جوڈیشل مارشل لاء کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں، امریکی درباریوں کا خاتمہ کرکے ملک کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی مملکت بنائیں گے:سینیٹر سراج الحق

جوڈیشل مارشل لاء کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں، امریکی درباریوں کا خاتمہ ...
جوڈیشل مارشل لاء کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں، امریکی درباریوں کا خاتمہ کرکے ملک کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی مملکت بنائیں گے:سینیٹر سراج الحق

  

لوئر دیر(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی جمہوریت کو نہیں مانتے، ہم ایسی جمہوریت کے حامی ہیں جہاں قرآن وسنت کے مطابق فیصلے کئے جاتے ہوں، ملک سے امریکہ کے درباریوں کا خاتمہ کرکے ملک کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی مملکت بنائیں گے،متحدہ مجلس عمل عملی طور پر بحال ہوچکی،اس پلیٹ فارم سے آئندہ عام انتخابات میں بھرپور حصہ لے کر ملک بھر میں طاغوتی طاقتوں کا راستہ روکیں گے۔

ان خیالات اظہارانہوں نے خال کالونی کے دینی مدرسہ تعلیم القران میں ختم بخاری شریف کے موقع پر ایک بڑے اجتماع سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اجتماع میں شیخ القران حضرت مولانا عبدالجبار مولانا خائستہ الرحمن نے فارغ التحصیل 109طلباءحفاظ کی دستار بندی کی۔اس موقع پر مرکزی سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصر شریف بھی موجود تھے۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک کی حکمرانی کے اصل حقدار علمائے کرام ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک پر ایسے حکمران مسلط ہیں جو قرآن وسنت سے نا واقف ہیں،نااہل حکمرانوں کی وجہ سے ملک مسائل کی دلدل میں پھنس چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض قوتیں جوڈیشل مارشل لاءنافذ کرنے کی باتیں کررہی ہیں لیکن آئین میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ، انتخابات آئین کے مطابق بروقت ہونے چاہئیں۔ انہوں نے ایک بار پھر نگران وزیر اعظم کیلئے معروف سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیرخان کا نام تجویز کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان غیرمتنازعہ شخصیت اور قوم کے محسن ہیں،انہوں نے ملک و قوم کا دفاع ناقابل تسخیر بنایاہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپریل کے پہلے عشرہ میں اسلام آباد میں متحدہ مجلس عمل کا ورکرز کنونشن منعقد ہوگا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل دیا جائے گا،نقیب اللہ محسود کے مبینہ قاتل راﺅانوارکے خلاف عدالت جلد ازجلد فیصلہ کرے ،اگر وہ قصور وار ہوں تو انہیں سزا دی جائے ۔انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو اپنی فضائی حدود سے طیاروں کی پروازکی اجازت اور دوبئی میں مودی کے مندر کاافتتاح کرنے پر شدیدتشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی بھرپور مذمت کی ۔انہوں نے کہا کہ دینی مدارس سے فارغ التحصیل طلباءپر بھاری ذمہ دار عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے کی اصلاح میں اپنا بھرپور کردار اد اکریں ۔

دریں اثنا سینیٹر سراج الحق نے ضلع دیر پائین کے 73طبی مراکز میں7کروڑ روپے کی بنیادی سہولیات کا ساز وسامان تقسیم کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق کہا کہ ملک میں سب سے بڑی بیماری اس وقت کرپشن ہے اور کرپشن میں سےاسی جماعتوں کی لیڈر شپ ملوث ہے۔ انھوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ سےاسی لیڈر شپ کا بلا امتیاز احتساب کریں جب تک اوپر سے کرپشن کا خاتمہ نہیں ہو تا، ملک سے کرپشن ختم کرنانا ممکن ہے۔ انھوں نے کہاکہ خیبر پختون خواہ کی حکومت نے تعلیم اور صحت پر خصوصی توجہ دی ہے اور دونوں شعبوں میں نمایاں بہتری آئی ہے جبکہ مزید بہتری کےلئے اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انھوں نے کہاکہ جماعت اسلامی نے تنگ نظری کی سیاست کا خاتمہ کرکے رواداری اور پیار و محبت کی سیاست کو فروغ دیا ہے ۔انھوں نے کہاکہ تیمرگرہ میں میڈیکل کالج کی منظوری ہو گئی ہے اور بہت جلد اس منصوبے پر کام کا آغاز ہو جائے گا جس سے یہاں کے غریب ذہین طلباءاور طالبات استفادہ کریں گے اور ضلع میں معاشی خوشحالی آئے گی۔آخر میں سینیٹر سراج الحق اور صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈووکیٹ نے ضلع کے73طبی مراکز میں 7کروڑ روپے کی بنیادی سہولیات کا ساز وسامان طبی مراکز کے انچارجز کے حوالے کیا ۔ ضلع کونسل ہال بلامبٹ میں منعقدہ تقریب میں صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ ،ڈی سی سرمد سلیم اکرم،ڈی ایچ او ڈاکٹر شو کت علی ،ضلع ناظم حاجی محمد رسول خان، جماعت کے صوبائی جنرل سیکرٹری عبدالواسع ،ڈاکٹرز، پیرامیڈیکس اور عمائدین علاقہ کثیر تعداد میں موجود تھے ۔اس مو قع پر ڈی ایچ او لوئر دیر ڈاکٹر شوکت علی نے ضلع میں صحت سہولیات کے حوالے سے کہاکہ قلیل مدت ضلع میں علاج ومعالجہ کی بہتر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے جبکہ ضلع میں ڈاکٹرز پیرا میڈیکس اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کی کمی کو پورا کر دیا گیا ہے ۔انھوں نے کہاکہ اس وقت ضلع میں ٹی بی کی مفت علاج کی فرہمی کے لئے تیرہ سنٹرز قائم کرنے سمیت ملیریا اور ڈینگی پر قابو پانے کےلئے خصوصی پروگرام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ ضلع میں صحت کی وافر مقدارمیں سہولیات کی فراہمی میں سیکرٹری صحت عابد مجید نے خصوصی دلچسپی رکھتے ہوئے خطیر فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔

مزید :

قومی -