جس روح نے آنا ہے وہ آکر رہے گی!

جس روح نے آنا ہے وہ آکر رہے گی!
جس روح نے آنا ہے وہ آکر رہے گی!

  

دو روز پہلے ایک برطانوی سائنس دان اور فلاسفر، اسٹیفن ہاکنگ پر میرا کالم شائع ہوا تو کئی دوستوں نے فون کرکے کہا کہ یہ ایک اچھی اور معلوماتی تحریر تھی۔ لیکن بعض احباب نے حیرانی ظاہر کی کہ اتنے طویل عرصے تک اس طرح کے جسمانی عوارض کا شکار رہنے والا اگر 76برس تک کی عمر میں بھی لکھنے پڑھنے پر قادر رہتا ہے تو اس کو تو خدا پر یقینِ کامل ہونا چاہیے تھا چہ جائیکہ وہ خدا کا منکر تھا اور اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ لوگ اس طرح کے ناشکرے کو تعریف و توصیف کے ترازو میں کیوں تولتے رہے اور کئی حکومتوں نے اس کو مختلف اعزازات کا مستحق کیوں گردانا۔ بعض بے تکلف دوستوں نے تو الٹا مجھ سے باز پرس شروع کر دی کہ آپ بقائمی ہوش و حواس اس طرح کے ملحدوں اور مطعونوں پر اپنا وقت کیوں ضائع کرتے ہیں۔ یہ تو آپ کے ایمان کی کمزوری ہے، آئندہ احتیاط کریں اور ایسے منکرینِ ذات باری پر قلم اٹھانے سے گریز کیا کریں!

میں اپنے ان کرم فرماؤں کے حسنِ تنقید کا اقرار کرتا ہوں اور ان کے پندہائے سود مند کے لئے تہہ دل سے ان کا ’’ابھاری‘‘ ہوں۔ لیکن اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ ایک اور زاویہء نگاہ سے دیکھا جائے تو ہاکنگ خدا کے وجود کا منکر نہیں تھا۔ اس کا عقیدہ تھا کہ خدا کوئی نہیں۔ یہ دنیا اور کائنات خودبخود تخلیق ہوئی اور ہو رہی ہے۔

وہ خدا کی بجائے اس ’’یونیورس‘‘ کا قائل تھا۔ دوسرے لفظوں میں وہ خالقِ کائنات کو خدا نہیں بلکہ یونیورس کو خدا سمجھتا تھا۔مطلب یہ ہے کہ اس کا کوئی معبود تو تھا اگرچہ اس کا نام اس نے God نہیں یونیورس رکھ لیا تھا۔

ہم چونکہ یونیورس کو خالق نہیں مخلوق گردانتے ہیں اس لئے ہمارا خدا ہاکنگ کے خدا سے زیادہ بڑا اور عظیم ہے۔ اور میں تو اس سے آگے نکل کر سمجھتا ہوں کہ ہم جس خدا کو خدا مانتے ہیں، وہ خدا نہیں ہے۔ اصل اور اورجنل خدا شائد ہمارے اس خدا سے بھی عظیم ہو!۔۔۔ مجھے ایک شاعر کا قطعہ یاد آ رہا ہے، وہ کہتا ہے:

فقیہاں دفترے رامی پرستند

حرم جویاں درے رامی پرستند

برافگن پردہ تا معلوم گردد

کہ یاراں دیگرے رامی پرستند

[علمِ فقہ کو ماننے والے دفتروں اور کتابوں کے حوالے دیتے ہیں اور گویا ان کو خدا مانتے ہیں۔اور جو لوگ مسجدوں میں جا کر ماتھا رگڑتے اور عبادتیں کرتے ہیں وہ گویا ایک آستانے کی پرستش کرتے ہیں۔۔۔ اے خدا تو اپنے چہرے سے ایک بار نقاب تو اتار دے تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ وہ جس خدا کو خدا سمجھ کر پوجتے رہے وہ تو کوئی اور ہی تھا۔]

حقیقت بھی یہی ہے کہ خدا کی ذات اس کی مخلوق کے ذہن میں نہیں سما سکتی اسی لئے انسان اقرار کرتا ہے کہ : ’’اے برترازخیال و قیاس و گمانِ ما‘‘ ۔۔۔ ہاکنگ نے یونیورس کو اگر خالق مان لیا ہے تو یہ اس کا عقیدہ ہے۔ مادے کے مظاہرات کو ماننے والا وہ اکیلا تو نہیں۔ فارسی زبان کے ایک اور شعر نے بھی خالقِ کائنات کی عظمت اور کبریائی کا اظہار ایک اور نرالے انداز میں کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مسلمان زاہد، پتھر کے بتوں کو پوجنے والے برہمن سے بھی بڑا کافر ہے کیونکہ زاہد کے سر میں بت چھپا ہوا ہے، آستیں میں نہیں (جبکہ برہمن کی بغل میں اصنام دبائے ہوتے ہیں)۔۔۔ شعر یہ ہے:

کافر تراست زاہد از برہمن، ولیکن

او را بُت درسر، درآستیں ندارد

میں ایک مدت سے یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان جیسے مسلم یا غیر مسلم معاشروں کی پسماندگی کی وجوہات اور بھی ہوں گی لیکن سب سے بڑی وجہ ہم پاکستانیوں کا یہ یقین ہے کہ ’’خدا ہر چیز پر قادر ہے‘‘۔۔۔ وہ قرآن کریم کی اس آیہ ء مقدسہ کا حوالہ دیتے ہیں کہ ’’ان اللہ علیٰ کل شیء قدیر‘‘ اللہ کریم کی ہمہ جہت اور ہمہ وقت کبریائی شامل ہے۔ یہ آیہ کئی بار قرآن حکیم میں دہرائی گئی ہے۔ اور ساتھ ہی اس پر بھی ہمارا یقینِ کامل ہے کہ اللہ نے جس ذی روح کو پیدا کیا ہے، وہی اس کے راشن پانی کا کفیل بھی ہے۔

میں جب اپنے گاؤں میں جاتا ہوں تو میرے سارے گرائیں اس عقیدے پر سختی سے ایمان رکھتے ہیں۔ چنانچہ ہر غریب اور نادار گھر میں بچوں کی کم سے کم تعداد 8ہے۔1947ء میں جب پاکستان وجود میں آیا تھا تو اس کی کل آبادی ساڑھے تین کروڑ تھی۔ گزشتہ ستر برسوں میں جو مردم شماریاں ہوتی رہی ہیں، ان کے نتائج دیکھ لیجئے۔ ہر دس برس بعد ہماری آبادی بڑھ کر کہاں سے کہاں پہنچ رہی ہے۔ میرا ایک سوال بہت سادہ سا ہے جو میں اپنے گاؤں کے مولوی صاحب سے اکثر کیا کرتا ہوں کہ آپ جب جمعہ کی نماز پڑھتے ہیں تو افزائشِ آبادی کے موضوع پر کبھی لب کشائی نہیں کرتے۔۔۔ کیوںَ۔۔۔ وہ مسکرا کر جواب دیتے ہیں کہ :’’جیلانی صاحب! آپ میری روزی روٹی کے پیچھے کیوں پڑے ہیں؟ کیا ہم سب مسلمان نہیں؟ کیا قران کو نہیں مانتے؟ کیا قران میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ اللہ جس کو چاہتا ہے بغیر حساب رزق سے نوازتا ہببے؟ کیا قران مجید، فرقانِ حمید میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ اے مسلمانو! اپنی اولاد کو روٹی کے خوف سے قتل نہ کرو؟ اگر میں لوگوں کو مسجد کی چار دیواری میں بیٹھ کر یہ سمجھانے بیٹھ جاؤں کہ زیادہ بچے پیدا نہ کرو اور بچے دو ہی اچھے ہوتے ہیں تو کیا فرمانِ پروردگار کی نفی نہیں کروں گا؟ آپ جیلانی صاحب! یہ بتایئے کہ کل میں جب خدا کے حضور پیش ہوں گا اور اگر وہ یہ پوچھے گا کہ تم کو تو نمازوں کی امامت کروانے پر مقرر کیا گیا تھا لیکن تم نے میرے احکام کے خلاف میرے بندوں کو برتھ کنٹرول کا درس کیوں دیا؟‘‘

اس کے بعد وہ مولوی صاحب اس شد و مد سے میری برین واشنگ کرتے ہیں کہ میں اپنے ان دلائل کو بھول جانا چاہتا ہوں جو میں احباب کی محفلوں میں اکثر دیا کرتا ہوں لگے ہاتھوں وہ دلائل بھی دیکھ لیجئے:

1۔ ہم پاکستانی جس تعداد میں بچے پیدا کر رہے ہیں، کیا اس تعداد میں اساتذہ بھی پیدا کر رہے ہیں؟

2۔کیا استادوں اور شاگردوں کی تعداد کے درمیان ایک ریشو (تناسب) نہیں ہوتا؟۔۔۔ کیا آج سے 30،40 سال پہلے ہمارے سکولوں میں بچوں کی تعداد وہی تھی جو آج ہے؟۔۔۔ اور کیا سکول/ کالج/ یونیورسٹیوں میں ٹیچر، سٹوڈنٹ تناسب (Ratio)وہی ہے جو پاکستان کے بہترین دور میں تھا؟

3۔ کیا یورپ کے درجنوں ممالک میں بھی افزائشِ آبادی کی رفتار وہی ہے جو ہمارے ہاں ہے؟ کیا جو تناسب ہمارے ہاں ڈاکٹر اور مریض کا ہے ترقی یافتہ ممالک میں بھی وہی ہے؟

4۔ کیا ہمارے سینکڑوں مکاتب فی المساجد میں جو طلبا، دینِ اسلام کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان میں کوئی سائنسدان، موجد، انجینئر، ڈاکٹر، یونیورسٹی پروفیسر اور کالج لیکچرار وغیرہ بھی بن کر نکلتا ہے یا امام مسجد، قاری، حافظ، نعت خواں اور مذہبی/ سیاسی جلسوں میں تقریریں کرنے سے آگے نہیں بڑھتا؟

5۔ کیا حکومت یہ نہیں سمجھتی کہ اس صورتِ حال کا اصل منبع پاکستان کی کثیر اور مفلوک الحال آبادی ہے؟

6۔ کیا یورپی ممالک، امریکہ، کینڈا، آسٹریلیا یا جاپان وغیرہ میں افزائشِ آبادی کی شرح وہی ہے جو پاکستان میں ہے۔

7۔کیا چین کی آبادی جو 1948ء میں تھی اور جو آج ہے اس میں اضافے کی رفتار اور شرح وہی ہے جو ہمارے وطن عزیز پاکستان میں ہے؟ کیا وہاں کوئی عبادت گاہ نہیں؟ کیا چین نے آبادی کو کنٹرول کرنے میں جو سخت اقدامات اٹھائے ہیں ان کا کوئی فائدہ بھی چینیوں کو ہوا ہے؟ اگر ہوا ہے تو پھر پاکستانی کیوں اندھے بنے ہوئے ہیں؟

8۔ کیا ماہرین معاشیات اس شرحِ آبادی کو سپورٹ کرتے ہیں جو پاکستان میں ’’رائج‘‘ ہے؟ ان کے اندازے کیا ہیں اور وہ مستقبل میں اس بے تحاشا انبوہ کو کیا ’’خوشخبریاں‘‘ سناتے ہیں؟

9۔ کیا پاکستان آبادی میں جاری شرح اضافہ کے ساتھ آنے والے برسوں میں کسی سماجی تعمیر و ترقی کی کوئی امید رکھتا ہے؟

قارئین گرامی!اسی طرح کے بے شمار سوالات ہیں جن پر ہم نے من حیث القوم غور نہیں کیا۔ ہماری قومی نمو اور نشوونما کی ترجیحات دوسری ہیں۔

ہم نے محکمہ بہبود آبادی تو قائم کر رکھا ہے اس کی سالانہ رپورٹیں بھی منظر عام پر آتی رہتی ہیں اور یہ محکمہ اپنے عملے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس کے تسلسل اور تشہیر کا سامان بھی کرتا رہتا ہے لیکن گزشتہ برس جو مردم شماری کی گئی کیا اس کے نتائج اور اہداف وہی تھے جن کو ہم اپنے پنج سالہ یا دہ سالہ منصوبوں وغیرہ میں بیان کرتے آ رہے ہیں؟

۔۔۔ میرا خیال ہے پاکستان کو اس موضوع پر بڑی سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ میں نے کبھی نہیں سنا کہ کسی قومی سطح کے لیڈر نے اپنے سیاسی منشور میں اس مسئلے پر بھی کوئی تقریر کی ہو یا کبھی کوئی سیمینار منعقد کیا یا کرایا ہو۔

آج کی ایک حوصلہ شکن خبر یہ بھی تھی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر گھٹ گئی ہے اور اس کے نتیجے میں مہنگائی کا طوفان آنے والا ہے۔

روز مرہ کی اشیائے صرف کمیاب ہو کر زیادہ مہنگی ہو جائیں گی۔ وہ جنگ جسے ’’پانچویں یا چھٹی نسل‘‘ کی جنگ کا نام دیا جاتا ہے۔ آج کے میدانِ جنگ میں ٹینک، توپیں اور طیارے استعمال نہیں ہوتے، اقتصادی گداگری کو آخری مقصود قرار دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی گڑ سے مر جائے تو اسے زہر کیوں دیں۔ اقتصادی موت گویا، ’’گڑ کی موت‘‘ ہے اس لئے زہر (ہتھیاروں کی جنگ) کی ضرورت نہیں۔

اگر آپ اس کساد بازاری کی وجوہات کا منبع کسی اور جگہ تلاش کریں تو اس میں بھی کوئی شک نہیں ہوگا۔ لیکن آبادی کی بے دریغ کثرت بھی ایک بڑا منبع ہے اس طرف دھیان دیجئے۔

مزید :

رائے -کالم -