پنجاب میں استحکام؟

پنجاب میں استحکام؟
پنجاب میں استحکام؟

  


حکومتیں اپنی کارکردگی کے حوالے سے مضبوط ہوتی ہیں اور ناقص کارکردگی سے عدم استحکام کا شکار بھی ہو جاتی ہیں، لیکن تیسری دنیا کے ممالک میں حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے میں پروپیگنڈہ بھی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اور آج کی صورتحال میں دنیا کی بڑی بڑی جمہوری حکومتیں بھی مخالف پروپیگنڈہ اور افواہ سازی کا شکار ہو کر غیر مقبول ہو جاتی ہیں۔

لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو اکثر اوقات خود حکمران جماعت کے اندر بھی ایسے عناصر ہوتے ہیں جو اپنی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ جب وہ اپنے ہی حکمرانوں کے بارے میں غیر سنجیدہ اور بے پر کی اڑانا شروع کردیتے ہیں۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار پہلے روز سے ہی ایسی گفتگو کا شکار ہیں کبھی گورنر اور کبھی سپیکر کے ساتھ ان کے اختلاف کی کہانیاں بیان کی جاتی ہیں اور بہت سے دانشور تو شاید ادھار کھائے بیٹھے ہیں کہ انہوں نے پنجاب میں تبدیلی لاکر ہی آرام سے بیٹھنا ہے، لیکن ایسا نظر نہیں آرہا۔ پاکستان میں سیاسی بے چینی بہت حد تک قابو میں آرہی ہے۔

بھارت کے حالیہ جنگی جنون کی پسپائی کے بعد تحریک انصاف کی حکومت نے عوام کی نظروں میں عزت پائی ہے اور سچی بات یہ ہے کہ اس میں پنجاب کے عوام نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگرچہ ملک کے دوسرے صوبے کسی سے پیچھے نہیں رہے، پنجاب نے اس حوالے سے عوامی سطح پر بھی بھرپور ردعمل کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی حکومت اور ریاست کے دیگر اداروں کے امن پسندانہ رویہ کو پنجاب کے عوام کی مکمل اور غیر مشروط حمایت بھی حاصل رہی اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے مقابل ایک توانا اور پرعزم استقلال بھی مہیا ہوا۔ اس ساری صورتحال میں پنجاب حکومت پہلے سے بھی زیادہ مستعد نظر آئی۔ اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں میں اضافہ کا معاملہ ایک نئی بحث کا سبب بنا۔

سوال یہ ہے کہ وہ کونسا عہد تھا جس میں اسمبلیوں کے اراکین نے اپنی تنخواہوں میں اضافہ اور مراعات میں بڑھوتی کا مطالبہ نہیں کیا۔ اور کیا ان کے مطالبات پورے نہیں ہونگے، یہاں تو ہم نے وہ دور بھی دیکھا ہے کہ ایک وزیراعلیٰ نے اپنی حکومت بچانے کے لئے ہر رکن صوبائی اسمبلی کو نائب تحصیلدار اور اے ایس آئی کا کوٹہ بھی دیا۔ انہی کے عہد میں ہر رکن قومی اسمبلی اور رکن صوبائی اسمبلی پولیس گارڈ کے ساتھ چلتا تھا۔ یہ غلط تھا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آج کی اسبملیاں انہی ارکان اور اسی ذہنیت کا تسلسل ہیں۔ لہٰذا وزیراعلیٰ نے درست طور پر وزیراعظم کو یہ بتایا ہے کہ تنخواہوں اور سہولتوں میں اضافہ اراکین اسمبلی کا متفقہ مطالبہ تھا اور یہ بھی ہم نے دیکھا کہ اس سوال پر اور اس مطالبہ پر اسمبلی کے کسی ایک رکن نے ملک میں معیشت کی صورتحال اور عوام پر پہلے سے ریاستی اخراجات کے بوجھ کا اندازہ لگاتے ہوئے نکتہ اعتراض نہیں اٹھایا۔ عوام کے ان نمائندوں میں سے کسی ایک نے بھی فراخ دلی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس حوالے سے وزیراعلیٰ کہاں ذمہ داری قبول کرتے۔

قومی اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں میں اضافہ کے وقت بھی تمام ایوان متفق تھا، اور شاید اب بھی ہو۔ یہاں تک کہ ارب پتی ارکان بھی اس کی حمایت کرتے تھے۔ بہرحال اب یہ طوفان گذر گیا ہے۔ سیاسی گرد بیٹھ گئی۔

یہ معاملہ حکمران جماعت نے خود حل کرلیا اور حیرت ہے کہ اس معاملہ کا نوٹس عمران خان نے لیا۔ مخالف جماعتیں تو اس حوالے سے خاموش بیٹھی رہیں۔ اب کوشش یہی ہونی چاہئے کہ غیر محتاط روش اختیار نہ کی جائے۔

صوبہ میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی بجائے اسے مضبوط اور مستحکم بنایا جائے۔ یہ پنجاب کے عوام کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کا ایک ہی قابل عمل نسخہ ہے۔ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکمران جماعت کو بھی یہی نسخہ استعمال کرنا ہوگا۔ حکمرانوں کے حوالے سے افواہیں براہ راست عوام کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

مزید : رائے /کالم