وزیر آباد کارڈیالوجی کو مکمل طور پر فعال کر کے انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں

وزیر آباد کارڈیالوجی کو مکمل طور پر فعال کر کے انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں

  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر عابد غوری چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے عہدے پر تعینات ہیں 1991میں رولر ہیلتھ سنٹر کنجاہ میں بطور میڈیکل آفیسر بھرتی ہوئے بعد ازاں انہوں نے ماسٹر آ ف پبلک ہیلتھ میں ماسٹر ڈگری حاصل کی میجر شبیر شریف ہسپتال کنجاہ کے پہلے میڈیکل سپرٹینڈنٹ مقرر ہوئے 2016میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر گجرات بعد ازاں چیف ایگزیکٹو آفیسر محکمہ صحت کے فرائض منصبی ادا کر رہے ہیں محکمہ صحت کیلئے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ڈاکٹروں اور مریضوں کے مسائل حل کرنے میں ہمہ وقت مشغول رہتے ہیں مخیر حضرات کے تعاون سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال گجرات میں کروڑوں روپے کی لاگت سے برن یونٹ اور ٹراما سنٹر بنوانے میں انکا کردار نمایاں ہے روزنامہ پاکستان کیلئے ایک خصوصی انٹریو کا اہتمام کیا گیا جو قارئین کی نظر ہے ۔

گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے ڈاکٹر عابد غوری نے کہا کہ وزیر آباد کارڈیالوجی ہسپتال کو اگر مکمل طور پر فعال بنا دیا جائے تو پنجاب میں قائم دو دل کے امراض کے ہسپتالوں پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے اس وقت راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ‘ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی قائم ہیں جہاں پر بے پناہ رش کی وجہ سے لوگوں کو فوری طور پر اس موذی اور خوفناک مرض سے نجات دلانی مشکل ہو جاتی ہے عوامی شکایات اپنے عروج کو پہنچ گئی ہیں چند یوم قبل چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا دورہ کیا اور لوگوں کی شکایات سنیں وزیر آباد میں قائم کارڈیالوجی ہسپتال کو اگر مکمل طور پر فعال بنا دیا جائے تو راولپنڈی سے لاہورکے علاوہ آزاد کشمیر ‘ چکوال ‘ اور سرگودھا کے علاوہ درجنوں شہروں اور دیہات کے عوام استفادہ حاصل کر سکتے ہیں جہلم میں پرائیویٹ سیکٹر کے زیر انتظام ایک کارڈیالوجی ہسپتال کام کر رہا ہے مگر سرکاری سطح پر پنجاب میں صرف دو ہی کارڈیالوجی ہسپتال مکمل طور پر فعال ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دل کا دورہ اچانک پڑنے سے روزانہ سینکڑوں افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں دیگر موذی امراض کا تو کسی حد تک پتہ چل سکتا ہے مگر دل کے مریض کو اچانک اٹیک ہونے سے جان کے لالے بھی پڑ جاتے ہیں موجودہ حکومت کی محکمہ صحت کیلئے گراں قدر خدمات ہیں ہسپتالوں کو کروڑوں روپے کے فنڈز اور صوبائی سطح پر معیاری ادویات کی فراہمی جاری ہے دن بدن محکمہ صحت کے فنڈز میں اضافہ کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ جس طرح موذی امراض میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اسی طرح شہری علاقوں کے عوام فاسٹ فوڈ ‘ مشروبات کے بے جا استعما ل ‘ اور سیگریٹ نوشی کی وجہ سے اس خاموشی اور جان لیوا مرض کا شکار ہو رہے ہیں دیہاتی علاقوں کے لوگ چونکہ گھرسے کھانا کھانے کے علاوہ محنت کش بھی ہیں اس لیے وہ دل کے امراض کا شکا رنہیں ہوتے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یورپ اور امریکہ میں دل کے مریض سب سے زیادہ ہیں جوں جوں فاسٹ فوڈ گھریلو کھانے کی جگہ لے رہا ہے اسی تیزی کے ساتھ لوگ اسکا شکار ہو رہے ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر میں عطائیت کے خلاف محکمہ صحت بھر پور کاروائی کر رہا ہے مگر عوام کو بھی چاہیے کہ وہ کسی مستند ڈاکٹر کی بجائے ان عطائی ڈاکٹروں کے کلینک کا رخ نہ کریں جعلی کلینک لیبارٹریوں کے خلاف بھی آپریشن جاری ہے مگر یہ ڈاکٹرز حضرات کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا نام کسی عطائی ڈاکٹر کو استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں ہیلتھ کیئر کمیشن پنجاب نے 2010میں ان عطائی اور جعلی کلینک لیبارٹریوں کے خلاف ایک ایکٹ منظور کیا تھا جس پر عمل درآمد کی ضرورت ہے مارکیٹ سے جعلی ادویات کی شکایات ختم ہو رہی ہیں جس کا تمام تر سہرا موجودہ حکومت کے سر ہے جس نے اب ہسپتالوں میں ایسی مہنگی ادویات بھی مفت مہیا کر دی ہیں جو عام آدمی مارکیٹ سے خرید نہیں سکتا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کیمونٹی میں بھی کالی بھیڑیں موجود ہیں جو مسیحا نہیں بلکہ قصائی ہیں انہیں اگر خداوند کریم نے انسانیت کی خدمت کے لیے چنا ہے تو وہ ایمانداری کے ساتھ مریضوں کی خدمت کریں نبی کریمﷺ نے مریض کی تیمارداری کو بھی ثواب قرار دیا ہے تو پھر مریض کا علاج کرنے والے کے مقام کا اندازہ لگانا مشکل نہیں دنیا ایک عارضی مقام ہے ہمیں آخرت کی تیاری کرنی چاہیے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہر ڈاکٹر کی فیس علیحدہ علیحدہ ہے چاہیے تو یہ تھا کہ کسی کے تجربے اور ڈگریوں کے حوالے سے یکساں فارمولہ اپنایا جاتا کوئی پانچ سو لیتا ہے تو کوئی پانچ ہزار ‘ پاکستان میں ہسپتال آباد اور پارک ویران ہوتے جا رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ ناقص اشیائے خوردو نوش اور تیزی کے ساتھ تباہ ہوا ماحول سرفہرست ہیں ملاوٹ شدہ دودھ اور خوراک انسانی صحت کو بری طرح تباہ کر رہی ہے پینے کے لیے صاف پانی کی فراہمی اشد ضروری ہے مگر لوگ ناقص پانی کے استعمال پر مجبور ہیں اکیلے حکومت ان تمام مسائل سے نمٹ نہیں سکتی ہمیں سب کو اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہونگی ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ ڈاکٹروں کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے پی ایم اے اور وائے ڈی اے ‘ کی تنظیمیں موجود ہیں اور ان کے جائز مطالبات انتظامیہ اور حکومت فوری طور پر حل کر دیتی ہے مگر بعض اوقات ایسے ایسے مطالبات بھی کیے جاتے ہیں جنہیں پورا کرنا حکومت یا اتھارٹی کے بس میں نہیں ڈاکٹر حضرات بھرتی ہوتے وقت تمام تر وسائل اور سفارشات کو استعمال کرتے ہیں مگر جب وہ بھرتی ہو جاتے ہیں تو ان میں سے بعض سیاست میں دلچسپی لینا شروع کر دیتے ہیں ہڑتال کسی بھی صورت ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کے شایان شان نہیں کیونکہ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی ہڑتال کا خمیازہ براہ راست مریضوں کو بھگتنا پڑتا ہے اگر ان کی ہڑتال کی وجہ سے کسی کی جان چلی جائے تو اسکی ذمہ داری بھی ہماری کیمونٹی ہوتی ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کی کمی پوری کرنے کے لیے واک ان انٹر ویو کے بعد بھرتی کر لی جاتی ہے اور کچھ عرصہ سے ڈاکٹروں کی بھاری تعداد کو سرکاری ملازمتیں دی گئی ہیں مگر فارماسسٹ کو بھی واک ان انٹر ویو کے ذریعے بھرتی کر کے ان کی ہسپتالوں میں کمی پوری کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اس وقت فارما سسٹ ‘ پارٹ آف میڈیکل سٹور ‘ اور ادویات بنانے والی فیکٹریوں کا حصہ تصور کیے جاتے ہیں جتنے ڈاکٹرز میڈیکل کالجز سے بن کر نکلتے ہیں اتنے ہی فارما سسٹ بھی بن کر آ رہے ہیں مگر بدقسمتی سے پانچ سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ بیروزگار بھی ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد کے حوالے سے فارما سسٹ کو بھرتی کیا جائے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت گجرات کے سیلری ملازمین کیلئے 120کروڑ تنخواہ ادا کی جا رہی ہے جبکہ نان سیلری پرسنز کیلئے 152ملین اور ڈویلپمنٹ کیلئے 55ملین کی خطیر رقم مخصوص ہے گجرات میں سرکاری سطح پر 1780بیڈ جبکہ سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی تعداد 108ہے19ویں گریڈ کے ڈاکٹروں کی تعداد 76 ‘ 17ویں گریڈ کے 104اور نرسوں کی تعداد 166‘ پیرا میڈیکل سٹاف کی تعداد 1095اور دوسرا سٹاف 953کے قریب ہیں اس وقت گجرات میں بیسویں گریڈ کا کوئی ڈاکٹر موجود نہ ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 17ویں گریڈ کی تنخواہ پورے پاکستان میں ایک ہونی چاہیے بعض ایسے افسران بھی ہیں جو 17ویں گریڈ میں اڈھائی لاکھ روپے تنخواہ وصول کر رہے ہیں گریڈ کے حوالے سے سب کا پیمانہ ایک ہونا چاہیے گجرات شہر میں پرائیویٹ ہسپتالوں کی تعداد 45ہے متوسط اور ایلیٹ کلاس ان ہسپتالوں سے علاج معالجہ کراتی ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں ڈسٹرکٹ ہسپتال گجرات میں ہسپتالوں کا ویسٹ ختم کرنے کے لیے 27کروڑ روپے مالیت کی ایک جدید ترین مشینری نصب کرا دی ہے جسے مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اس مشینری میں ہسپتالوں کا ویسٹ جلا دیا جاتا ہے تاکہ مرض پھیل نہ سکے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کرپشن کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے محکمہ صحت میں بھی کرپشن موجود ہے اس سلسلہ میں بعض کرپشن کے کیس اس وقت نیب کے علاوہ اینٹی کرپشن میں بھی زیر تفتیش ہیں ۔

مزید :

ایڈیشن 1 -