گوجر انوالہ : اراضی کیس کی انکوائری مکمل ، تین لینڈ ریکارڈ افسران سمیت 5ملزمان گرفتار

گوجر انوالہ : اراضی کیس کی انکوائری مکمل ، تین لینڈ ریکارڈ افسران سمیت ...

  

گوجرانوالہ(بیورورپورٹ) سماعت اور بصارت سے محروم معمر خاتون کو قیمتی اراضی سے محروم کرنے کے کیس کی انکوائری مکمل ہوگئی۔ ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب بریگیڈئیر (ر) مظفر علی رانجھا کے حکم پر انچارج لینڈ ریکارڈ سنٹر اور دو سینئر لینڈ افسران سمیت 5ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق نارووال کے علاقہ ننگل والا کی رہائشی سماعت و بصارت سے محروم معمر خاتون رخسانہ کوثر زوجہ محمد سلطان کی کروڑوں روپے مالیتی 8کنال 5مرلہ اراضی جوکہ اسے وراثت میں سے ملی تھی اس پر قبضہ گروپ قابض ہوگیا اور شرافت علی و محمد اسحاق نے لینڈ ریکارڈ سنٹر کے کرپٹ عملے کی ملی بھگت سے جعلی دستاویزات تیار کروالیں جس میں زمین کو کسی دوسرے فرد کے نام منتقل کرنا ظاہر کیا گیا جبکہ حقیقت میں معمر خاتون ہی اس کی اصل مالکہ تھی۔ ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن گوجرانوالہ فرید احمد کی ہدایات پر اینٹی کرپشن میں مقدمہ درج کرلیا گیا اور انکوائری ٹیم نے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کروائی جس میں ثابت ہوگیا کہ ملزمان کی طرف سے تیار کردہ دستاویزات جعلی تھیں۔ انکوائری ٹیم نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں انچارج لینڈ ریکارڈ سنٹر اسسٹنٹ ڈائریکٹر مدثر اقبال خان، ایس سی او محمد زوہیب اور ایس سی او عرفان قیصر کو قصوروار قراردیا جس پر ڈی جی اینٹی کرپشن کے احکامات پر تینوں لینڈ ریکارڈ افسران مدثر اقبال خان، محمد زوہیب و عرفان قیصراور قبضہ گروپ کے ارکان شرافت علی و محمد اسحاق کو گزشتہ روز چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے حراست میں لے لیا گیا۔

مزید :

علاقائی -