وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 11ویں قسط

وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 11ویں قسط
وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 11ویں قسط

  

فواد کو چار سال کی عمر سے ہی بورڈنگ ہاؤس میں ڈال دیا گیا تھا۔

خیام بھی اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اس کے والد شہر کے مشہور سرجن تھے۔ ڈاکٹر زبیر اور اس کی بیوی ماہین نے خیام کی پرورش میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی مگر جس راستے پر خیام چل پڑا تھا وہ سب اس کے والدین ماننے کو تیار نہیں تھے۔ خیام کی گمشدگی کے بعد ان کا جیسے سب چکھ ہی لٹ گیا تھا۔ عیش و آرام بھی ان کے لیے سزا بن کے رہ گیا تھا کہ نہ جانے ان کا بیٹا کس حال میں ہوگا۔وہ خیام کے گمراہ ہونے کی وجہ اس کی صحبت کو ہی جان رہے تھے یا پھر کوئی ایسی وجہ تھی جن سے وہ غافل تے۔

اس سانحہ کو پورا ایک سال گزر گیا۔ کسی کے جانے کے بعد معمولات کے کام نہیں رکتے۔ وقت کے بے لگام اسپ پر سواری کرنا ہی پڑتی ہے۔

وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 10ویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

وقت غموں اور خوشیوں کے لمحوں کو سینچتا ہوا نہ جانے کب گزر گیا۔ آنکھوں سے بہنے والے اشک نہ جانے کیسے تھم گئے۔ کسی کے نام سے دھڑکنے والے دل کسی کے بغیر بھی دھڑکتے رہے۔

یہ ساری گہما گہمی اس سناٹے کو ختم نہ کر سکی جو اکلوتی اولاد کے جانے کے بعد گھروں میں ٹھہر گیا، امیدیں مایوسی میں بدل گئیں کوششیں دم توڑ گئیں۔

چار گھروں کا عمر بھر کا خزانہ لٹ گیا۔

***

را کے سناٹے میں جب سب لوگ گہری نیند سو رہے تھے۔ جب رات کو دیوی کی سیاہ زلفوں پر جگمگاتی روشنیاں ٹمٹمانے لگی تھیں تب شہر کا ایک حصہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ جہاں زندگی کا سورج طلوع نہیں ہوتا۔ جہاں موت کا راج ہے۔ جہاں مردہ جسم تو ابدی نیند سو رہے ہیں مگر ان کی ارواح اسی قبرستان میں بھٹک رہی ہیں۔ 

کوئی اہل دل سنے تو روح فرسا سناٹے میں کسی کے سسکنے کی یا غموں میں ڈوبے قہقہوں کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ جیسے کوئی اُس مان پر ہنس رہا ہو جو اسے اپنی زندگی پر تھا۔

رات بارہ بجے کے بعد اس نے سناٹے میں مہین سی آوازیں کئی راز افشاں کرتی ہیں۔ کئی قبروں کے کتبے نہیں ہیں اور کئی قبریں نیست و نابود ہو چکی ہیں اسی اندوہناک وادی میں کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دیتی ہے۔

قدموں کی آہٹ واضح ہوتی جا رہی ہے مگر کوئی وجود نمایاں نہیں ہوتا۔ پھر انتہائی پرانی خستہ حال قبروں کی طرف کوئی بڑھتا ہے۔ رات کی سیاہی میں اس کا سراپا وجود بہت مدھم تھا۔

اس نے دیا جلایا تو اس سیاہ پوش کا معمولی سا خاکہ دکھائی دیا۔ اس نے جلا ہوا چراغ اس پرانی قبر کے قریب رکھ دیا۔ اسی طرح اس نے چراغ دوسری قبر کے قریب کر دیا۔ دو زانو بیٹھ گیا اور کسی منتر کا جاپ کرنے لگا۔ وہ تقریباً آدھا گھنٹہ اسی کیفیت میں رہا پھر وہ وہاں سے چلا گیا۔

اس کے جانے کے بیس منٹ کے بعد وہ دونوں قبریں ایک دھماکے کے ساتھ پھٹیں۔ جن قبروں میں ڈھانچے بھی گل سڑک چکے تھے۔ ان میں سے جیتے جاگتے انسانوں کے سے وجود نمایاں ہوئے اور پھر ان کے منخنی وجود ہوا میں تحلیل ہوگئے۔

***

حوریہ کے والد توقیر کے دوست کی جوان بیٹی کا انتقال ہوگیا۔ حوریہ کی والدہ رخسانہ تعزیت کے لیے ان کے گھر گئیں۔

میت صحن کے وسط میں رکھی ہوئی تھی۔ لڑکی کی ماں اور بہنیں رو رو کے بے حال ہو رہی تھیں۔رخسانہ نے انہیں دلاسہ دینے کی بہت کوشش کی مگر وہ غم سے نڈھال تھیں۔

رخسانہ میت کے قریب بیٹھ گئی۔ اس نے مری ہوئی لڑکی کا چہرہ دیکھا تو ایک تکلیف دہ احساس نے اس کا سینہ چیر کے رکھ دیا۔ اسے حوریہ کا خیال آیا کہ نہ جانے وہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔

وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اس نے ممتا کے پیار سے بھری آنکھوں سے اس لڑکی کی طرف دیکھا اور اپنا ہاتھ اس کی پیشانی پر رکھ دیا۔ اس کی نظریں اس لڑکی کے چہرے پر ٹھہر گئیں۔ رخسانہ کو محسوس ہوا کہ لڑکی کے سر نے حرکت کی ہے۔ اس کے جسم میں تھر تھراہٹ دوڑ گئی۔ اس نے خوفزدہ ہو کے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔

مردہ لڑکی نے اپنے اکڑے ہوئے چہرے اور ساکت آنکھوں کے ساتھ رخسانہ کی طرف دیکھا۔ اس کی سرد آنکھیں رخسانہ کے چہرے پر گڑی ہوئی تھیں۔ اس کے خشک سلیٹی مائل لبوں میں جنبش ہوئی۔ وہ حوریہ کی آواز میں بولی۔

’’مما ! کہاں ڈھونڈوگی مجھے، زندوں میں یا مردوں میں، آسمان میں یا زمین میں۔۔۔‘‘ جس کے ساتھ ہی جھٹکے سے اس نے اپنا سر سیدھا کر لیا۔

رخسانہ کے جسم پر کپکپی طاری ہوگئی۔ وہ چیخنے لگی۔’’حوریہ! کہاں ہو تم، اس نے مجھ سے حوریہ کی آواز میں بات کی ہے۔‘‘ وہ لاش کے قریب ہونے لگی تو دو عورتوں نے اسے پکڑ لیا۔

’’بیٹی کی جدائی نے اس کے دماغ پر اثر ڈال دیا ہے۔ ہم سب یہاں بیٹھے ہیں اور یہ کہہ رہی ہے کہ میت نے اس سے بات کی ہے۔‘‘

رخسانہ رو رو کے بتانے لگی’’میرا یقین کریں، اس نے مجھ سے حوریہ کی آواز میں بات کی ہے۔‘‘ لڑکی کی ماں نے رخسانہ کی حالت دیکھی تو توقیر کو بلا لیا۔

توقیر، رخسانہ کو اٹھانے لگا تو وہ لاش کے پاس جم کے بیٹھ گئی۔’’میں یہاں سے نہیں جاؤں گی۔‘‘

توقیر اسے زبردستی وہاں سے گھر لے آیا۔ گھر آنے کے بعد بھی وہ یہی کہتی رہی کہ میت نے اس سے بات کی تھی مگر کوئی بھی اس کی بات ماننے کو تیار نہیں تھا۔

حوریہ کی والدہ رخسانہ اس واقعے کے بعد بہت خوفزدہ ہوگئی ، عجیب عجیب سے واہمے اس کے سینے پر خنجر گھونپنے لگے۔’’ایک روح ہی مردہ جسم میں سرایت کر سکتی ہے۔ نہ تو مردہ بول سکتا ہے اور نہ ہی ایک زندہ انسان مردے میں سرایت کر سکتا ہے۔ کہیں میری حوریہ۔۔۔‘‘

اس خیال سے وہ کانپ اٹھی۔ ’’نہیں میری حوریہ کو کچھ نہیں ہوسکتا۔ وہ ضرور واپس آئے گی۔‘‘ اس نے اگلے روز ہی گھر میں قرآن خوانی کا اہتمام کیا۔ قرآن خوانی میں اس نے وشاء، فواد اور خیام کے گھر والوں کو بھی بلایا۔

وشاء کے گھر سے کوئی نہیں آیا مگر خیام اور فواد کے گھر سے ان دونوں کی والدہ آئی تھیں۔ جو خود غم سے نڈھال تھیں۔وہ بھی اس مذہبی تقریب میں شامل ہو کے اپنے غموں کا مداوا کرنے لگیں۔ درس دینے والی عورت قرآن پاک کی آیتوں کے ترجمے کی تفسیر کرتے ہوئے عورتوں کو سنت رسول صلی اللہ علی وسلم پر عمل کرنے کی ہدایت دے رہی تھی۔ اس کے درس کا موضوع فانی زندگی سے جب ابدی زندگی کی طرف گیا تو وہ موت کے بعد کے تلخ حقائق بیان کرنے لگی۔

فواد کی والدہ ایمن اور خیام کی والدہ ماہین تو زار و قطار رو رہی تھیں۔

خوف میں پس پردہ ایک احساس جسے ان کا دل ماننے کو تیار نہیں تھا، انہیں رلا رہا تھا۔ ایسی ہی حالت رخسانہ کی بھی تھی۔(جاری ہے )

وہ کون تھا ؟ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی ۔ ۔ ۔ 12 ویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -وہ کون تھا ؟ -