عدالت عظمی کنٹونمنٹ بورڈز کے نجی سکولوں کی منتقلی کے فیصلہ پر نظر ثانی کرے

عدالت عظمی کنٹونمنٹ بورڈز کے نجی سکولوں کی منتقلی کے فیصلہ پر نظر ثانی کرے

  

لاہور(فورم رپورٹ :حافظ عمران انور۔تصاویر :ندیم احمد)لاہور کنٹونمنٹ بورڈکی طرف سے کنٹونمنٹ ایریاز سے پرائیویٹ سکولوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے فیصلے پر روزنامہ پاکستان کی جانب سے ایک فورم کا اہتمام کیا گیا جس میں لاہور کینٹ پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن کے صدر منظور احمد غوری ،جنرل سیکرٹری میاں فرید، سینئر نائب صدر افتخار احمد نیازی ،ممبر شہر یار نیازی ،انفارمیشن سیکرٹری راؤ عبدالجبار ،فنانس سیکرٹری ظہیر احمد قریشی اور ممبر پروفیسر نسیم احمد نے شرکت کی ۔ فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے صدر منطور احمد نے کہا کہ کنٹونمنٹ ایریاز میں ہمارے جو سکول اور کالجز ہیں وہ کسی حد تک تعلیم کے شعبے میں حکومت کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں اس لئے حکومت سے ہماری درخواست ہے کہ ہمیں اپنے کالجز اور سکولوں کی کسی اور جگہ منتقل کرنے کے لئے کوئی متبادل جگہ فراہم کی جائے یا انہیں پہلی والی جگہوں پر تدریس کا سلسلہ جاری رکھنے کی اجازت دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں 43کنٹونمنٹ بورڈز ہیں اور ہر کنٹونمنٹ بورڈ میں 5سو سے لے کر 15سو سکول ہیں ۔ اس فیصلے سے اتنی بڑی تعداد میں ہمارے سکول اور سکولوں میں پڑھنے والے بچے اور اساتذہ متاثر ہوں گے ۔منظور احمد غوری نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے کیونکہ صرف اسلام آباد میں ایک خاتون نے کنٹونمنٹ ایریاز سے سکولوں کی منتقلی کی بات کی تھی لیکن سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے پورے پاکستان کے کنٹونمنٹ ایریاز کے سکول متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے جنرل سیکرٹری میاں فرید نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر ہم عمل ضرور کریں گے مگر کنٹونمنٹ بورڈ کو چاہئے وہ ہمارے ساتھ نرمی برتیں اور ہمیں 15دن کی بجائے کوئی فیز آؤٹ پلان دیا جائے جس میں ہم ان سکولوں اور کالجز کو دوسری جگہ منتقل کر سکیں۔ انہوں نے کہاکہ اس کے علاوہ اگر کنٹونمنٹ بورڈ ہمارے سکول اور کالجز پر کوئی کمرشل فیس لگانا چاہتے ہیں تو ہم وہ بھی دینے کو تیار ہیں۔اگر کنٹونمنٹ بورڈ کے پاس کوئی متبادل جگہ ہے تو ہمیں بتا دیں ہم وہاں جانے کو تیار ہیں ۔افتخار احمد نیازی نے کہا کہ ہمارے کنٹونمنٹ بورڈ کے سکولوں اور کالجز میں اس وقت ایک لاکھ سے زائد اساتذہ اور ملازمین کام کر رہے ہیں اور کم و بیش 7لاکھ سے زائد بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔اتنی بڑی تعداد میں بچوں اور دوسرے سٹاف کی ایک جگہ سے دوسری جگہ پر فوری منتقلی سے کئی مسائل جنم لیں گے۔فنانس سیکرٹری ظہیر احمد قریشی نے دوران گفتگو کرتے کہا کہ والدین اپنے گھروں سے نزدیک سکولوں اور کالجز کو ترجیح دیتے ہیں اگر ہمارے سکولوں اور کالجز کو کنٹونمنٹ ایریاز سے کسی دور دراز ایریاز میں منتقل کر دیا گیا تو والدین اپنے بچوں کو ہمارے سکولوں اور کالجز میں نہیں بھیجیں گے ۔کنٹونمنٹ بورڈز نے صرف آرمی میں خدمات انجام دینے والے افسران اور جوانوں کے بچوں کی تعلیم کے لئے سکولوں اور کالجوں کا پلان کیا ہے لیکن کنٹونمنٹ ایریاز میں رہنے والے سویلین کے بچوں کے لئے ان کے پاس کوئی پلان نہیں ۔ جس تیزی سے آبادی بڑھ رہی ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کو ہمارے سکولوں کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے

کنٹونمنٹ بورڈ

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -