دہشتگردوں کیخلاف پاکستان میں کارروائی کا کوئی امکان نہیں : پینٹا گون

دہشتگردوں کیخلاف پاکستان میں کارروائی کا کوئی امکان نہیں : پینٹا گون

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے امریکہ ایسا کوئی ارادہ نہیں رکھتا کہ وہ افغانستان سے بھاگے ہوئے دہشتگردوں کے تعا قب میں پاکستان میں کوئی کارروائی کرے۔ ترجمان پینٹاگون ترجمان لیفٹیننٹ کرنل مائیک انڈریوس نے بھارتی اور ا فغا ن میڈیا کے نما ئندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا اگر پاکستان ان عسکریت پسندوں کو اپنی سرحدی حدود میں رکھنا چاہتا ہے تو رکھے لیکن وہ افغانستان میں امن اور استحکام کو متاثر نہ کرے، ہمارے پاس کوئی اختیار نہیں کہ ہم پاکستان میں جائیں نہ ہی پاکستان کی علاقائی خودمختاری کے احترام کی پالیسی میں کوئی تبدیلی کی ہے، امریکی فوجی صرف افغان سرحد کے اندر ہی کام کرتے ہیں اور ان کے پاس سرحد پار کرنے کا اختیار نہیں اور اگر یہ اختیا ر حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ ہے تو وہ بہت ہی مخصوص حالات میں ہوگا اور لیکن وہ معمولی نہیں ہوگا۔ مخصوص حالات کا معمول کے آپریشن میں اطلاق نہیں ہوتا اور اسی وجہ سے افغانستان میں موجود امریکی کمانڈرز کیلئے پاکستان کی سرحد پار کرنا عام دن کے آ پریشنل قوانین کے مطا بق نہیں ہوگا۔ اگر طالبان پاکستان میں رہتے ہیں اور ہم افغانستان کے صوبوں اور اضلاع کو تحفظ فراہم کرنے میں کا میاب ہوجاتے ہیں تو میرے خیال سے یہ وہ تجارت ہوگی جو ہم چاہتے ہیں اور یہ پاکستان میں موجود لوگوں کیلئے ضروری نہیں لیکن افغا نستا ن کے عوام کیلئے ہے ۔ رواں برس افغان فورسز کی توجہ اور طالبان کے قبضے میں موجود صوبوں کو واپس لینے پر مرکوز ہے اور جو کچھ پاکستان میں ہورہا، ہمار اس پر کوئی کنٹرول نہیں اور پاکستان کے عوام ہی اسے حل کرسکتے ہیں کیونکہ اب ہماری ساری توجہ افغانستان پر ہے۔ امریکہ کو امید تھی پاکستان طا لبا ن یا دیگر دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے گااور ہم پر امید ہیں پا کستان ان کیخلاف کاررو ا ئی کرے گا کیونکہ یہ نہ صرف ہماری افغانستان بلکہ پاکستان، بھارت اور پورے خطے کو تحفظ دے گا۔امریکہ پاکستا ن کی سکیورٹی امداد تب تک بحال نہیں کرے گا جب تک اسلام آباد واشنگٹن کے دہشتگردوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہوں سے متعلق خدشات دور نہیں کرتا۔

مزید :

علاقائی -