ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی عرب سے امریکہ میں سرمایہ کاری کی درخواست

ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی عرب سے امریکہ میں سرمایہ کاری کی درخواست

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے امریکہ میں سرمایہ کاری کی در خواست کر د ی ۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان جوان دنوں امریکہ کے انتہائی اہم دورے پر ہیں اور بطور سعودی ولی عہدیہ انکا پہلا دورہ ہے، جنہوں نے گزشتہ روزامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی جس میں فوجی معاہدے، امریکہ میں سرمایہ کاری اور سکیو ر ٹی تعا و ن سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی گئی۔بعدازاں غیر ملکی خبر رساں ادارے سے مختصر گفتگو میں امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا سعودی عرب اور امریکا کے درمیان تعلقات ماضی کے تمام ادوار کی نسبت سب سے زیادہ مضبوط اور بہترین ہیں۔سعودی ولی عہد نے مجھے اپنی میزبانی کا شر ف بخشا، ہماری مضبوط اور دیرینہ دوستی نے ہمیں ایک بار پھر آپس میں ملایا ہے۔ ہم ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں، دونوں ملکوں کی جانب سے ایک دوسرے کے ہاں سرمایہ کاری سے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ امریکا سعودی عرب کے دفاع کو مشرق وسطیٰ میں انتہا ئی اہمیت کا حامل سمجھتا ہے۔ہم نے داعش کا قبضہ 100 فی صد ختم کردیا ہے۔ سعودی ول عہد کیساتھ ہونیوالی بات چیت میں مشرق وسطیٰ کے تنازعات زیربحث آئے۔ ماضی میں طے پائے سمجھوتوں کو ہم عملی شکل دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ دہشت گردی کی فنڈنگ روکنے کیلئے سعودی عرب کیساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔ ہم ریاست اور دہشت گردی کے درمیان تعلق کو ختم کرنے کیلئے کوشاں ہیں، اس حوالے سے الریاض میں ہونیوالی کانفرنس سب سے شاندار اجلاس تھا۔ امریکہ اور سعودب عرب کے در میا ن تعلقات پہلے سے بھی زیادہ بہتر ہیں اور ان میں مزید بہتری آئے گی، سعودی عرب بہت دولت مند قوم ہے اور وہ ملازمتوں، فوجی سا ز و سامان کی خرید کی صورت میں اپنی دولت کا کچھ حصہ امریکہ کو دینے جارہے ہیں۔اس موقع پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا تھا ہم مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے دیرینہ اتحادی ہیں، 80 سال سے زائد اتحاد میں سیاسی، معاشی اور سکیورٹی سمیت بڑے مفادات ہیں۔سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان توقعات کو بڑھانے اور سرمایہ کاری کی رقم کو دْگنا کرنے کا منصوبہ ہے۔واضح رہے دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ سال 200 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ طے پایا ہے جس میں بڑے پیمانے پر فوجی سازو سامان کی خریداری شامل ہے۔

ٹرمپ

مزید :

صفحہ اول -