رات کے اندھیرے میں اچانک امریکی صدر ٹرمپ کے داماد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملنے کیوں پہنچ گئے؟ ایسی تفصیلات سامنے آگئیں کہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

رات کے اندھیرے میں اچانک امریکی صدر ٹرمپ کے داماد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ...
رات کے اندھیرے میں اچانک امریکی صدر ٹرمپ کے داماد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملنے کیوں پہنچ گئے؟ ایسی تفصیلات سامنے آگئیں کہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

  

واشنگٹن(نیوز ڈیسک) گزشتہ سال کے آخر میں سعودی حکومت نے کرپشن کے خلاف مہم کے نام سے ایک بہت بڑا آپریشن کرتے ہوئے درجنوں شہزادوں، وزراءاور مالدار شخصیات کو گرفتار کرلیا۔ اس اقدام کے متعلق طرح طرح کی قیاس آرائیوں کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ جہاں ایک جانب سعودی حکومت اسے کرپشن کے خلاف مہم قرار دیتی ہے تو وہیں کچھ لوگ یہ رائے بھی رکھتے ہیں کہ دراصل یہ ولی عہد محمد بن سلمان کے لئے متوقع خطرہ بننے والی شخصیات کے خلاف آپریشن تھا۔ اب اس معاملے میں امریکا کے کردار، اور خصوصاً امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی سعودی ولی عہد کے ساتھ مبینہ خفیہ ملاقاتوں کے بارے میں بھی کچھ تہلکہ دعوے سامنے آ گئے ہیں۔

’دی انٹرسیپٹ‘ کے مطابق ”وائٹ ہاﺅس میں سب جانتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ان تمام انٹیلی جنس دستاویزات کا بغور مطالعہ کرتے ہیں جو صرف امریکی صدر کے لئے روزانہ کی بنیاد پر تیار کی جاتی ہیں۔ امریکی صدر نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تعلقات کی بہتری اور امن معاہدے کی ذمہ داری بھی اپنے داماد کو سونپ رکھی ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں جیرڈ کشنر ایک خفیہ دورے پر سعودی عرب بھی گئے اور ان کا یہ دورہ بعض اہم انٹیلی جنس عہدیداروں کے لئے بھی حیران کن ثابت ہوا۔“ واشنگٹن پوسٹ کے صحافی ڈیوڈ اگنیشیس کہتے ہیں کہ ”جیرڈ کشنر اور سعودی ولی عہد رات بھر جاگ کر ملاقات کرتے رہے، جس کے دوران اہم امور اور حکمت عملی طے کی گئی۔“ کہا جا رہا ہے کہ اس ملاقات کے دوران جیرڈ کشنر نے سعودی ولی عہد کو بہت سی ایسی سعودی شخصیات کے نام بتائے جو ان کے اقتدار کے لئے خطرہ ثابت ہو سکتی تھیں۔ جیرڈ کشنر کی سعودی عرب سے واپسی کے محض ایک ہفتے بعد ہی سعودی حکومت نے درجنوں شہزادوں، وزراءاورمالدار کاروباری شخصیات کو کرپشن کے الزامات میں گرفتار کرلیا۔ ان افراد کو تین ماہ سے زائد عرصے کے لئے دارالحکومت کے رٹز کارلٹن ہوٹل میں زیر حراست رکھا گیا اور کہا جاتاہے کہ ان سے اربوں ڈالر لے کر انہیں رہائی دی گئی ہے۔ امریکی میڈیا میں ذرائع کے حوالے سے یہ دعوٰی سامنے آ رہا ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ وہی تھی جن کا ذکر امریکی صدر کے لئے تیار کی جانے والی انٹیلی جنس رپورٹوں میں کیا گیا تھا، اور جیرڈ کشنر نے یہ نام سعودی ولی عہد کو بتائے تھے۔’دی انٹرسیپٹ‘ کے مطابق اس معاملے پر ردعمل کے لئے متعدد اعلٰی عہدیداران سے رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔

مزید :

بین الاقوامی -