حکومت نے صوبہ بھر کے سکولوں میں بہترین سہولیات کیلئے موثر اقدامات کیے : عاطف خان

حکومت نے صوبہ بھر کے سکولوں میں بہترین سہولیات کیلئے موثر اقدامات کیے : عاطف ...

  

چارسدہ(بیورو رپورٹ) صوبائی وزیر تعلیم محمد عاطف خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے صوبہ بھر کے سکولوں میں بہتر سہولیات ، اساتذہ کی تعیناتی، حاضری میں اضافے اور نئے ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے موثر اقدامات کئے ہیں تاہم تعلیم کے میدان میں مطلوبہ نتائج کے حصول اور مستحکم تعلیمی نظام وضع کرنے میں وقت لگے گا۔ خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں گزشتہ پانچ سالوں سے باقاعدگی کے ساتھ بجٹ کا 20فی صد سے زائد تعلیم پر خرچ کیا جا رہا ہے ۔ وہ الف اعلان کے زیر اہتمام گزشتہ پانچ سال کے دوران خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے تعلیمی میدان میں اصلاحات اور چیلنجز کے حوالے سے مرتب کردہ رپورٹ کے لانچنگ تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔تقریب سے ڈاکٹر ارم ممتازمیڈیل تھراپسٹ آئیڈیاز، محسن داور، سنٹرل پریذیڈنٹ، نیشنل یوتھ آرگنائزیشن، تیمور خان جھگڑا، سربراہ الیکشن پالیسی یونٹ، پی ٹی آئی اور مشرف زیدی، کمپین ڈائریکٹر الف اعلان نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر سردار حسین ببرک، بیرسٹر سید مسرور شاہ، سینیٹر عثمان خان کاکڑ، ولید بزنجو، ثنا اللہ بلوچ، شگفتہ ملک، احمد اقبال چوہدری، آمنہ سردار، ملک نور سلیم خان، رضا ہارون، فیصل سبزواری، ڈاکٹر معراج الہدی، سیکرٹری اطلاعات قیصر عالم سیکرٹری ایجوکیشن عابد مجید، ڈائریکٹر ایجوکیشن فرید خٹک اور سابق ڈائریکٹر ایجوکیشن رفیق خٹک بھی موجود تھے ۔ ۔تقریب میں ملک بھر سے نمایاں قانون ساز شخصیات اور سرکاری افسران نے بھی شرکت کی ۔تقریب میں الف اعلان کی طرف سے پانچ سالہ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے صوبہ میں بہتر تعلیمی نتائج، لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی، سکولوں سے باہر طلباء کے داخلہ جات اور موثر و مستحکم تعلیمی نظام کیلئے فنڈنگ کا مسئلہ درپیش ہے ۔ رپورٹ میں صوبائی حکومت کی گزشتہ پانچ سالہ دور حکومت میں تعلیم کے میدان میں کامیابوں اور ناکامیوں کے ساتھ ساتھ اگلے پانچ سال کیلئے چیلنجز کا بھی ذکر شامل ہے ۔ رپورٹ کے مطابق تعلیم کے میدان میں اصلاحات کے تحت حکومت خیبرپختونخوا کی زیادہ تر توجہ موجودہ سکولوں کے ڈھانچے اور تعلیمی سہولیات میں بہتری کے ساتھ ساتھ سکولوں میں آئی ٹی لیب کی فراہمی پر مرتکز رہی۔ کلا س رومز میں معیاری تربیت کی فراہمی کے لیے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے این ٹی ایس اور متعدد پارٹنرز کے ذریعے اساتذہ کی تعیناتی و تربیت اور پانچویں و آٹھویں جماعت کے لرننگ نتائج کی جانچ پڑتال کے لیے ٹیسٹ متعارف کروائے جبکہ انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ (IMU) کے ذریعے ڈیٹا مانیٹرنگ میکانزم کی مضبوطی اور نئے منیجمنٹ و ایویلوایشن سسٹم کے ذریعے بہتری کی جانچ جیسے اقدامات نے بھی تعلیمی اصلاحات کو تقویت دی۔رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا وہ واحد صوبہ ہے جس نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران باقاعدگی کے ساتھ کل بجٹ کا 20 فیصد سے زائد تعلیم کے لیے مختص کیا جو کہ یونیسکو گلوبل مانیٹرنگ رپورٹ کی ہدایات کے عین مطابق ہے۔ تحصیل سطح پر اضافہ شدہ تعلیمی بجٹ قابل تحسین اقدام ہے جس سے نظام تعلیم مزید متحرک ہوا ہے۔ سیکنڈری سطح پر لڑکیوں کی تعلیم بڑھانے کے لیے 1ارب 72کروڑ روپے لڑکیوں کو اعزازئیہ دیا گیا جبکہ دور دراز اضلاع میں پرائمری سطح پر بچیوں کے داخلہ جات کو بڑھانے کے لیے کمیونٹی سکولز کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا کو تعلیمی میدان میں چند ایک چیلنجز تاحال درپیش ہیں جو کہ قانون ساز اداروں کے توجہ کے منتظر ہیں ۔ سکولوں سے باہر بچوں کو سکول میں داخلہ جبکہ پرائمری کے بعد سکولوں میں سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث طلبا کی کثیر تعداد کا تعلیم کو خیرباد کہہ دینا بھی تاحال ایک گھمبیر مسئلہ ثابت ہو رہا ہے۔ صوبے کے اندرعدم مساویت ہے خاص طور پر کوہستان، طورغر اور شانگلہ میں پرائمری تعلیمی ڈھانچہ خصوصی توجہ کا منتظر ہے۔الف اعلان کی جانب سے رپورٹ میں تجاویز بھی پیش کئے گئے جس کے مطابق حکومت کو ان تمام ذرائع کا استعمال کرنا ہو گا جن سے پرائمری اور سیکنڈری سکولوں میں داخلہ جات بڑھائے جا سکے جبکہ لڑکیوں کے سکولوں پر خصوصی توجہ کے ساتھ ساتھ مڈل اور ہائی سکولوں تک لڑکیوں کی رسائی اور ٹرانسپورٹ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنا نا شامل ہیں ۔ تجاویز میں سیلری و نان سیلری بجٹ اور اخراجات کی ٹریکنگ کے نظام کی پرائمری اور مڈل سکولوں تک توسیع ، ریاضی اور سائنس مضامین کو مطلوبہ اہمیت کی ضرورت پر زور دیا گیا جبکہ سائنس میلوں، مقامی مواد کی تیاری اور ریاضی و سائنس کے فروغ کے لیے صوبہ بھر میں مالی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کی بھی ضرورت کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ تجازیز میں خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے سکول سے باہر بچوں کی شماری کو جلد از جلد عوام کے لیے عام کرنے اور اسے باقاعدہ بنانے کے لئے ایک حصوصی باڈی بنانے کی اہمیت اجاگر کی گئی ہے ۔تجاویز میں واضح کیا گیا کہ حکومت کو اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ صوبائی سطح پر منیجمنٹ کا ڈھانچہ کس طرح اکیسویں صدی کے لیے صوبے کی تعلیمی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے۔۔ خصوصی بچوں کو سکولوں میں لانے اور ان کی خصوصی ضروریات کو تعلیم میں شامل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کاوشوں کی ضرورت ہے۔اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم محمد عاطف خان نے صوبائی حکومت کی طر ف سے تعلیمی میدان میں اصلاحات پرتفصیلی روشنی ڈالی ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -