لاہور کے کالجوں اور یونیورسٹیوں کی چند علمی شخصیات کا تذکرہ

لاہور کے کالجوں اور یونیورسٹیوں کی چند علمی شخصیات کا تذکرہ

  

سلیم بیتاب نے کہا تھا:

میں نے تو یونہی راکھ میں پھیری تھیں انگلیاں

دیکھا جو غور سے تیری تصویر بن گئی

راقم الحروف کو گزشتہ چند ہفتوں میں اپنی علمی، ادبی و صحافتی مصروفیات کے سلسلے میں کچھ تقریبات میں شرکت کا موقع ملا جہاں عصرِ حاضر کے معروف اساتذہ اور باشعور طلباء و طالبات سے تبادلہ خیال اور تعارف کا موقعہ ملا بعض اساتذہ کا تذکرہ جناب ڈاکٹر محمد اقبال شاہد، ڈاکٹر محمد اقبال ثاقب اور جناب ڈاکٹر بابر نسیم آسی نے کیا۔راقم الحروف کو جی سی یو کے مختلف شعبہ جات میں جانے کا موقعہ ملتا رہا ہے جہاں پر معروف و ممتاز اساتذہ سے شناسائی اور تبادلہ خیالات و افکار رہا۔ جی سی یو کی ایک ہر دلعزیز شخصیت موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر حسن امیر شاہ کے دروازے اساتذہ اور طلباء و طالبات کے لئے کھلے رہتے ہیں۔ جس سے وائس چانسلر نہ صرف مسائل سے آگاہ ہوتے ہیں بلکہ مسائل کو حل کرنے اور سہولیات کی بہم رسانی کے لئے کاوشیں بھی کی جاتی ہیں۔

یونیورسٹی کے ڈین فیکلٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال شاہد تہران یونیورسٹی اور لندن یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کر چکے ہیں اور ایک طویل عرصہ پنجاب یونیورسٹی اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے بھی وابستہ رہے وہ شعبہ فارسی میں بین الاقوامی سطح کی کانفرنسوں کا انعقاد کر چکے ہیں اور فیکلٹی میں ڈاکٹر محمد اقبال ثاقب اور ڈاکٹر اقصیٰ ساجد، ڈاکٹر بابر نسیم آسی کے اشتراک سے اعلیٰ معیارکی تقریبات اور سیمینارز کا اہتمام کرتے رہے ہیں۔

شعبہ اردو میں ڈاکٹر سعادت سعید، ڈاکٹر تبسم کاشمیری ،ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی اور محترمہ صائمہ ارم کا شمار قابل ترین اور ہر دلعزیز اساتذہ میں ہوتا ہے۔ ڈاکٹر سعادت سعید اور ڈاکٹر تبسم کاشمیری یونیورسٹی کے ممتاز پروفیسر ہیں۔ ڈاکٹر سعادت سعید راوی کے نگران ہیں جبکہ ڈاکٹر تبسم کاشمیری ایک طویل عرصہ جاپان میں اردوکی تدریس کرتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی ایک علمی شخصیت طویل عرصہ انگلستان کی یونیورسٹیوں میں پاکستان چیئرپر فائز رہے ہیں وہ پنجاب کے حوالے سے متعدد مقالات اور کتابوں کے مصنف ہیں ان کے والد محترم جیون خان پاکستان کی سول سروس کا ایک معتبر نام ہیں۔ ڈاکٹر طاہر کامران گورنمنٹ ایف سی کالج میں میرے رفیق کار رہے ہیں۔

ڈین آف سائنس دانشور اور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ اقبال ہوسٹل کے سپرنٹنڈنٹ کے فرائض انتہائی جانفشانی کے ساتھ سرانجام دے رہے ہیں۔ محترمہ صائمہ اِرم مجلس اقبال کی انچارج ہیں اور مجلس اقبال کی تقریبات اور تنقیدی نشستوں کا اہتمام کرتی رہتی ہیں۔

سوشل سائنس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر طاہر کامران اور پروفیسر اسلام اللہ خان ایک متحرک اور فعال علمی شخصیت ہیں۔ انہوں نے رواں ہفتے میں شعبہ کیمسٹری کی طرف سے ایک ٹریننگ ورک شاپ بخاری آڈیٹوریم میں منعقد کروائی جس کے مہمان مقرر احمد فواد تھے جبکہ سٹیج پر نوجوان شاعر دانش ور اور استاد احمد حماد اور شعبہ فلسفہ کی پروفیسر روبینہ کوکب بھی تشریف فرما تھیں۔ کالج کے ایک ہونہار طالب علم ظاہر محمود سوندھی ٹرانسلیشن سوسائٹی کے صدر ہیں انہوں نے اقبال ہوسٹل اور قائداعظم ہوسٹل کے باصلاحیت طلباء کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا جس میں راقم الحروف نے اپنے زمانہ ء طالب علمی کے واقعات بیان کئے اور طلباء کے سوالوں کے جوابات سے ان کو مطمئن کیا۔جی سی یونیورسٹی کی تقریبات میں ہماری ملاقات پروفیسر آغا حیدر سے ہوئی جو گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز کے پرنسپل رہے اور آج کل جی سی میں اردو پڑھا رہے ہیں۔ آغا حیدر کے شاگردوں میں سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خلیق الرحمن اور میاں عامر محمود بھی ہیں ان کے ہم عصر پروفیسر توقیر احمد شیخ، نوجوان گلوکار جواد احمد کے والد محترم ہیں۔پروفیسر توقیر احمد شیخ اولڈ راوینز یونین کے صدر رہ چکے ہیں اور پنجاب پروفیسر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری بھی رہے ہیں۔ جی سی میں ہماری ملاقات پروفیسر محمود الحسن بزمی سے بھی ہوئی جو پنجابی کے عالمی مشاعرے اور کانفرنسز منعقد کرواتے رہے ہیں۔

ڈاکٹر خلیق الرحمن، ڈاکٹر اقبال شاہد، ڈاکٹرطاہر کامران، پروفیسر جہانگیر احمد چودھری، اعزاز احمد خان، محمد اویس اور لطیف عثمانی معروف ماہرین تعلیم ہیں۔

پروفیسر جہانگیر احمد چودھری

پروفیسر جہانگیر احمد چودھری فزکس کے استاد ہیں اور ایک طویل عرصہ گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج چنیوٹ اور گورنمنٹ تعلیم الاسلام کالج چناب نگر کے پرنسپل رہے۔ بعدازاں ایڈیشنل ڈی پی آئی کالجز پنجاب مقرر ہو گئے اور سالہا سال ڈی پی آئی کالجز کے منصب پر فائز رہے۔ پروفیسر نصراللہ ورک کے ڈی پی آئی کالجز مقرر ہونے کے بعد پروفیسر جہانگیر احمد چودھری ایڈیسنل ڈی پی آئی کالجز کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ پروفیسر جہانگیر احمد چودھری نے ہزاروں اساتذہ کو گریڈ اٹھارہ ، انیس اور بیس میں پروموشن کے کیسز تیار کروائے۔ پنشن کیسز میں رکاوٹوں کو دور کیا اور آڈٹ پیراز کوطے کروانے میں مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا وہ تعلیم کے فروغ اور کالج اساتذہ کی فلاح و بہبود کے لئے شبانہ روز سرگرم عمل رہتے ہیں۔ معیار تعلیم کو بلند کرنے اور امتحانی نظام کو شفاف بنانے کے لئے بے شمار اقدامات کر چکے ہیں۔ انہوں نے دفاتر سے سرخ فیتے کو ختم کرنے کے لئے بھی وقتاً فوقتاً ہدایات جاری کی ہیں۔ رفقائے کار میں ہر دلعزیز اور انسان دوست شخصیت ہیں۔

پروفیسر اعزاز احمد خان

گورنمنٹ کالج آف سائنس وحدت روڈ کے پرنسپل پروفیسر اعزاز احمد خان شماریات کے پروفیسر ہیں انہوں نے گورنمنٹ کالج آف سائنس کی درخشاں روایات کو آگے بڑھایا کالج میں نئے اکیڈمکس بلاک کی تعمیر کروائی اور اساتذہ و طلباء کی تعداد اور استعداد کار کو بڑھایا۔ گورنمنٹ کالج آفس سائنس کے پرنسپلز میں ان کا ایک منفرد اور ممتاز مقام رہے گا۔

پروفیسر ڈاکٹر خلیق الرحمن

پروفیسر ڈاکٹر خلیق الرحمن ہائر ایجوکیشن کمیشن کے رکن ہیں اور ایک مقامی کالجز کے نیٹ ورک کے ڈائریکٹر ہیں وہ طویل عرصہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے اور جی سی یو کی 150سالہ تقریبات کا اہتمام کیا۔ پروفیسر خلیق الرحمن ایک طویل عرصہ انجینئرنگ یونیورسٹی کے ڈین رہے اور پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فزکس میں تدریسی فرائض سرانجام دیتے رہے۔ انہوں نے ڈاکٹر خالد آفتاب کے دور میں قائم ہونے والے جمود کو ختم کیا اور جی سی یو کو ایک سکول کی بجائے یونیورسٹی کا ماحول دیا۔ یونیورسٹی میں سینئر فیکلٹی میں بھی اضافہ کیا۔

پروفیسر محمد اویس

گورنمنٹ شالیمار کالج کے پرنسپل پروفیسر محمد اویس تاریخ کے پروفیسر ہیں۔وہ گورنمنٹ کالج لاہور کے فارغ التحصیل ہیں ایک طویل عرصہ گورنمنٹ کالج پنڈی بھٹیاں کے پرنسپل رہے۔ گریڈبیس میں پروموشن کے بعد کچھ عرصہ گورنمنٹ ڈگری کالج ماڈل ٹاؤن میں تدریسی خدمات سرانجام دیں۔ پروفیسر محمد اویس نے گورنمنٹ شالیمار کالج کا تعلیمی و تدریسی معیار بلندکرنے کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں۔

پروفیسر عبداللطیف عثمانی

پروفیسر عبداللطیف عثمانی گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز کے پرنسپل اور اسلامیات کے پروفیسر ہیں۔ وہ اس سے قبل گورنمنٹ کالج شیخوپورہ کے پرنسپل اور گورنمنٹ کالج آف سائنس وحدت روڈ کے صدر شعبہ اسلامیات رہے۔ انہوں نے بطور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لاہور، اوکاڑہ اور ڈیرہ غازی خان میں خدمات سرانجام دیں اور ڈی پی آئی کالجز افس میں بطور ڈائریکٹر انتظامیہ اور ڈائریکٹر بجٹ اینڈ اکاؤنٹس تعینات رہے۔ انہوں نے گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز کا تدریسی معیار بلند کرنے کے لئے سرگرم کاوشیں کی ہیں اور کالج میں نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے رہے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر میاں محمد اکرم

پروفیسر ڈاکٹر میاں محمد اکرم گورنمنٹ کالج آف سائنس وحدت روڈ میں صدر شعبہ معاشیات اور ڈین آف سوشل سائنسز ہیں۔ وہ تنظیم اساتذہ پاکستان کے صدر اور دینی و دنیاوی علوم کے ماہر ہیں۔ ڈاکٹر میاں محمداکرم اساتذہ کی فلاح و بہبود کے لئے سرگرم عمل رہتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر ناصر رانا

پروفیسر ڈاکٹر ناصر رانا پنجابی زبان و ادب کے اساتذہ اور گورنمنٹ ڈگری کالج شرقپور شریف کے پرنسپل ہیں وہ اردوئے معلی اور دیگر جرائد کے ناشر اور مدیراعلیٰ بھی ہیں۔ اس سے قبل گورنمنٹ دیال سنگھ کالج اور گورنمنٹ ایم اے او کالج میں تدریسی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔

پروفیسر شاہد نسیم

پروفیسر شاہد نسیم گورنمنٹ کالج گلبرگ کے شعبہ سیاسیات میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اس سے قبل طویل عرصہ گورنمنٹ اسلامیہ کالج گوجرانوالہ میں تعینات رہے وہ متعدد ضخیم اور گرانقدر کتابوں کے مصنف اور مرتب ہیں۔ ڈاکٹر ناصر رانا کے اشتراک سے ایک سو ایک پی ایچ ڈی اساتذہ کے حوالے سے ایک کتاب مرتب کر چکے ہیں۔

پروفیسر ناصر بشیر

پروفیسر ناصر بشیر گورنمنٹ دیال سنگھ کالج میں شعبہ اردو کے استاد ہیں وہ ایک ہر دلعزیز اردو شاعر ہیں اور ان کا کلام روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں ہر روز شائع ہوتا ہے۔ وہ اس سے قبل گورنمنٹ کالج نارنگ منڈی گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور اور گورنمنٹ کالج شیخوپورہ میں تدریسی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے ایک ادبی اخبار بھی شائع کیا اور روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کے کالم نگار بھی ہیں۔ ناصر بشیر کے مختلف نثری و شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں ۔ وہ سفرنامہ ء عمرہ و حج بھی شائع کر چکے ہیں جو قسط وار بھی روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں شائع ہوتا رہا ہے۔

***

مزید :

ایڈیشن 1 -