سفارتی سطح پر تنہائی کا ذمہ دار کون ؟؟؟

سفارتی سطح پر تنہائی کا ذمہ دار کون ؟؟؟
سفارتی سطح پر تنہائی کا ذمہ دار کون ؟؟؟

  

حال ہی میں پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کو دہشتگرد ریاست ہونے    کے الزام میں جون سے گرے لسٹ میں ڈالنے کی تجویز زیر غور آئی  ہے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کا دعویٰ ہے کہ ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا , تاہم آزاد بین الاقوامی میڈیا نے اس کی تصدیق کی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چین ,ترکی اور گلف کونسل نے اس تجویز پر جو اعتراضات اٹھائے تھے وہ واپس لے لیے گئے ۔گویا ہم دہشت گردریاست قرار پائے ۔ جس کی ذمہ داری حکومت کی ناقص خارجہ پالیسی اور کمزور سفارتکاری پر عائد ہوتی ہے۔

سوال ہے کہ آخر وہ کون سی نامعلوم وجوہات ہیں , جن کی بناء پر ہم دنیا کو یہ باور کروانے میں ناکام رہے کہ ہم خود دہشتگردی کا شکار ہیں , ہمارے پچاس ہزار سے زائد شہری اور فوجی دہشتگردی کا نشانہ بنے اور ہم اپنی سرزمین سے اس ناسور کا کامیابی سے خاتمہ کر رہے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف آپریشن راہ راست , آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کی کامیابیاں اوجھل کیوں ہیں؟؟؟دنیا متعرف کیوں نہیں ہے؟؟؟؟؟؟؟؟

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی موجودگی میں افغانستان کی سرزمین پاکستان کےخلاف  کیسے استعمال ہو رہی ہے۔ افغانستان کی سرزمین سے پاکستانی شہریوں اور افواج پر حملے ہو رہے ہیں۔ امریکی ڈرون حملے پاکستان کی علاقائی خود مختاری کی خلاف ورزی ہیں , جن میں ہر سال   پاکستانی شہری لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ مگر پھر بھی ہم ہی دہشتگرد کیوں ؟؟؟؟ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو پکڑا جاتاہے اور بلوچستان میں را کے ہاتھوں پاکستانی شہریوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنانے اور بلوچ علیحدگی پسندوں کی مدد کا اعتراف کرتاہے۔  ہمیں ایسے ثبوت ملتے ہیں کہ امریکی سی آئی اے , بھارتی را اور افغان این ڈی ایس مشترکہ طور پر افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے آئی ایس آئی کے خلاف پراکسی وار لڑ رہے ہیں۔ را نے سالہاسال پاکستان کے معاشی حب کراچی کا امن تباہ کیے رکھا۔ ڈی  جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف  غفور کے مطابق  باجوڑ میں فورسزکودہشت گردوں   کےکمپاونڈز سے بھارتی کرنسی اور ادوایات ملیں ۔

دراصل اس وقت ہم ایک ان ڈائریکٹ ففتھ جنریشن وار کے نشانے پر ہیں , جس کا سب سے شاطرانہ مہرہ سفارتکاری ہے۔ حکومت نے یہ تمام حقائق جانتے ہوئے بھی عالمی سطح پر پاکستان کا مقدمہ نہیں لڑا  اور جان بوجھ کر اس بھارتی بیانیے کو کامیابی کا موقع دیا کہ پاکستان دہشتگرد ہے۔ نواز شریف کی مودی سے دوستی , بھارت اور اسرائیل سے کاروباری روابط اور انکی شو گر ملوں سے مبینہ بھارتی را ایجنٹوں کی گرفتاری لمحہ فکریہ ہے۔ دوسری جانب مودی سرکار نے  سعودی عرب , متحدہ عرب امارات , ترکی ودیگر ممالک میں پاکستان مخالف بیانیہ نہ صرف کامیابی سے بیچا بلکہ چاہ بہار بندرگاہ منصوبے میں ایران سے تعاون کرکے سی پیک پر مہلک ترین وار کیا ہے۔ پاکستانی حکمرانوں نے خود عالمی سطح پر تنہائی کے بیج   بوئے۔ حسین حقانی جیسے شخص کو امریکہ میں سفیر مقرر کیا گیا جو کہ کام امریکہ کےلیے کرتا تھا۔ پھر طارق فاطمی جیسے ملکی سلامتی کے  کمزورانسان  کے ہاتھ میں خارجہ پالیسی کی باگ ڈور دے دی گئی ۔ اور اب علی جہانگیر صدیقی کو امریکہ کےلیے پاکستان کا سفیر نامزد کر دیا گیا, جس کا  نام  پانامہ پیپرز میں بھی آیا اور موصوف کو سفارتکاری کا کوئی تجربہ ہی نہیں۔

