”راﺅانوار کی سپریم کورٹ میں پیشی اچانک نہیں ہوئی بلکہ وہ ۔ ۔ ۔“ سینئر صحافی کا ایسا انکشاف کہ جان کر ہرپاکستانی دنگ رہ گیا، تمام اندازے غلط ثابت ہوگئے

”راﺅانوار کی سپریم کورٹ میں پیشی اچانک نہیں ہوئی بلکہ وہ ۔ ۔ ۔“ سینئر صحافی ...
”راﺅانوار کی سپریم کورٹ میں پیشی اچانک نہیں ہوئی بلکہ وہ ۔ ۔ ۔“ سینئر صحافی کا ایسا انکشاف کہ جان کر ہرپاکستانی دنگ رہ گیا، تمام اندازے غلط ثابت ہوگئے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق ایس ایس پی ملیر راﺅ انوار گزشتہ روز سپریم کورٹ پیش ہوگئے تھے جس پر کہاجارہاتھاکہ وہ اچانک پہنچے ہیں تاہم اب سینئر صحافی عمران وسیم نے انکشاف کیا کہ راﺅانوار کے عدالتی احاطہ میں داخلے سے نہیں لگتا کہ ان کی آمداچانک ہوئی ہے ، وہ کہیں نہ کہیں رابطے میں تھے، چاہے وہ سپریم کورٹ کا ہیومن رائٹس سیل یا اسلام آباد پولیس ہی کیوں نہ ہو، انتظامات بتاتے ہیں کہ ان کا کہیں نہ کہیں پہلے سے رابطہ اور آمد طے تھی ۔

دنیا نیوز کے پروگرام ’نقطہ نظر‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عمران وسیم نے بتایاکہ جب راﺅ عدالت پہنچے تو ان کے وکیل پہلے ہی پہنچے ہوئے تھے ،پیشی پر ججز کو بھی حیرانی نہیں ہوئی ، چیف جسٹس کے سامنے بٹھایاگیا، دائیں بائیں اور پیچھے پولیس اہلکار تھے، جس وقت راﺅانوار عدالت پہنچے ، اس وقت ٹیکس کے کیس کی سماعت تھی، چیف جسٹس نے صحافیوں کی طرف دیکھاتو چہرے پر خوشی اور مسرت کے آثار نمایاں تھے،شاید وہ اپنی کامیابی کا اظہار کررہے تھے ۔

نقیب اللہ محسود قتل کیس کی باری آئی توراﺅانوار آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ اور اسلام آباد پولیس کے افسروں کیساتھ روسٹرم پرآئے تو چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ بڑے بہاد ر تھے، اتنا عرصہ کہاں رہے ، راﺅانوار نے جواب دیا کہ وہ بے قصور ہیں جس پر چیف جسٹس کاکہناتھاکہ بے قصور تھے تو آناچاہیے تھا، وکیل نے کہاکہ خود کو سرنڈر کرتے ہیں لیکن پھر بھی چیف جسٹس نے اکاﺅنٹس بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ مفرور ملزم کو کوئی رعایت نہیں دے سکتے اور حفاظتی ضمانت کی درخواست مسترد کردی جس کے بعد پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔

مزید :

قومی -