سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ،پاکستان کا احتجاج!

سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ،پاکستان کا احتجاج!

پاکستان نے بھارتی عدالت کی طرف سے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے فیصلے پر شدید احتجاج کیا اور کہا ہے کہ42 مسلمان شہدا کے ورثاکو کیا جواب دیا جائے گا،جنہیں ایک سازش کے تحت حملے میں شہیدکیا گیا تھا، یہ سانحہ گیارہ سال قبل پیش آیا جب سمجھوتہ ایکسپریس کو بم دھماکوں سے اڑایا اور آگ لگائی گئی۔ گاڑی سے باہر نکلنے والوں کو باہر کھڑے عناصر نے مارا، کئی ڈبوں کے دروازے باہر سے مقفل بھی کر دیئے گئے تھے۔ ان کے اندر ہی مسافر جل گئے۔ اِس میں42پاکستانی مسافر شہید ہوئے تھے۔اُس سازش میں بھارتی فوج کا حاضر سروس کرنل ملوث تھا اور انتہا پسند ہندو رہنما بھی شامل تھے۔ گیارہ سال سے مقدمہ لٹکتا چلا آ رہا تھا کہ اب بھارت میں لوک سبھا کے عام انتخابات سے پہلے یہ فیصلہ سنا دیا گیا اور پاکستان کی درخواست مسترد کر کے سارے قاتل بری کر دیئے گئے ہیں۔بھارتی عدالت کے اس فیصلے سے پاکستان میں سخت غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور دفتر خارجہ نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو وزارتِ خارجہ کے دفتر میں طلب کر کے احتجاجی مراسلہ بھی دیا ہے،بھارت میں بی جے پی کے عروج سے ہی انتہا پسندی کا عمل جاری اور بڑھتا جارہا ہے۔ مودی سرکار ایسا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی جو مسلمانوں کی پریشانی میں اضافہ کرنے والا ہو،یہ فیصلہ بھی براہِ راست مودی کو ہی فائدہ پہنچانے کے لئے کیا گیا کہ انتہا پسندی اور اس دہشت گردی کو عدالتی سطح پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔پاکستان کی وزارتِ خارجہ کا فوری ردعمل بالکل درست ہے اور صحیح احتجاج کیا گیا ہے۔ہماری حکومت کو اِس سے آگے قدم بڑھانا چاہئے اور اس پر اقوام متحدہ کی توجہ مبذول کرانے کے لئے سفارتی سطح پر دُنیا کے ممالک تک اس فیصلے کی اصل وجوہ کو پہنچا کر بھارتی چہرہ بے نقاب کرنا چاہئے، ممکن ہو تو عالمی عدالت سے رجوع کیا جائے۔

مزید : رائے /اداریہ