بیوروکریسی سیاسی آقاﺅں کی غلام ہے ،پارک بحالی کی رقم اسحاق ڈار سے لیں گے ،چیف جسٹس پاکستان

بیوروکریسی سیاسی آقاﺅں کی غلام ہے ،پارک بحالی کی رقم اسحاق ڈار سے لیں گے ...
بیوروکریسی سیاسی آقاﺅں کی غلام ہے ،پارک بحالی کی رقم اسحاق ڈار سے لیں گے ،چیف جسٹس پاکستان

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار، مسٹر جسٹس عمر عطاءبندیال اور مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3رکنی بنچ نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے گھر کے باہرپارک کی اراضی سڑک میں شامل کرنے کے خلاف ازخود نوٹس کیس میں10یوم میں پارک اصل حالت میں بحال کرنے کا حکم جاری کردیا، دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سڑک کی تعمیر اور پارک کی بحالی کی رقم اسحاق ڈار سے وصول کی جائے گی۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

عدالت نے اسحاق ڈار اور ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے کو نوٹس بھی جاری کردیئے ہیں جبکہ اسحاق ڈار کے طلبی کے نوٹسوں کی بابت اخبار میں اشتہار دینے کی ہدایت بھی کی ہے ۔عدالت نے معاملہ نیب کو بھیجنے کی بات کی توڈی جی ایل ڈی اے منت سماجت پر اتر آئے ،چیف جسٹس نے ڈ ی جی ایل ڈی اے زاہد اخترزمان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ سیاسی آقاﺅں کے غلام بنے ہوئے ہیں ۔آپ کیسے افسر ہیں کہ ایک وزیر کے زبان ہلانے پر پارک اکھاڑدیا ،اس سے قبل ڈی جی ایل ڈی اے نے عدالت کے استفسار پربتایا کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پارکنگ کے لئے سڑک کھلی کرنے کی ہدایت کی تھی۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیاسابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے تحریری طور پر ہدایت کی تھی جس پر ڈی جی ایل ڈی اے نے نفی میں جواب دیا اور بتایا کہ زبانی طور پر فون کر کے سڑک بنانے کے لئے کہا گیا تھا، چیف جسٹس نے سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ بیوروکریسی سیاسی آقاﺅں کے غلام بن کر رہ گئی ہے،چیف جسٹس نے مزیدریمارکس دیئے کہ آپ کس طرح کے آفیسر ہیں،وزیر کی زبان ہلانے پر پارک کو اکھاڑ دیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے ڈی ایل ڈی اے کو باور کرایا کہ اس کی سزا بھگتناہو گی، اقربا پر وری نہیں چلنے دیں گے ،کیوں نہ معاملہ کو نیب کے سپرد کیا جائے،ڈی جی ایل ڈی اے نے کہا کہ میں نے صرف ٹیپا کو اسحاق ڈار کے گھر کے قریب پارکنگ کا مسئلہ حل کرنے کا کہا تھا،انہوں نے استدعا کی کہ مقدمہ نیب کو نہ بھیجا جائے ،مجھے معاف کر دیا جائے، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ غلط بیانی کر رہے، میرے پاس آپ کے اعتراف کرنے کی ریکارڈنگ موجود ہے ،اب آپ ہڑتال کریں گے، جب آپ لوگوں کا مقدمہ نیب کو جاتا ہے تو سب ہڑتال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدالت سے معافی کا وقت گزر گیا،آپ وزیروں کے غلام بن چکے ہیں ،ڈی جی ایل ڈی اے نے کہا کہ میری غلطی نہیں ہے ،مجھے معاف کردیں جس پر مسٹر جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا کہ اگر ہم نے یہ کیس نیب کو نہ بھیجا تو پھر یہ روایت بن سکتی ہے ۔ڈی جی ایل ڈی نے کہا پلیز مجھے معاف کردیں ،جس پر جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہا کہ آپ پہلے پارک کو اصلی شکل میں بحال کریں ،پھر دیکھیں گے ۔ عدالت نے 10 یوم میں پارک بحالی کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت7اپریل تک ملتوی کردی ۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -