’’19 مارچ کو میری چیف جسٹس سے ملاقات ہوئی جو ایک گھنٹہ جاری رہی، انہوں نے مجھے بتایا کہ۔۔۔‘‘ معروف صحافی جاوید چوہدری نے واضح طور پر بتا دیا، کیا بات ہوئی ؟ جان کر ہر پاکستانی حیران رہ جائے گا

’’19 مارچ کو میری چیف جسٹس سے ملاقات ہوئی جو ایک گھنٹہ جاری رہی، انہوں نے ...
’’19 مارچ کو میری چیف جسٹس سے ملاقات ہوئی جو ایک گھنٹہ جاری رہی، انہوں نے مجھے بتایا کہ۔۔۔‘‘ معروف صحافی جاوید چوہدری نے واضح طور پر بتا دیا، کیا بات ہوئی ؟ جان کر ہر پاکستانی حیران رہ جائے گا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )معروف صحافی و کالم نگار جاوید چوہدری نے نجی اخبار میں اپنا کالم شائع کیا ہے جس میں انہوں نے19 مارچ کو چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کے ساتھ  اپنی ایک گھنٹہ طویل ہونے والی ون آن ون ملاقات کا احوال بیان کیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں لکھا کہ ملاقات کے دوران چیف جسٹس نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ میرے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں ؟جس پر میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو دو ذریعوں سے جانتا ہوں، آپ 1997-98ء میں فیڈرل لاءسیکریٹری تھے، میں نے اس وقت آپ کی جرات کے چند واقعات سنے تھے، آپ نے میاں نواز شریف کی بیڈ گورننس سے دل برداشتہ ہو کر عہدہ چھوڑ دیا تھا اور دو‘ مجھے ٹیلی ویژن پر آپ کی چند تقریریں دیکھنے کا اتفاق ہوا، مجھے محسوس ہوا آپ بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ بے بس ہیں“ چیف جسٹس نے میری آبزرویشن سے اتفاق کیا۔

جاوید  چوہدری نے کہا کہ میں نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ پر اعتراض کیا جاتا ہے آپ اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں، آپ ایگزیکٹو کے کاموں میں دخل دے رہے ہیں“ چیف جسٹس نے اطمینان سے میری بات سنی اور کہا کہ میں آپ کو اختیار دیتا ہوں آپ جب اور جہاں محسوس کریں میں اختیارات سے تجاوز کر رہا ہوں، آپ مجھے فون کریں میں پوری قوم سے معافی مانگ لوں گا لیکن آپ مجھے یہ بتائیں کیا عام آدمی کو صاف پانی نہیں ملنا چاہیے؟

آپ راول لیک چلے جائیے، لیک میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں، فیکٹریوں، مرغی خانوں اور باڑوں کا گند جارہا ہے اور یہ پانی پورے راولپنڈی کو سپلائی ہوتا ہے، کیا گورنمنٹ کے کسی ادارے نے کبھی اس پانی کی پڑتال کی؟ کیا اس کی صفائی کا سسٹم دیکھا؟ آج تک وہاں کوئی نہیں گیا، کیا راولپنڈی کے لوگ انسان نہیں ہیں؟ آپ ہسپتالوں کو بھی دیکھ لیں، وہاں کیا ہو رہا ہے؟  پنجاب حکومت نے لاہور کے ہسپتالوں کا فضلہ اٹھانے کا ٹھیکہ ایک ایسی کمپنی کو دے دیا جس کے دونوں سربراہ ان پڑھ بھی ہیں، ناتجربہ کار بھی اور یہ ہسپتالوں کے فضلے کی سنگینی سے بھی واقف نہیں ہیں، میں نے ان کو بلا کر پوچھا، آپ نے یہ فضلہ جلانے کے لیے بھٹیاں کہاں لگائی ہیں؟ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، میں جانتا ہوں یہ دونوں فرنٹ مین ہیں، ان کے پیچھے کوئی اور ہے اور وہ کوئی اور ہر مہینے ریاست کے کروڑوں روپے کھا رہا ہے، اس بے ایمانی نے لاہور شہر میں مہلک بیماریوں کے سیکڑوں بم فکس کر دیے ہیں، آپ پتہ کریں علی کون ہے اور یہ ٹھیکہ اس کے پاس کیوں ہے؟

میں نے چیف جسٹس سے کہا کہ سر حکومت اور سرکاری اداروں میں طاقت نہیں ہے، آپ زور لگائیں گے تو یہ رہا سہا سسٹم بھی ٹوٹ جائے گا، یہ بہتر نہیں ہو گا۔ چیف جسٹس جذباتی ہو گئے، انھوں نے دل پرہاتھ رکھا اور کہا جاوید صاحب آپ میری بات لکھ لیں، پھر ان لوگوں کو یہ سسٹم امپروو کرنا پڑے گا، میں بالکل پیچھے نہیں ہٹوں گا، ان لوگوں کو عام لوگوں کا حق دینا ہوگا، میں تاریخ میں جسٹس کارنیلس اور جسٹس حمود الرحمن بن کر زندہ رہنا چاہوں گا، میں خاموش نہیں بیٹھوں گا، مجھے دھرنا دے کر بیٹھنا پڑا تو میں بیٹھوں گا لیکن میں بیورو کریسی اور سیاستدانوں دونوں سے کام کروا کر رہوں گا، یہ نہیں ہو سکتا لوگ مرتے رہیں اور یہ لوگ اپنی جیبیں، اپنے پیٹ بھرتے رہیں“۔

