متحدہ مجلس عمل کی بحالی خوش آئند اقدام ہے،اظہاربخاری

متحدہ مجلس عمل کی بحالی خوش آئند اقدام ہے،اظہاربخاری

  

راولپنڈی(جنرل رپورٹر)چیرمین امن کمیٹی معروف مذہبی سکالر علامہ پیر سید اظہار بخاری نے متحدہ مجلس عمل کی بحالی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ مجلس عمل بحالی سے لادینی قوتوں کے گھروں میں صفحہ ماتم بچھ گیا ۔ متحدہ مجلس عمل نفرتوں کی آگ بُجھانے کیلیے بہترین پلیٹ فارم ہے۔جو اپنی بہترین صلاحیتوں سے ملک میں امن کے پھول کھلا سکتی ہے۔ شیعہ،سُنی ،دیوبندی ،اھل حدیث مشترکہ نظریات پرمتحد ہو جائیں ۔ مذہبی اہم آہنگی کیلیے یہ کونسل قوم کیلیے باعث رحمت ہے۔ پاکستان بچانے کیلیے ملالہ نہیں ، مولانا کی ضرورت ہے۔مجلس عمل ٹوٹنے سے فرقہ پرستی، دھشتگردی ، کا باب دوبارہ کُھل گیاتھا۔ وقتی نہیں ،پائیدار اتحاد ہی ہماری کامیابی کی ضمانت ہے ۔ متحدہ مجلس عمل کی بنیاد رکھنے والے مولانا سمیع الحق کو بھی منانے کی کوشش کی جائے ۔علماء کرام مجلس عمل ، دفاع پاکستان، ملی یکجہتی جیسی عمارتیں بنا سکتے ہیں ،تو آپس میں ہاتھ کیوں نہیں ملاسکتے ۔اگریہ اکابرین اتحادی بن جائیں ، تو امریکی فسادی کو ختم کر سکتے ہیں ۔ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلیے تمام مکاتب فکر کو متحد ہو نا ہوگا ۔اظہار بخاری نے کہامجلس عمل بڑی طاقت تھی ، جوماضی میں لادینی سازشوں کا شکار ہوگی ، لیکن کیا فائدہ ایسی طاقت کا، جواپنوں کو منا سکے، نہ لادینی طاقتوں کا مقابلہ کر سکے ۔ اقتدار پر صرف دُنیا داروں کا نہیں ، دینداروں کا بھی حق ہے ۔قوم کی رہنمائی کرنے والے علماء کا منصب فساد نہیں ، اتحاد ہے۔آپس میں اتنا اختلاف نہ کریں ،کہ کل صلح کرتے وقت شرمندگی اُٹھانا پڑھے ۔ اکابرین علماء عہدوں سے بے نیاز ہوکرخلوص نیت کے ساتھ اسلام کی خدمت کیاکرتے تھے۔ آج ہم ذاتی مفاد کے استاد بن گئے ۔ متحدہ مجلس عمل کا اتحاد، لادینی طاقتوں کے خلاف ایکشن ہے ۔اسلام کی خدمت پارکوں میں نہیں ،پارلیمنٹ میں ہو سکتی ہے ۔لہذا اب ضرورت اس امر کی ہے ،کہ معتدل اور سُلجھے ہوئے علماء خاموش تماشائی بننے کی بجائے مجلس عمل کے رُوٹھے دوستوں میں صلح کرانے کیلیے میدان عمل میں آجائیں۔اتحاد کا بند اگر ٹوٹ گیا ، تو پھر لادین قوتوں کا سیلاب ہماری مذہبی ، نظریاتی روایات کو بہا کر لے جائیگا ۔

Bac

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -