ربلڈرز اور ڈیویلپرز کو ہراساں کرنے کا سلسلہ روکا جائے، زاہد لطیف خان

ربلڈرز اور ڈیویلپرز کو ہراساں کرنے کا سلسلہ روکا جائے، زاہد لطیف خان

  

اولپنڈی (کامرس ڈیسک)راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے صدر زاہد لطیف خان نے وفاقی حکومت، امور خزانہ کے وزیر مملکت رانا محمد افضل، مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور ایف بی آر چیئر مین سے کہا ہے کہ ٹیکسوں کی وصولی اور ٹیکس نیٹ بڑھانے کی آڑ میں بلڈرز اور ڈیویلپرز کو ہراساں کرنے کا سلسلہ روکا جائے، انہوں نے کہا ٹیکس اتھارٹیز کی جانب سے تعمیراتی منصوبوں میں دکانیں اور فلیٹ خریدنے والوں کی تفصیلات مانگنے کے لیے بلڈرز اور ڈیویلپرزکو نوٹسز جاری کیئے گئے ہیں راولپنڈی چیمبر میں تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے صدر چیمبر نے کہا کہ تعمیراتی شعبہ زراعت کے بعد ملک میں سب سے زیادہ روزگار پیدار کرتا ہے اور سو سے زاہد دیگر صنعتوں کی ترقی بھی اسی شعبے کے ساتھ وابستہ ہے انہوں نے کہا کہ ان نوٹسز کا مقصد صرف اور صرف بلڈرز اور ڈیویلپرز کو ہراساں کرنا ہے انہوں نے کہا کہ جائیدادوں کی منتقلی کے وقت تمام تفصیلات ایف بی آر کو مہیا کی جاتی ہیں نیز بلڈرز اور ڈیویلپرز پراپرٹی کی لیز، رجسٹریشن کی مد میں گین ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس بھی وصول کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ دینا بھر میں معاشی ترقی کے لیے تعمیراتی شعبے کو مراعات دی جاتی ہیں ۔

صدر زاہد لطیف خان نے کہا کہ ایسے اقدامات سے سرمایا کار رئیل اسٹیٹ شعبے میں سرمایا کاری محدود کر دے گا جس کے نتیجے میں خدشہ ہے کہ تعمیراتی صنعت تباہی سے دوچار ہو گی ۔انہوں نے کہا متعلقہ حکام اس معاملے کا فوری نوٹس لیں پاکستان میں پہلے ہی غیر ملکی سرمایا کاری گراوٹ کا شکار ہے ایسے اقدامات سے قومی معشیت کو نقصان پہنچے گا انہوں نے کہا کہ تاجر برادری ٹیکسوں کے خلاف نہیں ہے تاہم ٹیکس وصولی اور ٹیکس نیٹ بڑھانے کے نام پر انہیں ہراساں نہ کیا جائے۔

مزید :

کامرس -