تسلیم کیوں نہیں کر لیا جاتا کہ کوئی ایک ادارہ پاکستان کے حالات ٹھیک نہیں کر سکتا، سب کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔ ہر ریاستی ادارہ اپنی علیحدہ ڈفلی کیوں بجا رہا ہے۔ کھینچا تانی کیوں کر رہا ہے، کیا یہ سب کچھ صوابدیدی اختیارات کے تحت کیا جا سکتا ہے۔

کیا ہم سرزمین بے آئین ہیں کہ جس کی جو مرضی آئے کر لے یا ہم ایک متفقہ آئین کے مالک ہیں اور سب کے حقوق و فرائض کا آئین میں تعین کر دیا گیا ہے۔

خفیہ ہاتھوں کی تھیوری پر ہم آج تک قابو نہیں پا سکے۔ آخر اس کی ضرورت کیوں پڑتی ہے اور گنجائش کیسے نکلتی ہے۔ یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ حق پارلیمینٹ کا تھا استعمال کسی اور نے کیا۔ اس کی راہ کیسے نکل آتی ہے۔

سڑکوں پر تو صرف سیاست دان نکل سکتے ہیں، ججز یا جرنیل تو نہیں آ سکتے پھر یہ کیا تصادم ہے جو ایک فریق کے منظر سے غائب ہونے اور دوسرے کے میدان میں کھڑے رہنے سے جاری رہتا ہے۔

زمانہ قیامت کی چال چل رہا ہے اور ہم ایک دوجے کے ساتھ قیامت کی چال چلنے میں لگے ہوئے ہیں، چین میں صدر کو تاحیات منتخب کر لیا جاتا ہے اور روس میں پیوٹن چوتھی بار منتخب ہو جاتے ہیں۔

بڑے ممالک یہ سمجھ گئے ہیں کہ انہیں سیاسی استحکام چاہئے۔ استحکام ہوگا تو ہر مسئلے کا حل نکل آئے گا۔ ہم استحکام کی طرف تو آتے نہیں، ہم تو اداروں کے درمیان اختیارات کی کھینچا تانی میں الجھے ہوئے ہیں۔ ایک ایسی چوں چوں کا مربہ جمہوریت ہمارا نصیب بن گئی ہے کہ جس میں سب کچھ ہے، سیاسی استحکام نہیں۔

خودرو پودوں کی طرح ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں ابھر آتی ہیں اور مذہبی بنیادوں پر تشکیل پانے والے گروپ بھی سیاسی جماعت کا لبادہ اوڑھ کر میدان میں کود پڑتے ہیں، دنیا بھر کی مضبوط جمہوریتوں میں دو یا تین سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں۔ یہاں ڈیڑھ دو سو ہماری جماعتیں رجسٹرڈ ہیں پھر ہم نے آئین میں آزاد امیدواروں کو بھی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔

وہ کیا گل کھلاتے ہیں، اس کا اندازہ حالیہ سینیٹ کے انتخابات میں ہو چکا ہے۔ یہ من مانے فیصلے آخر کس مستحکم جمہوریت میں ممکن ہیں اور یہ بھی ممکن نہیں کہ کل تک سیاست سے نابلد شخص آج چیئرمین سینیٹ بن جائے۔

پاکستان کے ہر فرد ہر ادارے کو سب باتیں چھوڑ کر پاکستان کی بھلائی، استحکام اور خوشحالی کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ یہ پاور گیم ملک کے لئے زہر قاتل ہے، کوئی طاقتور یا کمزور نہیں بلکہ سب کو اپنی اپنی جگہ اہمیت حاصل ہے۔

فوج اور عدلیہ کو حدود میں رہ کر کام کرنا چاہئے۔ اس میں دو رائے نہیں ہو سکتیں مگر سیاسی قوتیں ایسا خلا چھوڑتی ہی کیوں ہیں کہ کوئی دوسرا ریاستی ادارہ ان کی جگہ لے لے۔

فوج کو کیوں لگتا ہے کہ سیاسی قیادت ملک کے لئے اچھے فیصلے نہیں کر رہی اور وہ درمیان میں کود پڑتی ہے۔ کبھی ٹویٹ اور کبھی تقریر کے ذریعے یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ سب اچھا نہیں۔

اس پر غور کرنے میں کیا حرج ہے، پچھلے دنوں جب چیف آف آرمی سٹاف نے معیشت کے بارے میں بیان دیا تھا تو حکومت نے بہت برا منایا تھا۔ اس میں برا منانے والی کوئی بات نہیں تھی۔

قومی بجٹ کا ایک بڑا حصہ استعمال کرنے والا ادارہ تشویش کا اظہار تو کر ہی سکتا ہے لیکن اسے عملاً مداخلت کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ اصولی بات ہے، اسی طرح چیف جسٹس کو آئین یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پر از خود نوٹس لے سکتے ہیں، اسے بھی حقوق و فرائض کی جنگ میں تبدیل نہیں ہونا چاہئے۔

عام حالات میں تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کوئی اگر ہمارے کام میں ہاتھ بٹاتا ہے تو ہم اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں لیکن سیاست کے معاملے میں یہ بات معیوب سمجھی جاتی ہے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے صوبوں کے حالات کی جو خبر گیری کی ہے اور صحت و تعلیم کے شعبوں میں زوال پذیری کو تلاش کرکے اصلاح احوال کے لئے ہدایات جاری کی ہیں تو اسے چور کی داڑھی میں تنکا والی مثال کے تناظر میں کیوں دیکھا جاتا ہے، اگر گڈ گورننس حکمرانوں کا مقصد ہے تو انہیں چیف جسٹس کے دوروں پر خوش ہونا چاہئے کہ ان کی وجہ سے بری گورننس کے حقائق سامنے آ رہے ہیں، جن کے حل پر توجہ دے کر حالات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

مَیں نے شروع میں جو بات کہی تھی وہی آج کی ضرورت ہے یعنی بحیثیت قوم ہمیں حق مانگنے کی بجائے فرض ادا کرنے کا بیانیہ اختیار کرنا چاہئے۔

فرد سے لے کر جماعت تک، چھوٹے ادارے سے لے کر بڑے ادارے تک اپنا فرض ادا کرنے کی سوچ پیدا ہونی چاہئے۔ ایک بار خود احتسابی کے تحت یہ لہر چل پڑے تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ہم بحران سے نکل آئیں گے اور ایک مستحکم جمہوریت کے ساتھ ساتھ مستحکم نظام کی منزل بھی حاصل کر لیں گے۔

اب ظاہر ہے معاملہ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کا ہے۔ اس بیانیے کو آگے بڑھانے کے لئے پہل کون کرے، سیاستدان، جرنیل یا پھر ججز؟۔ میرے خیال میں اس کا آغاز سیاست دانوں کو کرنا چاہئے۔

بے پناہ اختیارات یا آزادی مانگنے کی بجائے اپنی خرابیوں کو دور کرکے قومی اداروں کو استحکام بخشنے کی پالیسی اختیار کرنی چاہئے۔ اس عمل سے پارلیمینٹ اور سیاست دانوں کا پلڑا خود بخود بھاری ہو جائے گا اور جمہوریت حقیقی معنوں میں ایک طاقت بن کر ابھرے گی۔

مزید :

رائے -کالم -