مری میں سجن جندال سے ملاقات کا ایجنڈا بھی تاحال ایک  معمہ  ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ کلبھوشن یادو کا معاملہ اور مسئلہ کشمیر کو عالمی فورمز پر اٹھانے کی ضرورت ہے , افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کے خلاف سخت مئوقف اپنانے کی ضرورت ہے , ٹرمپ انتظامیہ کے ڈومور کے مطالبات پر کرارا جواب دینے کی ضرورت ہے , ڈرون حملے روکنے کےلیے عملی اقدامات کی ضرورت ہےمگر  ہمارے حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ جانی و مالی قربانیاں دینے والا پاکستان آج عالمی سطح پر دہشتگرد ریاست قرار دیا جا رہاہے۔

کیا ہی عجیب مذاق ہے کہ ففتھ جنریشن وار کے اس مہلک سفارتی ہتھیار کا مقابلہ کرنے کی بجائے ہمارے حکمران اپنی بدعنوانی سے لوٹی ہوئی دولت اور اپنے سیاسی مفادات بچانے کی فکر میں ہیں۔ دشمن ملک بھارت کھل کر بلوچستان الگ  کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے تو امریکہ حیلے بہانے  بنا کر پاکستان کی سرزمین کے اندر  کارروائی کی دھمکیاں دے رہا ہے, مگر بجائے سخت مئوقف اپنانے کے خواجہ آصف امریکہ جا کر بھیگی بلی بن جاتے ہیں , اتنا کہنے کی ہمت نہیں کہ جناب کونسا حقانی نیٹ ورک ؟کہاں کا حقانی نیٹ ورک؟ پاکستان مسلسل شدید ترین سفارتی تنہائی کا شکار ہورہا ہے جس کے ذمّہ دار ہمارے حکمران ہیں , بولتے ہیں تو صرف اپنے جرائم چھپانے کےلیے اور سرگرم ہوتے ہیں تو  اپنی سیاست  بچانے کےلیے۔ ہمارے حکمرانوں کا یہ رویہ ملک دشمنی نہیں تو اور کیا ہے؟؟؟ پاکستان کا سرمایہ باہر لے جانے والے حکمران ملک وقوم کے وفادار کبھی نہیں ہو سکتے۔ جن کے بچوں پر پاکستانی قانون لاگو نہیں ہوتا , جن کے بچے پاکستانی کہلانا اورپاکستان میں رہنا پسند نہیں کرتے تو ایسے حکمرانوں سے وطن پرستی کی امید رکھنا  بے سود ہے ۔ عوام ملک دشمن حکمرانوں کو   اقتدار کے ایونوں سےنکال سکتےہیں۔

خدارا اپنا ووٹ سوچ سمجھ کراستعمال کریں ۔ووٹ   اس ملک دشمن سیاسی مافیا کودے کراپنےضمیرکاسودا پکی نالی اورسڑک یا برادری کے عوض نہ 

 کریں کیونکہ ملکی سلامتی  مقدم ہونی چاہیے ۔ ملکی سالمیت و وقار کا تحفظ ہرمحب وطن پاکستانی  کی   اولین ترجیح ہونی چاہیے ۔ 

....

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

  

مزید :

بلاگ -