اب حرفِ تسلی سے کام نہیں چلے گا

اب حرفِ تسلی سے کام نہیں چلے گا
اب حرفِ تسلی سے کام نہیں چلے گا

  

حکومت جب بھی تبدیل ہوتی ہے تو عوامی امیدیں بھی جنم لیتی ہیں۔توقعات باندھی جاتی ہیں اور اکثر یہ سوچ بھی لیا جاتا ہے کہ اب بہت کچھ بدل جائے گا۔ دودھ اور شہد کی نہریں نہ سہی ،لیکن اتنا تو ہو کہ گھٹن پہلے سی نہ رہے اور کچھ امیدوں کی شمعیں تو جلیں ۔

وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے ہر ایک کو یوں امید دلائی تھی جیسے حکومت کے تبدیل ہوتے ہی حالات بھی یک دم کروٹ بدلیں گے ۔کرشمے ہوں گے اور کرامات بھی ،لیکن ایسا نہیں ہوا۔

عوام بھی جانتے تھے کہ ایسا ہوگا نہیں ،وہ ذہنی طور پر بھی تیار تھے کہ حکومت کو کچھ وقت ملنا چاہیے۔ لوگ جانتے ہیں کہ الجھن کو سلجھانے میں ایسی سر کھپائی ہے کہ بعض مسائل عوامی خواہش کے مطابق حل نہیں ہوتے۔ سیاسی بنیادوں پر درست تجزیہ کیا جائے تویہ سمجھنا مشکل نہیں کہ جو نشیب وفراز موجودہ حکومت کے دور میں آئے سابق حکومتوں کے ادوار میں ان کا عشرعشیر بھی نہ تھا۔

معیشت سے لے کر انتظامی امور تک’’اک اوردریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو‘‘کی کیفیت والا معاملہ دکھائی دیتا ہے۔اس پر مصیبت ’’سیاسی نابالغ‘‘وزرا کا طرز عمل بھی جن کے نزدیک بولنا ضروری تھا،لفظوں کے معنی کیا نکلتے ہیں جانے ان کی بلا۔اس کے باوجود حکومتی کشتی جانب منزل رواں ہے،چھید بھی بھرے جارہے ہیں اور بادبانوں کی سمتیں بھی درست ہو رہی ہیں۔

طائرانہ سا جائزہ لیا جائے تو حکومت کے اس مختصر دورانیہ یعنی چھ ماہ کے عرصے میں جو اہم ترین تبدیلی آئی وہ خارجہ پالیسی میں تعمیری تحرک ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ کل جو دوست ممالک خفا خفا تھے ان کی سردمہری گرم جوشی میں بدل رہی ہے۔

اسی طرح امریکہ بہادر کے ساتھ رشتے بھی دھونس دھمکی اور رعب کے سائے سے نکل رہے ہیں۔یہ محسوس کیا جارہا ہے کہ اب ڈو مور کی بنیاد پر قائم تعلق کی نوعیت میں تبدیلی آرہی ہے۔انہی حالات میں پاکستان نے جس طرح طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا ہے اسے بھی عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔اسی طرح بھارت کی جانب سے سرجیکل سٹرائیک کے ڈرامے کے بعد خارجہ پالیسی کا محاذ جس طرح گرم کیا گیا وہ ریاستی وقار بحال رکھنے میں نہایت اہم رہا۔ دنیا اب ہمارا یہ موقف بھی تسلیم کر رہی ہے کہ انتہا پسندی کسی خاص مذہب کے ماننے والوں کا رویہ نہیں، بلکہ ایسے لوگ دنیا کے کسی بھی خطے اور مذہب کے ماننے والے ہو سکتے ہیں۔

جہاں تک دیگر معاملات کا تعلق ہے جو خالصتاً عام آدمی سے جڑے ہیں ان سات ماہ میں تحریک انصاف اس جانب توجہ ہی نہیں دے پائی۔ خاص طور پر تیسری دنیا کے ممالک میں حکومتی کارکردگی پرکھنے کا پیمانہ عام آدمی کے حالات ہی ہوا کرتے ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی حکومتی ناکامی سے تعبیر ہوتی ہے ،جبکہ آنگن میں کھیلتی خوشحالی حکومت کے بہتر اقدامات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

عام آدمی کبھی معاشی اعدادو شمار کے گورکھ دھندے میں نہیں پڑتا۔ وہ جانتا ہے کہ یہ ہندسوں کا ہیر پھیر فریب کے سوا کچھ نہیں۔ موجودہ حالات میں جس طرح عام آدمی معاشی تنگ دستی کا شکار ہو رہا ہے، اس کے لئے وزارت خزانہ یا خود وزیر اعظم کی تسلیاں درد کا مداوا نہیں ہو سکتیں۔ وہ تبھی تسلیم کر ے گا جب اس کے لئے معاشی آسائشیں میسر ہو ں گی۔ اگر برتنوں میں بھوک بٹے گی تو پھر حکمرانوں کی جے، جے کار بھی نہیں ہو گی۔

ہر شخص یہ تسلیم نہیں کرسکتا کہ یہ الیکشن کے بعد پہلا سال ہے اس لئے حکومت معاشی طور پر ریلیف دینے کی سکت بھی نہیں رکھتی، لیکن بد قسمتی ریلیف نہ ملنا نہیں ،بلکہ حکومت کا مقدمہ درست انداز میں پیش نہ کر پانا ہے۔ وزراء کا رویہ دلیل کی بجائے دوسروں کی تضحیک کا غماز ہے۔ جانے حکومت کرنے والے ابھی تک یہ کیوں نہیں جان پائے کہ جب عنانِ اقتدار ہاتھ میں ہو تو لہجوں میں نرمی ضرورت بن جاتی ہے۔عوام آپ سے بہتری کی امید رکھتے ہیں، اپوزیشن کے خلاف طعنوں کی سیاست کا دور الیکشن تمام ہوتے ہی ختم ہو چُکا۔ عام ووٹر نے ووٹ اس لئے نہیں دیا تھا کہ وہ بعد میں بھی اسی طرح کا ’’شغل میلہ‘‘ دیکھتے رہیں، جس طرح انہوں نے انتخابی مہم کے دوران دیکھا۔اب انہیں مسائل کا حل چاہیے ۔

انہیں اپوزیشن رہنماؤں کی کردار کشی پر مبنی لطائف سے کوئی غرض نہیں، نہ ہی عام آدمی کا مسئلہ وزراء کی جگتیں سننا ہے۔ عام آدمی کا مسئلہ بجلی کا وہ بل ہے جو اس کی جیب پر پہلے سے کہیں بڑھ کر گراں گزرتا ہے۔ مسئلہ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور گرتی ہوئی ملکی کرنسی ہے۔ اسے گیس کی قیمتوں میں اضافے سے تکلیف ہے جسے ٹاک شوز یا پریس کانفرنس میں روزنیا تماشا دکھا کر دور نہیں کیا جا سکتا۔

حکومتی رویہ کسی طور بھی ایسا نہیں جسے نظر انداز کر دیا جائے۔ مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام تب غضب ناک نہ ہوں تو کیا کریں، جب انہیں یہ خبر ملے کہ پنجاب کے ان منتخب ارکان نے اپنی تنخواہوں میں متفقہ طور پر من چاہا اضافہ فرما لیا ہے جو اپنے نہیں صوبے کے عوام کے مسائل حل کرنے کا وعدہ لئے آئے تھے۔

عام آدمی مایوسی کی طرف بڑھ رہا ہے وزیر اعظم جتنی بھی سادگی اپنا لیں ، ان کے ساتھی شاہانہ انداز اپنا کر اسے رائیگاں بنا دیتے ہیں۔ عمران خان کی ٹیم بہت کمزور ہے۔ ان کے پاس ایک دو اچھے کھلاڑیوں کے سوا سارا وہی کچرا ہے جو گزشتہ حکومتوں کے ’’رِنگ پسٹن‘‘ خراب کرنے کا باعث بنا۔

عمران خان کو چاہیے کہ وہ اب عوام کو زبانی تسلی نہ دیں، اپنے عمل سے ثابت کریں کہ عام آدمی کے حالات بہتر ہونے والے ہیں۔ اگر یہی عام آدمی سمجھنے لگا کہ صرف چہرہ بدلا ہے ، نظام وہی پہلے سا ہے تو پھر صاحب جان لیجئے اقتدار یہاں کسی کا بھی ہمیشہ کے لئے نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -