چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ،جماعت اسلامی نے مسلم لیگ ن کے امیدوار راجہ ظفر الحق کو ووٹ کیوں دیئے ؟ایسا خفیہ معاہدہ سامنے آ گیا کہ تحریک انصاف سمیت ہر کوئی حیران رہ جائے گا 

چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ،جماعت اسلامی نے مسلم لیگ ن کے امیدوار راجہ ظفر الحق ...
چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ،جماعت اسلامی نے مسلم لیگ ن کے امیدوار راجہ ظفر الحق کو ووٹ کیوں دیئے ؟ایسا خفیہ معاہدہ سامنے آ گیا کہ تحریک انصاف سمیت ہر کوئی حیران رہ جائے گا 

  

لاہور(خالد شہزاد فاروقی) چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں بلوچستان سے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار صادق سنجرانی کے چیئرمین اور سلیم مانڈوی والا کے ڈپٹی چیئرمین منتخب ہونے کے بعد سے لیکر اب تک ملک بھر میں سینیٹ ووٹوں کی خرید فروخت کے حوالے سے الزامات کا نہ تھمنے والا سلسلہ مسلسل جاری ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی جماعت اسلامی کے دو سینیٹرز سراج الحق اور مشتاق احمد خان کےحکمران جماعت کے امیدوار راجہ ظفر الحق کوووٹ دینے پر سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت اسلامی نے بھی ذاتی مفادات کے لئے اپنے ووٹ مسلم لیگ نون کے امیدوار کو دیئے تاہم اب مسلم لیگ نون اور جماعت اسلامی پاکستان کے درمیان چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لئے ہونے والے خفیہ معاہدے کی کاپی سامنے آ گئی ہے ، جماعت اسلامی نے مسلم لیگ نون کو چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں اپنے2 ووٹ کن شرائط کی بنیاد پر دیئے تھے ؟ایسی تفصیلات سامنے آ گئیں کہ جماعت اسلامی اور مسلم لیگ ن پر تنقید کرنے والے حیران رہ جائیں گے ،معاہدے پر دونوں جماعتوں کے مرکزی قائدین نے دستخط کئے،واضح رہے کہ اس معاہدے سے قبل وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے رات ایک بجے کے بعد اسلام آباد میں امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق سے خفیہ ملاقات بھی کی تھی جو ایک گھنٹہ سے زائد وقت تک جاری رہی اور اس ملاقات کے بعد سراج الحق نے جماعت اسلامی کے دیگر ذمہ داران سے مشاورت کے بعد  چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں مسلم لیگ ن کے امیدوار راجہ ظفر الحق کی حمایت کا فیصلہ کیا تھا ۔  

تفصیلات کے مطابق گذشتہ دنوں چیئرمین سینیٹ کے انتخاب پر اراکین سینیٹ کے ووٹ کروڑوں روپے دے کر خریدنے کے الزامات کی گرد اب بھی دھول اڑا رہی ہے ،سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے والی پیپلز پارٹی کے سوا تمام سیاسی و مذہبی جماعتیںایک دوسرے پر” ووٹوں کی خرید و فروخت “ کا الزام اور  واویلا مچا رہی ہیں جبکہ کئی جماعتوں نے تو  اس حوالے سے اپنے’’مشکوک‘‘ اراکین کی تحقیقات کرانے اور الیکشن کمیشن سے بھی رجوع کرنے کا عندیہ دیا ہے ۔خیبر پختون خواہ  میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی گذشتہ ساڑھے چار سال سے بڑی اتحادی”جماعت اسلامی “نے صوبے میں اپنی پارٹنر تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار کو ووٹ دینے کی بجائے مرکز میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے امیدوار راجہ ظفر الحق کو ووٹ دینے کا اعلان کیا تو سب سے زیادہ تنقید بھی سراج الحق کے حصے میں آئی اور سوشل میڈیا سمیت الیکٹرانک میڈیا میں تجزیہ نگاروں نے جماعت اسلامی کی قیادت پر بھی ووٹ بیچنے اور مسلم لیگ ن سے مفادات سمیٹنے کے الزامات لگاتے ہوئے رکیک حملے کئے گئے تاہم اب روزنامہ ”پاکستان “ نے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے موقع پر ملک کی 2 بڑی حریف جماعتوں مسلم لیگ ن اور جماعت اسلامی کے درمیان ہونے والے معاہدے کی کاپی حاصل کر لی ہے جس کے مطابق جماعت اسلامی نے مسلم لیگ ن سے ملک میں آئین کے آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ،اسلامی قوانین اور قانون عقیدہ ختم نبوت میں چھیڑ چھاڑ نہ کرنے ،فاٹا انضمام اور اس کی ترقی ،مسئلہ کشمیر پر کشمیریوں کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کو ریاستی پالیسی کی اہم ترین بنیاد قرار دینے کی شرائط پر راجہ ظفر الحق کو اپنے 2ووٹ دینے کا معاہدہ کیا تھا۔مسلم لیگ نون اور جماعت اسلامی کے درمیان ہونے والےاس معاہدے پر راجہ ظفر الحق ،امیر مقام ،سینیٹر مشاہد حسین سید،سینیٹرسراج الحق،خواجہ سعد رفیق،اقبال ظفر جھگڑا،لیاقت بلوچ، صاحبزادہ طارق اللہ اور سینیٹر مشتاق احمد خان نے دستخط کئے ۔ دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والے معاہدے میں مکمل شرائط کچھ یوں تھیں !

1۔آئین پاکستان کی اسلامی حیثیت و شناخت اور اسلامی دفعات کو کسی صورت بھی چھیڑا نہیں جائے گا اور آئین پاکستان میں سے پاکستان کی اسلامی حیثیت بشمول قرار داد مقاصد،پالیسی کے اصول بنیادی حقوق آرٹیکل 31 وفاقی شرعی عدالت۔اسلامی نظریاتی کونسل، صدر ،وزیراعظم ودیگر کے حلف نامے، قرآن و سنت کے منافی قانون سازی پر پابندی وغیرہ، سےمتعلق آرٹیکلز میں معمولی ساردوبدل بھی ناقابل قبول ہوگا۔

2۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی آئینی دفعات اور تمام قوانین کا مکمل تحفظ کیا جائے گا اور پارلیمانی اصلاحات کے موقع پر عقیدہ ختم نبوت سےمتعلق حلف نامہ ودیگر قوانین میں تبدیلی کرنے والے عناصر کا قانونی مواخذہ و محاسبہ کیا جائے گا۔

3۔ ناموس رسالت کے قوانین میں ردوبدل کے سلسلہ میں ہر طرح کے بیرونی دباﺅ کا مل کر مقابلہ کریں گے اور قوانین میں کسی بھی درجہ میں کو ئی معمولی سی بھی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

4۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 62-63 بالخصوص ممبر پارلیمنٹ کے لئے صادق و امین ہونے اور فرائض کا پابند کبائر سے مجتنب ہونے سے متعلق دفعات کو کسی صورت بھی چھیڑا نہیں جائے گا اور نہ ان دفعات کو سیاسی طور پر استعمال کیا جائے گا۔

5۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر میں رائے شماری، کشمیر کی آزادی اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کی لازوال جدوجہد آزادی کی غیر مشروط حمایت ریاستی پالیسی کی اہم ترین بنیاد ہوگی۔

6۔ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں ا نضمام اور فاٹا کے عوام کے ہمہ پہلو ترقی کے لئے میگا ترقیاتی پروجیکٹ کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں گے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -