فت پاتھ سکول کو منتقل کرنے سے سیکڑوں بچوں کا تعلیمی سال داؤ پر لگ گیا

فت پاتھ سکول کو منتقل کرنے سے سیکڑوں بچوں کا تعلیمی سال داؤ پر لگ گیا

  

کراچی (خصوصی رپورٹ) محکمہ تعلیم سندھ کا ایک اور کارنامہ فلاحی تنظیم کے فٹ پاتھ اسکول کو منتقل کرنے کیلئے گورنمنٹ گرلز بوائز پرائمری اسکول کھتری اسلامیہ کالونی کلفٹن میں زیرتعلیم سیکڑوں بچوں کا تعلیمی سال داؤ پرلگادیا۔ طلباء، اساتذہ ، طلباء کے والدین اور علاقہ مکین سڑکوں پر نکل آئے اور سندھ حکومت کے اس اقدام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دیدیا۔ پی پی رہنما نجمی عالم اپنی ہی پارٹی کی کاروائی پر سراپا احتجاج بنے افراد سے اظہار یکجہتی کیلئے ان کے پاس پہنچ گئے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز محکمہ تعلیم سندھ کے اہلکار اچانک گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول کھتری اسلامیہ کالونی کلفٹن پہنچ گئے اور اسکول میں منعقدہ سالانہ امتحانات دیتے ہوئے طلبا و طالبات سے اسکول خالی کرالیا جس پر اساتذہ نے انہیں آگاہ بھی کیا کہ بچوں کے پیپر ہورہے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر اسکول کو خالی کرکے فٹ پاتھ اسکول کو یہاں منتقل کیا جارہا ہے۔ جس پر اساتذہ ، طلباء والدین اور اہل علاقہ سڑکوں پر نکل آئے اور رسول کالونی اسٹریٹ 26 کے قریب احتجاجی دھرنا دیا۔ مظاہرین سے اظہار یکجہتی کیلئے پیپلز پارٹی کے رہنما نجمی عالم بھی پہنچ گئے۔ واضح رہے کہ متعلقہ اسکول اس وقت دو شفٹوں میں چار اسکول چل رہے ہیں جبکہ ایک فٹ پاتھ اسکول کو یہاں منتقل کرنے کیلئے تزین و آرائش کا کام جاری ہے۔ اس موقع پر اہل علاقہ کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ ایک فٹ پاتھ اسکول کو جگہ دے کر اسکول میں زیر تعلیم بچوں کو فٹ پاتھ پر لے آئے ہیں ، اب اس علاقہ میں ایک نہیں دو فٹ پاتھ اسکول چلیں گے۔ علاقہ مکینوں نے مزید بتایا کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کے آڑ میں علاقے کے بچوں کے تعلیمی مستقبل سے کھیلا جارہا ہے۔ اہل علاقہ کی جانب سے ایک خط چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کو بھی لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ رسول کالونی کلفٹن کے رہائشی مزدور ہیں اور اپنے بچوں کو بھاری فیسوں کے عوض نجی اسکولوں میں تعلیم نہیں دلواسکتے تاہم محلے میں واقع واحد گورنمنٹ بوائز ایلیمنٹری بوائز اسکول، اﷲ شاہ غازی رسول اور گورنمنٹ گرلز بوائز پرائمری اسکول کھتری اسلامیہ کالونی کلفٹن جس میں اہل علاقہ کے 450طلبا و طالبات زیرتعلیم ہیں۔ سندھ سرکار کی جانب سے اسکول ایک نجی فلاحی تنظیم کے تحت چلنے والے فٹ پاتھ اسکول کو دیا جارہے۔ اہل علاقہ کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -