سندھ حکومت کی اپیل ،اے ڈی خواجہ کے حق میں عبوری حکم امتناعی دونوں خارج ،سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کو نئی قانون سازی کی اجازت دے دی

سندھ حکومت کی اپیل ،اے ڈی خواجہ کے حق میں عبوری حکم امتناعی دونوں خارج ،سپریم ...
سندھ حکومت کی اپیل ،اے ڈی خواجہ کے حق میں عبوری حکم امتناعی دونوں خارج ،سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کو نئی قانون سازی کی اجازت دے دی

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس عمرعطا ءبندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3رکنی بنچ نے پولیس میں تبادلوں اور تعیناتیوں سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سندھ حکومت کی اپیل خارج کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقراررکھاتاہم سپریم کورٹ نے قراردیا ہے کہ سندھ حکومت جدید تقاضوں کے مطابق اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پولیس کے حوالے سے نئے قوانین بنانے میں آزاد ہے ۔

عدالت نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کے تبادلے کے خلاف اپناعبوری حکم امتناعی بھی غیر موثر قرار دے دیا ہے ۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ سندھ حکومت کے پاس قانون سازی کا اختیار ہے ،سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کی راہنمائی میں قانون سازی کی جاسکتی ہے ۔سپریم کورٹ نے قراردیا کہ اپیل خارج ہونے کے بعد اے ڈی خواجہ کے تبادلہ کے خلاف 18جنوری 2018ءکو جاری کیا گیاعبوری حکم امتناعی اب نافذ العمل نہیں رہا۔حکم امتناعی کے خاتمہ کے بعد سندھ حکومت کو انہیںمروجہ قانون کے مطابق تبدیل کرنے کا اختیار مل گیا ہے ۔سندھ حکومت نے پولیس آرڈر2002ءکو تحلیل کرکے پولیس ایکٹ 1861ءکو بحال کردیا تھا ،پولیس آرڈر2002ءکے تحت آئی جی کے تقرر کے لئے وفاق سے مشاورت ضروری ہے جبکہ پولیس ایکٹ میںصوبے پر ایسی کوئی قدغن نہیں لگائی گئی ،اس کے خلاف سندھ ہائی کورٹ نے پولیس کے معاملات سے متعلق صوبہ کی قانون سازی کے اختیار کوتسلیم کیا تھاتاہم پولیس کے ترمیمی قانون کے بعض معاملات پر عمل درآمد روک دیا تھا ۔

سندھ ہائی کورٹ نے پولیس افسروں کے تبادلوں کے حوالے سے راہنما اصول بھی فراہم کئے تھے ،جس کے خلاف سندھ حکومت نے سپریم کورٹ میں یہ اپیل دائر کی تھی ۔سندھ ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ نے بھی اے ڈی خواجہ کے حق میں عبوری حکم امتناعی جاری کیا تھا جسے اب عدالت نے غیر موثر قرار دے دیاہے ۔فاضل بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کیس کی سماعت شروع کی تو سندھ حکومت کی طرف سے فاروق ایچ نائیک ایڈووکیٹ نے دلائل کے لئے دو گھنٹوں کا وقت مانگا تاہم چیف جسٹس نے فاروق ایچ نائیک کو ہدایت کی کہ اپنے دلائل ایک گھنٹے میں مکمل کریں۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت کوپولیس قانون میں تبدیلی کے حوالے سے قانون سازی کا اختیار حاصل ہے اور اس بابت نئی قانون سازی کی جائے گی۔ فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اے ڈی خواجہ اکیسویں گریڈ کے افسر ہیں مگر بائیسویں گریڈ پر تعینات ہیں، بائیسویں گریڈ کا افسر اے ڈی خواجہ کا ماتحت بن کر کام کر رہا ہے،رولز آف بزنس کے تحت سندھ حکومت کو اے ڈی خواجہ کے تبادلے کا اختیار حاصل ہے، سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ پولیس رولز کے برعکس ہے،بنچ کے فاضل رکن جسٹس عمر عطاءبندیال نے استفسار کیا کہ بائیسویں گریڈ کے جس افسر کی آپ بات کر رہے ہیں اے ڈی خواجہ کی تعیناتی کے وقت وہ افسر بھی اکیسویں گریڈ کا تھا، چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب تعیناتی کیس سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ کے ایک مقدمے کا حوالہ دینے پر فاروق ایچ نائیک کو کہا کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے بہترین فیصلے موجود ہیں پھر ہم عدالت عالیہ کے سنگل بنچ کے فیصلے پر انحصار کیوں کریں۔ چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اے ڈی خواجہ سیاسی آقاﺅں کے دباﺅ میں آکرکام نہیں کرتا ،کہیں اسی لئے تو آپ اس کا تبادلہ نہیں کرنا چاہتے؟

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں چیئرمین سینیٹ کے عہدہ پر رہا ہوں ،قانونی بات ہی کرتا ہوں ،سیاسی بات نہیں کرتا۔عدالت نے فریقین کے وکلاءکے دلائل سننے کے بعد سندھ حکومت کی دائر اپیل مسترد کر دی،عدالت نے سندھ حکومت کو جدیددور کے تقاضوں کے مطابق سندھ پولیس سے متعلق نئی قانون سا اجازت دے دی ۔عدالت نے اے ڈی خواجہ کے تبادلے کے حوالے سے اپنے عبوری فیصلے کو غیر موثر قرار دے کرتحلیل کردیا ہے ۔ عدالت نے قراردیا کہ اپیل میں کوئی قانونی جواز فراہم نہیں کیا گیاجس کی بنیاد پر سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم کیا جائے ۔فاضل بنچ نے اس سلسلے میں مختصر فیصلہ جاری کیا ہے جو 2صفحات پر مشتمل ہے ،تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -