کراچی کے روپوش پولیس افسر راؤ انوار کی سپریم کورٹ میں ڈرامائی حاضری

کراچی کے روپوش پولیس افسر راؤ انوار کی سپریم کورٹ میں ڈرامائی حاضری
کراچی کے روپوش پولیس افسر راؤ انوار کی سپریم کورٹ میں ڈرامائی حاضری

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

اساطیری شہرت رکھنے والے پولیس افسر راؤ انوار نے اپنے آپ کو قانون کے حوالے کر دیا ہے، روپوشی کے عرصے میں ان کا بے دردی سے میڈیا ٹرائل ہوتا رہا اور سینکڑوں جعلی پولیس مقابلے ان کے کھاتے میں درج کر دیئے گئے چونکہ ان کی شہرت ایک ایسے پولیس افسر کی ہو گئی تھی جو میڈیا پر آ کر متنازعہ باتیں بھی کر جاتے تھے اور ایسی باتیں بھی کہہ دیتے ہیں جو شاید عام حالات میں ناگفتنی ہوتیں۔ اس حوالے سے ان کے طرزِعمل سے بہت سے لوگوں کو شکایات ہو سکتی تھیں جن میں جائز اور ناجائز شکایات کا بھی کوئی نسبت تناسب ہوگا لیکن جونہی ان کے خلاف ایک جعلی پولیس مقابلے کا کیس منظرِعام پر آیا، متاثرین اور غیر متاثرین سب کے زخم ہرے ہو گئے، جنہیں راؤ انوار سے شکایات تھیں ان کا تو حق بنتا تھا کہ اب اگر انہیں موقع ملا تھا تو وہ اپنی شکایت منظرِعام پر لاتے لیکن جن کا راؤ سے کبھی کوئی واسطہ اور تعلق نہ تھا نہ جن کو انہوں نے کبھی کوئی قانونی یا غیر قانونی تکلیف پہنچائی تھی انہوں نے بھی بعض چینلوں پر اپنی جھوٹی سچی کہانیاں بیان کرنا شروع کر دیں، یہ ممکن ہے بعض میں سچائی ہو، یا کہیں جھوٹ سچ کا آمیزہ ہو، لیکن کہیں کہیں تو زیب داستان صاف نظر آتا تھا، ایسے محسوس ہونے لگا تھا کہ شہر میں وہی ایک قاتل تھا اس لئے یار لوگوں نے ہر قتل اس کے کھاتے میں ڈالنا شروع کر دیا۔ اب چونکہ وہی ایک پولیس افسر ایسا تھا جو ’’قابو‘‘ آیا ہوا تھا اس لئے اس پر ملبہ ڈالنا آسان تھا جو پولیس افسر اپنی اپنی پوزیشنوں پر قائم دائم تھے، ان کے قتلوں کی کوئی تفصیلات سامنے نہیں تھیں، بھلے سے ان میں بھی کوئی جعلی پولیس مقابلے میں ملوث ہو، لیکن کسی دوسرے افسر کا نام اس سلسلے میں نہیں لیا گیا۔ راؤ انوار، ملیر میں دس سال سے متعین تھے، معلوم نہیں ایسا کسی خصوصی اہتمام کے ساتھ کیا گیا تھا یا محض اتفاق تھا، یا راؤ انوار کو یہ علاقہ بہت پسند تھا، لیکن جو کچھ بھی تھا اگر وہ اس علاقے میں دس سال سے متعین تھا تو اسے آخر کسی نہ کسی اعلیٰ افسر نے تو اس منصب پر لگایا ہوگا۔ راؤ انوار اگر پولیس مقابلوں کا ماہر بھی تھا تو عین ممکن ہے اپنی مرضی سے بھی بندے مار دیتا ہو، لیکن کسی عہدے پر متعین رہنا یا کسی خاص علاقے میں ڈیوٹی سرانجام دینا تو اس کے اختیار میں نہیں تھا اور اگر یہ کوئی ’’جرم‘‘ تھا تو معلوم کرنا چاہئے، اس کا شریک جرم کون تھا؟ اس عرصے میں بہت سے اعلیٰ افسر آئے اور گئے، راؤ انوار اگر ملیر میں رہا تو کسی کے حکم پر ہی رہا ہوگا، لیکن میڈیا ٹرائل میں جہاں سینکڑوں قتل اس کے حساب میں درج کر دیئے گئے وہاں ملیر میں مسلسل تعیناتی بھی ان کا جرم ٹھہرا۔ راؤ انوار کا قصور جو کچھ بھی ہے ابھی اس کی حیثیت محض الزامات کی ہے۔ اس نے اپنے آپ کو ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے سامنے ’’سرنڈر‘‘ کر دیا ہے۔ اس پر جو الزامات لگائے گئے ہیں ان کی تحقیقات کے بعد پتہ چلے گا کہ ان میں حقیقت کتنی ہے اور فسانہ کتنا ہے؟ قانونی کارروائی کے بعد جو جرم بھی ثابت ہوگا قانون میں اس کی جو بھی سزا ہے اور مجاز عدالت کے روبرو مقدمہ چلنے کی صورت میں جو حقائق سامنے آئیں گے اس کے بعد ہی راؤ انوار کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا لیکن اس کی جو تصویر میڈیا کے ذریعے اہل وطن کے سامنے پیش کر دی گئی اس میں اس کا کردار منفی ہی سامنے لایا گیا اور اسے سینکڑوں جعلی مقابلوں کا قصور وار قرار دے دیا گیا۔ اس ضمن میں کوئی تحقیق کرنا پسند نہیں کی گئی بس جو بھی پولیس مقابلہ سامنے آیا اس میں راؤ انوار کا نام لکھ دیا گیا۔ اب یہ ضروری ہے کہ تحقیقات کے بعد فیصلہ کیا جائے، یکطرفہ میڈیا ٹرائل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کسی عدالت میں کوئی جرم ثابت ہوئے بغیر ہی ایک شخص کو سینکڑوں قتلوں کا قصوروار ٹھہرا دیا جاتا ہے، چاہے بعد میں ان کا حشر شاہد مسعود جیسے الزامات کی طرح کا ہو جنہوں نے اپنے پروگرام میں قصور میں ایک وحشیانہ واردات کے مجرم کو کروڑپتی ثابت کر دیا اور کہا کہ اس کے 37 بینک اکاؤنٹ ہیں، اس کے علاوہ ایک وفاقی وزیر کو بھی اس معاملے میں نہ صرف قصوروار ٹھہرا دیا بلکہ سپریم کورٹ میں اس وزیر کا نام بھی لکھ کر دے دیا، اپنے پروگرام میں اینکر نے جتنے بھی الزامات لگائے، ان میں سے ایک بھی درست ثابت نہ ہو سکا جبکہ پروگرام پیش کرتے وقت اس کا دعویٰ تھا کہ اگر اس کے الزامات غلط ثابت ہوں تو اسے پھانسی دے دی جائے۔ اس بھاشن کو سن کر آدمی سوچتا ہے کہ جو شخص اتنی بڑی بات کر رہا ہے ممکن ہے اس میں کوئی صداقت ہی ہو، غالباً اینکر کے اس دعوے سے متاثر ہو کر ہی اسے سپریم کورٹ میں بلا لیا گیا تھا، لیکن جے آئی ٹی نے رپورٹ دی کہ ایک بھی الزام کا ثبوت نہیں دیا گیا۔ اب اگر آپ دعوے کو دیکھیں اور دوسری جانب بے سروپا الزامات کو مدنظر رکھیں تو لگتا ہے ان میں کوئی نہ کوئی حقیقت ہوگی، اس اینکر نے سندھ ہائی کورٹ کے ایک سابق چیف جسٹس کے خلاف بھی بے بنیاد الزام تراشی کی تھی۔ اب جو اینکر شب و روز بے بنیاد الزام تراشی کر رہے ہوں اور اس میں ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا بھی کوئی لحاظ نہ کرتے ہوں وہ ایس پی کے عہدے کے ایک پولیس افسر کے متعلق کیا کچھ نہیں کہیں گے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ میڈیا کے الزامات سے قطع نظر سارے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے اور پھر قانون اپنا راستہ اختیار کرے۔

قاتل

Bac

مزید :

تجزیہ -