مقامی ایل پی جی انڈسٹری کو تباہی سے بچانے کے لیے ریسکیو پلان پر عمل کیا جائے: فاروق افتخار

مقامی ایل پی جی انڈسٹری کو تباہی سے بچانے کے لیے ریسکیو پلان پر عمل کیا جائے: ...

  

لاہور(کامرس رپورٹر) ایل پی جی ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین فاروق افتخار نے ایسوسی ایشن کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقامی ایل پی جی انڈسٹری کو بربادی سے بچانے کے لیے ریسکیو پلان دے، غیر مستحکم اور غیر موافق پالیسیوں نے مقامی ایل پی جی انڈسٹری کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے جو لاکھوں افراد کے روزگار اور حکومت کے محاصل کا اہم ذریعہ ہے۔ فاروق افتخار نے کہا کہ حکومتی پالیسیاں ایل پی جی کی درآمد اور سمگلنگ کی حوصلہ افزائی کررہی ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف مقامی ایل پی جی پروڈیوسرز بلکہ قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی گھٹیا معیار کی خطرناک ایل پی جی سستے داموں فروخت ہورہی ہے جس کی قیمت بہترین معیار کی مقامی ایل پی جی کی نسبت دس ہزار روپے فی میٹرک ٹن کم ہے، اس کی وجہ سے انسانی صحت اور ماحولیات پر انتہائی بْرے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کی وجہ سے مقامی ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھاری نقصان کا سامنا ہے اور منافع تو ایک طرف انہیں اپنی بنیادی کاسٹ بھی وصول نہیں ہوپارہی ہے۔ فاروق افتخار نے کہا کہ اس وقت 155ایل پی جی کمپنیاں مارکیٹنگ کمپنیاں پاکستان میں کام کررہی ہیں، مارکیٹنگ کمپنیوں کو جو کوٹہ الاٹ کیا گیا ہے وہ انہیں ہر حال میں اٹھانا پڑتا ہے خواہ انہیں جتنا بھی نقصان ہو۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ گھٹیا معیار کی خطرناک ایل پی جی کی ملک میں سیلاب کی طرح آمد روکے۔ انہوں نے کہا کہ تافتان، چمن اور مند وغیرہ سے ایل پی جی بڑی مقدار میں سمگل ہوکر ملک میں آرہی ہے جس سے قومی خزانے اور مقامی ایل پی جی انڈسٹری دونوں کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقامی ایل پی جی انڈسٹری کو بچانے کے لیے اقدامات نہ اٹھائے گئے تو یہ بالکل تباہ ہوجائے گی جس کا نتیجہ بڑے پیمانے پر بے روزگاری اور حکومتی آمدن میں کمی کی صورت میں برآمد ہوگا۔

مزید :

کامرس -