بیوٹیشن سیکٹر باقاعدہ صنعت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے

بیوٹیشن سیکٹر باقاعدہ صنعت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے

  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے ہنرمند افرادی قوت ایک کلید کی حیثیت رکھتی ہے۔ پوری دنیا میں نظر دوڑائی جائے تو ہمیں اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز ہنرمند افراد کی مرہون منت اور ترقی پذیر و پسماندہ ممالک کی حالت زار ہنرمند افراد سے محرومی ہے۔

تحقیق، تخلیق اور اجتہاد سے محرومی ہمارے نظام تعلیم کی بدولت ہمیں دوسروں کا دست نگر کرتی جارہی ہے۔ پاکستان میں ترقی اور خوشحال مستقبل کے مواقع کم میسر آنے کی وجہ سے غیر ہنرمند افرادی قوت کی بنا پر بے روزگاری کا ایک سیلاب امڈا ہوا ہے۔ ماضی میں پارلیمانی حکومتوں کی جانب سے دیرپا منصوبے اور پالسیاں مرتب نہ کیے جانا یا پھر پالیسوں پر عمل نہ کیا جانا اور نظر انداز کردینا بھی دیگر مسائل کی وجہ بنا رہا ہے۔عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان افرادی قوت کے اعتبار سے دنیا کا سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا ملک بن سکتا ہے۔ خواتین کس طرح ہنرمند بن کر نہ صرف ملکی ترقی میں حصہ دار بن سکتی ہیں بلکہ خود د کفیل بن کر اپنے خاندان کی کفالت بھی کر سکتی ہیں ، یو ں تو خواتین کے لئے بے شمار شعبے ہیں جیسے مشین ایمبرائیڈری، فیبرک پرنٹنگ وغیرہ لیکن میک اپ کی صنعت کی ترقی کے ساتھ ہی بیوٹیشن کے شعبے کی اہمیت میں خاص اضافہ ہو ا ہے ، اس اہمیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حکومتی سطح پر بھی بیوٹیشن کورسز شروع کروائے گئے ہیں۔ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹیوٹا) صوبہ پنجاب کی بیروزگار خواتین کو ہنر مند بنانے کیلئے خصوصی توجہ دے رہی ہے۔خواتین کو تربیت یافتہ افرادی قوت بنانے کیلئے وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق ٹیوٹا کے زیر اہتمام جدید قابلِ روزگار کورسز متعارف کروا ئے جارہے ہیں۔

اس حوالے سے ہم نے بیوٹیشن انسٹرکٹر میڈم تنویر ابرار( ٹیوٹاٹاؤن شپ آفس لاہور) سے بات کی اور اُن سے پوچھا کہ کم پڑھی لکھی خواتین کس طرح معاشی طور پر مضبوط بن سکتی ہیں، گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خواتین وزیر اعلیٰ کے یقینی روزگار کے مشن سے بھرپور فائد ہ اٹھائیں اور ہنر مند بن کراپنے خاندان کے ساتھ ساتھ ملکی معاشی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں کیونکہ ملکی معاشی ترقی تربیت یافتہ خواتین کی معاونت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

طالبات جد ید دور کے مارکیٹ کے رجحان کے مطابق علوم و فنون سیکھ کر معاشرے میں نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں خواتین ومردوں کے شانہ بشانہ کام کرکے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ روایتی تعلیم سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چند تعلیمی اداروں کے علاوہ ہمارے ملک کے روایتی تعلیمی نظام کا معیار اچھا نہیں ہے اور غالباََ یہ فرسودہ ہوچکا ہے جس کے درست نتائج نہیں مل رہے۔ 25سے 30 ہزار روپے ماہانہ آمدنی والے 80 فیصد خاندان اپنے بچوں کو ان تعلیمی اداروں میں تعلیم نہیں دلوا سکتے۔ اگر وہ کسی طرح انہیں تعلیم کے زیور سے آراستہ کردیتے ہیں تو صورتحال یہ ہے کہ لاکھوں روپے کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کے بعد گریجوایشن کرنے والے صرف 25فیصد طلبہ و طالبات کو ملازمت ملتی ہے جبکہ ان کی تنخواہ بھی کم ہوتی ہے۔ افسوس ہے کہ گریجوایشن پاس طالبِ علم پندرہ ہزار روپے ماہانہ پر ملازمت کرنے کیلئے تیار ہیں۔اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیوٹانے منصوبہ بندی کی کہ روایتی تعلیم پر والدین کے لگنے والے لاکھوں روپے بچائے جائیں اور بچوں کو ایسی تعلیم دی جائے جس سے وہ چند ماہ بعد اپنا روزگار کما سکیں اور اسی ویژن کے تحت ہم خواتین کو معیاری ٹیکنیکل و ووکیشنل ٹریننگ فراہم کررہے ہیں جس کے بعدوہ 6ماہ یا ایک برس میں اپنا روزگار کمانے کے قابل ہوجاتی ہیں۔اداروں میں دو اور تین شفٹوں میں کورسز کرائے جارہے ہیں جن کا دورانہ 6ماہ سے ایک سال ہے۔

واضح رہے کہ بیوٹیشن کا یہ ٹریننگ کورس ایک سال کی عملی تربیت پر مشتمل ہے، جس کے بعد تجارتی پیمانے پر اپنا بیوٹی پارلر چلا سکتی ہیں، نیز کسی بھی ادارے میں بطور بیوٹیشن خدمات سرانجام دے سکتی ہیں۔پْرعزم خواتین، بیوٹیشن کے شعبے میں کاروبار کا پْراعتماد آغاز کرکے اپنے لیے معاشی خودمختاری کو ممکن بناسکیں گی۔

انہوں نے کہا ہے کہ انڈسٹری کی ضروریات کے مطابق متعارف کروائے جانے والے قابل روزگار شارٹ کورسز میں خواتین کیلئے بیوٹیشن، مشین ایمبرائیڈری، فیبرک پرنٹنگ، آٹو کیڈ، کنفیکشنری اینڈ بیکری، انڈسٹریل سٹچنگ، پروفیشنل کوکنگ، ویب ڈیزائننگ، ہوم اپلائنسز، فیشن ڈیزائننگ، ڈومیسٹک ٹیلرنگ اور دیگر شامل ہیں۔صوبہ بھر میں ان قابل روزگار شارٹ کورسزمیں ہزاروں خواتین ٹریننگ حاصل کر چکی ہیں۔ جدید کورسز میں تربیت خواتین کے مستقبل کیلئے فاہدہ مند ثابت ہونگے، بالخصوص بیوٹیشن کورسز، میں سمجھتی ہوں کہ اس وقت بیوٹیشن سیکٹر معاشر ے میں اہم حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ میں گزشتہ اٹھائیس سال سے اس شعبے سے منسلک ہوں ہزاروں بچیاں اور خواتین کو ٹرینگ دے چکی ہوں، اور اللہ کا شکر ہیں کہ آج یہ خواتین نہ صرف اپنی کفالت کررہی ہیں بلکہ اپنے خاندان کے لئے بھی باعثِ فخر ہی۔

ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹیوٹا) نجی شعبے کے تعاون سے بیوٹیشن کے جدید شارٹ کورس متعارف کروائے ہیں جس سے بیوٹیشن شعبہ سے منسلک 1500سے 3000خواتین سالانہ تربیت حاصل کررہی ہیں۔ اس کورس کوابتدائی طور پر لاہور میں اور کامیاب تکمیل کے بعد اسے پنجاب بھر کے دیگر اضلا ع میں بھی شروع کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ٹیوٹا بیوٹیشن سیکٹر کی ضروریات کے مطابق خواتین کو تربیت فراہم کر رہی ہے۔ اس کورس میں داخلہ لینے کیلئے میٹرک\ پاس خواتین اہل ہیں جنہوں نے پہلے سے بیوٹیشن کا کورس کیا ہواہے۔اس میں میک اپ،بالوں اور جلد کی نگہداشت کے متعلقہ میٹریل کو نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ حکومت خواتین کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کے لئے بیوٹیشن کے کورس کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنائے تاکہ بیوٹیشن کے کورس کے ذریعے معاشرے میں ہنر مند خواتین کا اضافہ ممکن ہو سکے۔ خواتین بیوٹیشن کورس کے ذریعے ایک باعزت روز گار حاصل کرکے خود کفیل اورمعاشی طور پر مضبوط بن سکتی ہیں۔ بیوٹیشن انڈسٹری میں ملازمتوں اور کاروبار کے وسیع مواقع موجود ہیں اورٹیوٹا نے مختلف شعبہ زندگی میں طالبات کے لئے سیکل ڈیویلپمنٹ کے خصوصی منصوبے شروع کئے ہیں۔ جن سے طالبات بھرپور استفادہ کررہی ہیں۔ طالبات کو بیوٹیشن کہ جدید طریقوں سے آگاہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بیوٹیشن کی تربیت حاصل کر کے طالبات باآسانی خود کفیل ہوسکتی ہیں۔ بطور میک اپ آرٹسٹ کسی ادارے سے سے منسلک ہو سکتی ہیں یا اپنا بیوٹی پارلر بھی بنا سکتی ہیں۔

ضرورت روزگار کے پیش نظر آج کل گلی گلی، محلے محلے میں بیوٹی پارلر کْھلے ہوئے ہیں، اس قسم کے پارلروں میں صفائی ستھرائی کا خاطرخواہ انتظام نہیں ہوتا اور نہ ہی خواتین کو میک اپ، فیشل، مینی کیور، پیڈی کیور اور آرائش حْسن کی دیگر خدمات کی فراہمی کے دوران حفظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھا جاتا ہے ، ان امور سے متعلق ٹرینگ لینے والی خواتین کو آپ کیسے گائیڈ کر تی ہیں،اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پرانے زمانے میں خواتین بناؤ سنگھار گھر ہی میں لیا کرتی تھیں۔ وہ خود بناؤ سنگھار کرتی تھیں یا پھر سہیلیاں اکٹھی ہوکر ایک دوسرے کے چہرے پر سرخی، پاؤڈر وغیرہ لگایا کرتی تھیں۔ اْس زمانے میں آرائش حْسن کے لوازمات بھی مختصر ہوتے تھے۔ اب یہ شعبہ باقاعدہ صنعت کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ جا بہ جا آرائش حسن کے مراکز ( بیوٹی پارلر ) کھلے ہوئے ہیں۔ جہاں مختلف نرخوں پر مختلف قسم کے میک اپ کی خدمات دستیاب ہوتی ہیں۔چہرے کے علاوہ ہاتھ، پاؤں اور گیسوؤں کی آرائش اور خوب صورتی کی خدمات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ آرائش حسن کے ان مراکز سے استفادہ کا رجحان اس قدر عام ہوچکا ہے کہ اب خواتین شادی بیاہ کی تقاریب کے علاوہ، خوب صورتی برقرار رکھنے کی غرض سے عام دنوں میں بھی بیوٹی پارلر کا رْخ کرتی ہیں۔ تاہم اس سلسلے میں چند احتیاطیں ضرور اختیار کی جانی چاہئیں۔ میری خواتین کو ایڈوائز ہے کہ جب آپ اپنا پارلر سٹارٹ کریں تو صفائی کا خاص خیا ل رکھیں اس کے ساتھ میں خواتین سے بھی کہوں گی کہ ہمیشہ ایسے پارلر کا انتخاب کریں جہاں صفائی ستھرائی کا معقول انتظام ہواور یہ بھی دیکھیں کہ ان کے زیراستعمال اشیاآ صاف ستھری ہیں یا نہیں۔ بہتر تو یہ ہے کہ ضروری اشیاء خرید کر رکھ لی جائیں اور پارلر جاتے ہوئے ہمراہ لے جائیں۔مثال کے طور پر اگر بلیچ کروانا ہو تو اس کے لیے فیس برش ساتھ لے کر جائیں تاکہ دوسری خواتین کے استعمال میں آنے والے برش آپ کے چہرے پر استعمال نہ ہوں اور آپ الرجی وغیرہ سے محفوظ رہیں۔اسی طرح فیشل کرواتے وقت اس بات پر اصرار کریں کہ چہرے پر اسپنج کے بجائے ٹشو یا کاٹن بال استعمال کی جائے۔اگر ویکس کروانی ہو تو کپڑے کے بجائے پیپر استعمال کروائیں۔ اگر مینی کیور ،پیڈی کیور کروانا ہو توکٹ لے کر جائیں تاکہ وہ نیل کٹر ،فائلر ،برش جو دیگر خواتین پر استعمال کیے گئے ہیں۔ بیوٹی پارلر میں خدمات فراہم کرنے والی خواتین اپنی ہر گاہک کے چہرے یا ہاتھ پاؤں پر کے لئے الگ الگ چیزیں استعمال کریں کیونکہ ان گاہکوں میں سے بعض کو کوئی جلدی بیماری یا الرجی وغیرہ بھی لاحق ہوسکتی ہے جو برش وغیرہ اور دیگر اوزاروں کے ذریعے آپ کی کلائنٹ کو منتقل ہوسکتی ہے۔ ایک ماہر بیوٹیشن اپنے کلائنٹس کی صحت کا خاص خیا ل رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بناؤ سنگھار کرنا عورت کا شوق ہی نہیں بلکہ روایت بھی ہے۔ یوں تو خواتین اپنے حسن کی دیکھ بھال ہمیشہ سے کرتی آرہی ہیں لیکن اس رواج کو فیشن اور پھر آرٹ میں بدلنے کی ذمہ داری کا سہرا ماہر بیوٹیشنز کے سرہے جن کے ہاتھوں کے کمال سے چہرہ کنول بن جاتا ہے توآنکھیں جھیل جیسی گہری دکھائی دیتی ہیں اور ہونٹ گلاب کی پنکھڑی معلوم ہوتے ہیں۔

کیا خواتین واقعی میک اپ کے بغیر گزارا نہیں کر سکتیں یا ان کی زندگی میں بناؤ سنگھار کی کتنی اہمیت ہے ؟اس بات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خواتین اپنے میک اپ کے حوالے سے کافی تنقید کا نشانہ بنائی جاتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ’’عورت کو اللہ نے قدرتی طور پر حسن عطا کیا ہے ہم توبس اسے نکھارنے کی کوشش کرتے ہیں رہا سوال میک اپ کی اہمیت کا تو میں بھی اس بات پر یقین رکھتی ہوں کہ بننا سنورناعورت کا حق ہے جس کا خاص طور پر گھریلو خواتین کو خیال رکھنا چاہیئے۔

وہ بچیاں جوگھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے بیوٹی پارلرکے لئے وقت نہیں نکال سکتیں، ہفتے کے چند روز وہ فری لانس میک اپ آرٹسٹ کے طور پرکام کر کے بھی پیسے کما سکتی ہیں۔ ایسی بچیوں کو میرا مشورہ ہے کہ آج کل انٹرنیٹ کی مدد سے گھر سے کام کرنا آسان ہوگیا ہے ۔ کلائنٹ کام فیس بک پر دیکھ لیتے ہیں اور پھر رابطہ کرتے ہیں۔

گھروں پر دلہنوں کو تیار کرنے کا رواج گوکہ پرانا ہے لیکن مصروفیت کے اس دور میں پھرسے رواج زور پکڑتا جارہا ہے پھر وہ چاہے ایک موبائل نیل آرٹسٹ ہو یا موبائل مہندی آرٹسٹ یا پھرفری لانسر بیوٹیشن جیسے پیشے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں اور فری لانس میک اپ آرٹسٹ کی خدمات بیوٹی پارلرز کے مقابلے میں کافی کم ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ضروری ہے کہ خواتین کے لیے ہنر، پیشہ کے انتخاب میں رہنمائی، فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کی فراہمی اور ہنرمند بنانے کے لیے انتظامات کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے اور ان شعبوں پر قوی توجہ دی جائے جنھیں ماضی میں نظرانداز کیا گیا، جن میں قومی پالیسیوں، مہارت کے معیارات اور نصاب، انسٹرکٹر ٹریننگ، کارکردگی جائزہ کا نظام، قومی اور بین الاقوامی رابطے، لیبر مارکیٹ انفارمیشن سسٹم، فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے روڈ شو، مشترکہ کانفرنسوں، سمپوزیم، دوروں، ورکشاپوں اور نمائشوں کے اہتمام کی ضرورت ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -