وہ جگہ جہاں نوجوان مسلمان لڑکیاں کوڑیوں کے بھاﺅ فروخت کی جاتی ہیں اور پھر ان کے ساتھ۔۔۔ ایسا دلخراش انکشاف منظر عام پر کہ آپ کی آنکھوں سے بھی آنسو نکل آئیں گے

وہ جگہ جہاں نوجوان مسلمان لڑکیاں کوڑیوں کے بھاﺅ فروخت کی جاتی ہیں اور پھر ان ...
وہ جگہ جہاں نوجوان مسلمان لڑکیاں کوڑیوں کے بھاﺅ فروخت کی جاتی ہیں اور پھر ان کے ساتھ۔۔۔ ایسا دلخراش انکشاف منظر عام پر کہ آپ کی آنکھوں سے بھی آنسو نکل آئیں گے

  

ڈھاکہ (نیوز ڈیسک) میانمر کے مظلوم مسلمانوں کا تذکرہ کچھ دن تو میڈیا کی زینت بنا لیکن اب ہر کوئی بھول چکا ہے کہ یہ بدقسمت کس حال میں ہیں۔ ان کے گھر اور جائدادیں تو میانمر میں جل کر راکھ ہو گئیں، ہزاروں لوگ قتل بھی ہو گئے، لیکن جو جان بچا کر بنگلا دیش فرار ہوئے ہیں ان کی زندگی بھی موت سے بدتر ہو چکی ہے۔ ان بے بس مسلمانوں کی کمسن لڑکیوں کو ناصرف میانمر میں جسم فروشی کے دھندے میں استعمال کیا جارہا ہے بلکہ جو بنگلا دیش کے پناہ گزین کیمپوں تک پہنچ گئی ہیں انہیں بھی بھیڑ بکریوں کی طرح فروخت کیا جا رہا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پناہ گزین کیمپوں میں پہنچنے والی کمسن لڑکیوں کی بہت بڑی تعداد جسم فروشی کے دھندے میںجھونکی جا چکی ہے۔ بی بی سی کی ایک ٹیم نے فلاحی ادارے فاﺅنڈیشن سینٹینل کے ساتھ مل کر بہت سے ایسے گروہوں کا پتہ چلایا ہے جو روہنگیا لڑکیوں کو جنسی دھندے کے لئے استعمال کررہے ہیں۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

روہنگیا والدین نے بتایا کہ کچھ مقامی لوگ ان کی بچیوں کو دارالحکومت ڈھاکہ اور آس پاس کے شہروں میں ملازمت کا جھانسہ دے کر لے جاتے ہیں۔ عموماً انہیں گھریلو ملازمہ یا ہوٹل میں باورچی کی ملازمت کا کہہ کر لیجایا جاتاہے لیکن دراصل انہیں جسم فروشی پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ ان بدنصیبوں کا کہنا ہے کہ میانمر میں ان کی زندگی بہت تکلیف دہ تھی لیکن اب یہ جس حال میں ہیں وہ کہیں بڑھ کر دردناک ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -بین الاقوامی -