وہ رکے اور بولے آپ پنجابی ہیں، آپ الجھی ہوئی ڈور اور کیچڑ میں پھنسے گڈے کی اصطلاح جانتے ہیں،  پنجاب میں جب گڈا کیچڑ میں پھنس جاتا ہے تو امیر لوگ اپنا سامان اتار کر دوسری سواری پر بیٹھ کر چلے جاتے ہیں، درمیانے لوگ سائے میں بیٹھ جاتے ہیں اور کمی اس کو دھکا لگاتے رہتے ہیں، پاکستان ایک ایسا گڈا بن چکا ہے۔

میں نے ان سے پوچھا کیا آپ پر کوئی دباؤ ہے؟ چیف جسٹس نے قسم کھائی اور کہا مجھے آج تک کسی شخص، کسی طاقت نے کسی فیصلے کے لیے اپروچ نہیں کیا، کوئی یہ ہمت بھی نہیں کرے گا اور اگر کسی نے کبھی یہ جرات کی تو میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔میں نے عرض کیا لیکن پھر عدالتوں کے فیصلے کنٹروورشل کیوں ہو رہے ہیں؟ میاں نواز شریف آپ سے بار بار کیوں پوچھ رہے ہیں‘ مجھے کیوں نکالا“۔

چیف جسٹس نے پوری سنجیدگی سے جواب دیا دنیا کا ہر شخص ہر عدالتی فیصلے پر اعتراض کر سکتا ہے لیکن کسی شخص کو ملک کے کسی ادارے کی بے عزتی کا حق حاصل نہیں، آپ کو صدر بش اور الگور کا الیکشن یاد ہو گا؟ امریکا کی سپریم کورٹ نے 2001 میں صدر بش کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا، یہ فیصلہ آج تک کنٹروورشل ہے۔

میں نے ان سے پوچھا میاں نواز شریف کا کیا مستقبل ہے؟ چیف جسٹس نے جواب دیا میاں صاحب جانیں اور احتساب عدالت جانے، یہ وہاں خود کو بے گناہ ثابت کردیں، ان کے ساتھ انصاف ہو گا۔ میں نے پوچھا سر آپ کرنا کیا چاہتے ہیں ؟آپ کا گول کیا ہے؟ وہ فوراً بولے میں فری اینڈ فیئر الیکشن کرانا چاہتا ہوں اور اکراس دی بورڈ احتساب چاہتا ہوں۔ میں نے عرض کیا ،کیا آپ یہ کر لیں گے؟ انھوں نے دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیا ،سو فیصد، میں ملک میں ایک بار سو فیصد فری اینڈ فیئر الیکشن کرا دوں گا، میں الیکشن کمیشن سے ملتا رہتا ہوں، میں ان سے بھی کہتا رہتا ہوں آئیے ہم کم از کم ایک بار یہ شکوہ دور کر دیں پاکستان میں شفاف اور آزاد الیکشن نہیں ہو سکتے، ہم سو فیصد آزاد اور شفاف الیکشن کرائیں گے، تمام پارٹیوں کو برابر موقع ملے گا، جو جیت جائے گا وہ حکومت بنائے گا تاہم الیکشن میں چند رکاوٹیں ضرور موجود ہیں، حلقہ بندیوں کا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا، مجھے خطرہ ہے یہ ذمے داری اگر نگران حکومت کے کندھوں پر آ گئی تو ایک بار پھر نظریہ ضرورت زندہ ہو جائے گا اور یہ ٹھیک نہیں ہوگا۔

میری خواہش ہے حکومت اپنی مدت پوری ہونے سے پہلے یہ مسئلہ حل کر لے تاکہ الیکشن میں تاخیر نہ ہو۔ میں نے پوچھا لیکن سر احتساب الیکشن سے پہلے ہو گا یا بعد میں؟ وہ بولے یہ ایک مشکل سوال ہے، میں سردست اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا لیکن آپ یہ بات نوٹ کر لیں ملک میں جب بھی احتساب ہو گا غیرجانبدار ہو گا، یہ نہیں ہو سکتا ہم ایک پارٹی کو پکڑ لیں اور دوسری پارٹیوں کو چھوڑ دیں، حساب ہو گا تو سب کا ہو گا، جواب دیں گے تو سب دیں گے۔

میں نے عرض کیا ،اور آپ الیکشن کے بعد کیا دیکھ رہے ہیں؟ چیف جسٹس نے بڑی دل سوزی سے جواب دیا کاش اللہ تعالیٰ اس ملک کو حضرت عمر فاروقؓ جیسا کوئی حکمران دے دے، وہ اپنے کندھوں کا سارا بوجھ اتار کر اقتدار میں آئے، زمین پر بیٹھ جائے اور ستر برسوں سے ترسے ہوئے لوگوں کا ہاتھ تھام لے، میری دعا ہے اللہ تعالیٰ مجھے ایسے فیصلوں کی توفیق دے دے جن کے نتیجے میں کوئی نیک، ایماندار اور کمپی ٹینٹ شخص سامنے آ جائے، یہ ملک واقعی ملک بن جائے۔

میں نے آخر میں اجازت مانگی۔ چیف جسٹس صاحب نے فرمایا جاوید صاحب ،آپ پہلے اور شاید آخری صحافی ہیں جس سے میں مل رہا ہوں، آپ بس یہ یاد رکھئے گا، یہ میرا ملک ہے، میں اور میرے بچوں نے یہاں رہنا ہے، میرا ایجنڈا صرف اور صرف پاکستان ہے، میں پاکستان پر کوئی کمپرومائز نہیں کروں گا، میں آج کے بجائے تاریخ میں زندہ رہنا چاہوں گا، میں پیچھے نہیں ہٹوں گا اور اگر میں ہٹا تو آپ مجھے میرے یہ الفاظ یاد کرا دیجیے گا، میں آپ اور پوری قوم کا مجرم ہوں گا۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -