مفکرین اور علمائے کرام انتہا پسندی سے نمٹنے کیلئے علمی انداز فکر اختیار کریں : ممنون حسین

مفکرین اور علمائے کرام انتہا پسندی سے نمٹنے کیلئے علمی انداز فکر اختیار کریں ...

  

اسلام آباد (آئی این پی)صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ اسلامی دنیا کے علمائے کرام کو چاہیے کہ وہ اجنبی ثقافتی یلغار کا مقابلہ اور اسلامی ثقافت کی حفاظت کے لیے علمی سطح پر ٹھوس کام کریں تاکہ عالم انسانیت کو فکری افراتفری سے محفوظ کر کے فلاح ا ور بھلائی کے راستے پر گامزن کیا جاسکے۔صدر مملکت نے یہ بات مفتی اعظم مصرڈاکٹر شوکی ابراہیم عبدالکریم سے بات چیت کرتے ہوئے کہی جنھوں نے اپنے وفد کے ہمراہ ایوان صدرمیں ان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، مصر کے سفیر احمد محمد فضل یعقوب اور دیگر اعلی حکام بھی موجود تھے۔صدر مملکت نے معزز مہمان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ مفتی اعظم مصر کا دور پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں مزید وسعت اور گہرائی پیدا کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ دونوں برادر ملک بین الاقوامی معاملات میں ایک جیسی رائے رکھتے ہیں اور بین الاقوامی فومز پر ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں ۔صدر مملکت نے کہا کہ عالم اسلام کو درپیش مسائل کا جائزہ قرآن و سنت کی روشنی میں لے کر انتہا پسندی سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کی جائے ۔ انھوں نے کہا کہ انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کے تقریبادو ہزار علمائے کرام کا فتوی اس سلسلے کی کڑی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ مسلم دنیا کے مفکرین اور علمائے کرام کو چاہیے کہ انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے علمی انداز فکر اختیار کریں ۔ انھوں نے دونوں ممالک کے درمیان حکومت اور عوامی سطح پر وفود کے تبادلے پر بھی زور دیا۔ مفتی اعظم مصرڈاکٹر شوکی ابراہیم عبدالکریم نے اس موقع پر صدر مملکت کو مصر کے صدر جنرل عبدالفتح سیسی کی طرف سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا ۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور مصر کے تعلقات بہت مضبوط ہیں اور آنے والے دنوں میں ان میں مزید گہرائی پیدا ہوگی۔ اس موقع پر انھوں نے اپنی اور مصری عوام کی طرف سے پاکستانی عوام کو یوم پاکستان کی مبارک باد بھی پیش کی ۔ انھوں نے دہشت گردی کے خلاف پاکستانی علما کے فتوے کو انتہا پسندی سے نمٹنے کے ضمن میں ایک اہم دستاویز قرار دیا ۔

ممنون حسین

مزید :

علاقائی -