فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر385

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر385
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر385

  

کھڑکی کے پیچھے ایک نوجوان کلین شیو کمپاؤنڈر بیٹھے ہوئے تھے اور سگریٹ پی رہے تھے۔ یہ دوسری حیرت تھی۔ خیر۔ ہم نے پرچی ان کے حوالے کی تو انہوں نے اس پر ایک نظر ڈالی۔ سگریٹ ایش ٹرے میں رکھی اور سفید کاغذ کے ایک پُرزے پر تھوڑا سا سفید رنگ کا سفوف انڈیل کر اس پر ایک اور شیشی میں سے چند قطرے ٹپکا دئیے۔ یہ ہمارا ہومیو پیتھک دوائی استعمال کرنے کا پہلا موقع تھا اور ہم اس طریقۂ علاج کے رموز و اسرار سے قطعی واقف نہ تھے۔

انہوں نے اس کاغذ کو پڑیا بنانے کے لیے موڑا توڑا مگر بند کرنے کے بجائے ہماری جانب ہاتھ بڑھا کر بولے ’’منہ کھولیں۔‘‘

ہم نے منہ کھول دیا۔ انہوں نے وہ سفوف ہماری زبان پر ڈال دیا۔ وہ میٹھا تھا مگر دوائی کے قطروں میں تیزی تھی۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر384 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

بولے ’’اب دس پندرہ منٹ تک کچھ نہ کھانا۔‘‘

ہم نے سر ہلا کر اتفاق کیا اور پوچھا ’’کتنے پیسے؟‘‘

بولے ’’وہ اُدھر۔ ڈاکٹر صاحب کو دے دیں۔‘‘

ہم دوبارہ ڈاکٹر صاحب کے پاس پہنچ گئے ’’ڈاکٹر صاحب! کتنے پیسے ہوئے؟‘‘

وہ انگلیوں سے داڑھی میں کنگھی کرتے ہوئے بولے ’’آٹھ آنے۔‘‘

ہم نے آٹھ آنے نکال کر پیش کردئیے۔

بولے ’’اور دیکھو۔ اب آٹھ دن تک شکل نہ دکھانا۔‘‘

’’جی !‘‘ ہم نے حیران ہوکر انہیں دیکھا۔

ان کے حقّہ نوش دوست نے کہا ’’پُتر! یہ آٹھ دن کی دوائی ہے۔ اب تم جاؤ۔ آٹھویں دن آجانا۔‘‘

ہم بہت حیران ہوئے کہ صرف ایک ہی پُڑیا کھلا کر آٹھ دن کے لیے فارغ کردیا۔ آٹھ دن کی دوائی کی قیمت آٹھ آنے اس وقت بھی بہت کم لگی۔

ہم وہاں سے آ تو گئے مگر ڈاکٹر صاحب سے بالکل متاثّر نہ ہوئے۔ سوچا یہ بھی کوئی ڈاکٹر ہیں اور یہ بھی کوئی طریقہ علاج ہے۔ جادو ٹونا لگتا ہے۔ کسی اور ڈاکٹر حکیم کے پاس جانا پڑے گا۔

دفتر آکر کام میں مصروف ہوگئے۔ دوسرے دن صبح آنکھ کھلی تو پیٹ پھوڑے کی طرح دُکھ رہا تھا۔ تکلیف نے ہمیں بے چین کررکھا تھا۔ بڑی مشکل سے امّاں سے یہ بات پوشیدہ رکھی ورنہ وہ ان گنت فضیحتے کرتیں اور فوراً ڈاکٹر اکرم کے پاس جانے کا مشورہ دے دیتیں۔

دفتر پہنچے تو پیٹ کی تکلیف اور زیادہ بڑھ گئی تھی۔ ڈاکٹر صاحب پر بہت غصّہ آیا کہ خدا جانے کیا دوائی دے دی ہے کہ فائدے کے بجائے نقصان ہوگیا۔ سوچا کہ ڈاکٹر صاحب کے پاس جاکر انہیں یہ صورت حال بتاکر شرمندہ تو کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر صاحب کی دکان میں وہی کل والا نقشہ تھا۔ وہی بزرگ اسی طرح بیٹھے حقّہ پینے میں مصروف تھے۔ لگتا تھا جیسے وقت تھم گیا ہے۔ سب کچھ ویسا کا ویسا ہی رہ گیا ہے۔

ہم غصّے میں ایک سیڑھی چڑھ کر ڈاکٹر صاحب کے پاس چلے گئے۔ کہنا تو بہت کچھ چاہا مگر ڈاکٹر صاحب کو دیکھا تو غصّہ دودھ کے اُبال کی طرح بیٹھ کر رہ گیا۔ جھگڑا کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ پھر بھی ہم نے ناراضگی سے کہا ’’ڈاکٹر صاحب! آپ کی دوا سے تو تکلیف اور بڑھ گئی ہے۔ میرا پیٹ پھوڑے کی طرح دُکھ رہا ہے۔ اب کیا ہوگا؟‘‘

ڈاکٹر صاحب نے ایک نگاہ ہم پر ڈالی پھرڈاڑھی میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بڑے اطمینان سے فرمایا’’ہوگا کیا، پیٹ پھٹ جائے گا۔ تم مرجاؤ گے۔‘‘

ہم نے چونک کر انہیں دیکھا۔ غصّہ دوبارہ آنے لگا۔ مگر ہمارے بولنے سے پہلے حقّہ نوش بزرگ بولے۔ ’’پُتر۔ کوئی فکر کی لوڑ نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں صحیح دوائی دی ہے۔ اب تم جاؤ۔ سات دن بعد آنا۔ جاؤ۔ شاباش میرا پُتر‘‘۔

یہ صاحب ڈاکٹر صاحب کے سرکاری ترجمان تھے۔ ان کا لہجہ اس قدر مشفقانہ اور بزرگانہ تھا کہ ہم پھر غصّہ نہ کرسکے۔ ڈاکٹر صاحب کو گھورکر رہ گئے۔ پھر خاموشی سے چلے آئے۔

کسی ڈاکٹر کے پاس جانے کا وقت بھی نہ ملا۔ ڈاکٹر اقبال بھی بیڈن روڈ پر ہی ہوتے تھے مگر ہم ان سے علاج نہیں کرانا چاہتے تھے۔ اس لیے ایک اور دن گزر گیا۔

تیسرے دن صبح محسوس ہوا کہ پیٹ کی تکلیف میں کچھ کمی ہے۔ چوتھے دن مزید بہتری ہوگئی۔ ساتویں دن تو دکھ درد سب جاتا رہا تھا۔ بھوک بھی بہتر ہوگئی تھی جس کی وجہ سے امّاں ناشتے کے وقت کچھ خوش خوش نظر آئیں۔ 

ڈاکٹر صاحب کے پاس جاکر ہم نے انہیں تمام احوال سنایا۔ ان کے دوست اسی طرح بیٹھے حقّہ پی رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے ہماری بات پوری ہونے سے پیش تر ہی کاغذ کے ایک پُرزے پر کچھ لکھ کر دے دیا اور ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ دفع ہوجاؤ۔ کمپاؤنڈر سے جاکر دوائی لے لو۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر386 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -