سپیکر قومی اسمبلی بھی نئی حلقہ بندیوں سے متاثر، این اے 122توڑ دیا

سپیکر قومی اسمبلی بھی نئی حلقہ بندیوں سے متاثر، این اے 122توڑ دیا

  

اسلام آباد ( آن لائن ) پارلیمنٹ اور الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندیوں کے معاملے پر اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے اعتراضات کو رد کرتے ہوئے ورکنگ گروپ کے اجلاسوں کا انعقاد جاری رکھا ہوا ہے، الیکشن کمیشن نے واضح کردیا ہے کہ کسی پارلیمانی کمیٹی اور ورکنگ گروپ کی کوئی حیثیت نہیں الیکشن کمیشن انھی شکایات کا جائزہ لے گا جو قواعد کے مطابق موصول ہونگی الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کے معاملے پر ستائیس مارچ کو اہم اجلاس بھی بلا لیا ہے ۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق بھی نئی حلقہ بندیوں سے متاثر ہونے والوں میں شامل ہیں او ر ان کا حلقہ این اے ایک سو بائیس لاہور بھی توڑ دیا گیا ہے۔حلقہ بندیوں سے متعلق قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ارکان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئی حلقہ بندیاں اور نقشے الیکشن ایکٹ اور رولز کے تحت نہیں بنا ئے گئے۔دانیال عزیز نے کہا ہے کہ کمیٹی اپنا کام مکمل کرکے ایوان کو رپورٹ پیش کریگی۔لیکشن کمیشن کے حکام نے ارکان کو حلقہ بندیوں سے متعلق بریفنگ دی تاہم انہوں نے پھر واضح کردیا کہ اس معاملے کو دیکھنا الیکشن۔کمیشن کا ہی کام۔ہے کسی کمیٹی کا نہیں ،کمیٹی اپنی رپورٹ پارٹی کو دے ہمیں نہیں۔بریفنگ کے بعد دانیال عزیز کا کہنا تحا کہ نئی حلقہ بندیاں اور نقشے الیکشن ایکٹ اور رولز کے تحت نہیں بنا ئے گئے۔ کمیٹی اپنا کام مکمل کرکے ایوان کو رپورٹ پیش کریگی۔ایوان میں حلقہ بندیوں سے متعلق قرارداد بھی لاسکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن ہمارے سوالات کے جواب دینے کا پابند ہے۔ الیکشن کمیشن نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں پر الگ الگ طریقہ لاگو کیا. صرف صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں رولز کے تحت کام کیا گیا۔رکن اسمبلی عمران شاہ کا کہنا تحا کہ ساہیوال کے حلقے این اے 148 میں متعدد علاقوں کو ظاہر نہیں کیا گیا۔الیکشن کمیشن حکام کا کہنا تحا کہ یہ مجوزہ حلقہ بندیاں ہیں آپ ان پر اعترضات داخل کرا سکتے ہیں۔ حتمی فیصلے کے لیے آیندہ ہفتے دوبارہ کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا گیا۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تحا کہ الیکشن کمیشن کے ارکان اس ھوالے سے کمیٹی کو مطمئن نہیں کر پا رہے ۔ حتمی رپورٹ ایوان کو پیش کرینگے۔اجلاس میں الیکشن کمیشن حکام، سمیت محمود خان اچکزئی اور دیگر ارکان قومی اسمبلی شریک ہوئے۔

مزید :

صفحہ آخر -