قومی اعزازات کی تقسیم بندر بانٹ کیوں لگتی ہے؟

قومی اعزازات کی تقسیم بندر بانٹ کیوں لگتی ہے؟
قومی اعزازات کی تقسیم بندر بانٹ کیوں لگتی ہے؟

  


میری خوش گمانی یہ تھی کہ تحریک انصاف برسر اقتدار آئے گی اور عمران خان وزیراعظم بنیں گے تو اور کچھ ہو نہ ہو میرٹ کا بول بالا ضرور ہو گا،کیونکہ خود عمران خان ہمیشہ اپنے جلسوں میں کہتے تھے کہ میرٹ کے بغیر قومیں ترقی نہیں کر سکتیں، جب آپ کسی اہل کا حق مار کر کسی نااہل کو نوازتے ہیں، تو معاشرے میں مایوسی اور بددلی پھیلتی ہے،مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عمران خان کی حکومت میں بھی میرٹ عنقا نظرآتا ہے۔

باقی شعبے تو خیر سے حکمران طبقے کے صوابدیدی اختیارات کی زد میں رہتے ہیں اور وہ جیسے چاہتا ہے انہیں چلاتا ہے،تاہم اِس بار امید تھی کہ کم از کم تمغے دینے کا شعبہ بندر بانٹ سے بچا رہے گا اور چُن چُن کر ایسے افراد کو حسنِ کارکردگی پر تمغے دیئے جائیں گے، جنہیں ماضی میں سفارش اور اقربا پروری کے کلچر نے اِس حق سے محروم رکھا، لیکن ’’زمیں جُنبد نہ جُنبد گل محمد‘‘۔۔۔ کل میرے پاس جنوبی پنجاب کے ادیبوں، شاعروں، مصوروں اور خطاط کا ایک وفد آیا اور یہ سوال چھوڑ گیا کہ اِس بار جنوبی پنجاب سے کسی ایک شخصیت کو بھی کسی تمغے کے لائق نہیں سمجھا گیا، حتیٰ کہ ڈاکٹر اسلم انصاری جیسے بزرگ ترین شاعر، محقق ، نقاد، اقبال کے شارح اور غالبیات کے شناور کو بھی نظر انداز کیا گیا،ان کے مقابلے میں بونے ادیب شاعر اپنی پی آر شپ اور اقتدار کے شہروں میں رہنے کی سعادت کے باعث مختلف تمغوں کے حق دار قرار دیئے گئے ہیں۔

مَیں نے کہا ارے غافلو غور کرو کہیں مہوش حیات کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہی نہ نکل آئے، ریما تو گئی ہی ملتان سے ہیں، انہیں تو لازماً ملتان کے کوٹے پر ایوارڈ اور تمغہ دیا جائے گا۔مَیں نے یہ بات اُن کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے کہی تھی، وگرنہ مَیں جانتا ہوں کہ جنوبی پنجاب میں کیسے کیسے نابغہ روزگار، تخلیق کار،فنکار اور صاحبِ علم پڑے ہیں،جنہوں نے اپنی زندگیاں ان شعبوں میں خون جگر جلاتے صرف کر دیں،مگر اُن کے پاس وہ صلاحیتیں نہیں جو تمغہ لینے کے لئے درکار ہوتی ہیں، خوشامد ، چاپلوسی اور پی آر شپ ۔

جنوبی پنجاب کے لوگ تو سادہ لوح ہیں، اِس لئے زیادتی بھی برداشت کر جاتے ہیں، لیکن کراچی والے ایسے نہیں،وہاں ایک اضطراب ہے اور اس اضطراب کا باعث ایک ایسے شخص کو ستارۂ امتیاز دینے کا فیصلہ ہے،جس کی شخصیت پر کئی الزامات ہیں۔سوشل میڈیا پر کراچی کے ادیب، شاعر، صحافی اور فنکار سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں،پریس کانفرنسیں ہو رہی ہیں، ٹی وی پر مذاکراے جاری ہیں، موضوع ایک ہی ہے کہ اگر کسی غلط آدمی کو یہ قومی شناخت کا اعزاز مل جاتا ہے تو یہ اِس اعزاز کی توہین ہے۔

جنوبی پنجاب والے تو اس پر سراپا احتجاج ہیں کہ یہاں بیورو کریسی یا اعزاز بانٹنے والوں کو کوئی جوہر قابل ہی نہیں ملا،تاہم کراچی میں اس پر احتجاج ہو رہا ہے کہ ایک غیر مستحق شخص کو ستارۂ امتیاز کیوں دیا جا رہا ہے؟مجھے کراچی سے قندیل جعفری، نجم الدین شیخ،سید نسیم شاہ، مبشر میر، اخوان صدیقی، عظیم حیدر سید، منصور زبیری، زیڈ ایچ خرم، اقبال سیہوانی، سید سہیل بخاری،علی زبیر، سید عبدالباسط، نعیم طاہر،اسلم خان، ابراہیم خان، ممتاز رضا سیال،غزالہ عارف، اویس ادیب انصاری، ڈاکٹر عین الرضا اور دیگر کی ایک عرضداشت بھیجی گئی ہے، جو صدرِ مملکت عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وزیر اطلاعات فواد چودھری کو بھجوائی گئی ہے، جس میں آرٹس کونسل کراچی کے صدر احمد شاہ کو ستارۂ امتیاز دینے پر سخت احتجاج کیا گیا ہے۔ اُس میں ان بے قاعدگیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے،جو احمد شاہ کو یہ اعزاز دیتے ہوئے روا رکھی گئیں، احمد شاہ خود اُس اجلاس میں بطور ممبر موجود تھے،جس میں اعزازات دینے کے فیصلے کئے گئے۔

یہ بھی کہا گیا کہ انہیں یہ اعزاز آرٹس اور ادب کے شعبے میں دیا گیا ہے،جبکہ انہوں نے آج تک ایک لفظ تخلیق نہیں کیا،نہ ہی اُن کی کوئی کتاب چھپی ہے۔ وہ بارہ برسوں سے کبھی خود اور کبھی اپنے فرنٹ مین کے ذریعے کراچی آرٹس کونسل پر قابض ہیں اور حال ہی میں انہوں نے اس ہال کو اپنے نام سے موسوم کر لیا ہے،جو سندھ حکومت نے کراچی آرٹس کونسل میں تعمیر کروایا۔

اُس آڈیٹوریم کا نام احمد شاہ آڈیٹوریم خود ہی رکھا، جو اپنے اختیارات سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی بدترین مثال ہے۔دو اڑھائی ماہ پہلے کراچی آرٹس کونسل کے سالانہ انتخابات کے موقع پر انہوں نے ایک مخالف گروپ کی امیدوار معروف شاعرہ قندیل جعفری پر حملہ کرایا،جس کی ایف آئی آر باقاعدہ کمشنر کراچی کے حکم سے درج ہوئی۔عرضداشت میں کہا گیا ہے کہ 22مارچ کو وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی صدارت میں ایوارڈ کی نامزدگیوں کے لئے جو اجلاس ہوا،اُس میں احمد شاہ بطور صوبائی آرٹس کونسل کے نمائندے کی حیثیت سے موجود تھے اور اسی میں صوبائی چیف سیکرٹری سندھ نے اُن کا نام ستارۂ امتیاز کے لئے پیش کیا، جو بندربانٹ کی بدترین مثال ہے،جبکہ کراچی آرٹس کونسل کے مالی معاملات میں خوردبرد پر نیب اُن کے خلاف تفتیش بھی کر رہا ہے۔

سندھ کے حوالے سے اقربا پروری اور میرٹ سے انحراف کی خبریں تو معمول کی بات ہیں،مگر سوال یہ ہے کہ قومی اعزازات تقسیم کرنے کا طریقہ کار کیا ہے،کیا اجلاس میں صوبے کا چیف سیکرٹری جس کا نام پیش کرے اُسے تمغہ مل جانا چاہئے؟کیا اس کے لئے قومی و صوبائی سطح پر سینئر دانشوروں، لکھاریوں، مصوروں اور صحافیوں پر مشتمل سرچ کمیٹیاں نہیں بننی چاہئیں۔

ڈپٹی کمشنروں کے ذریعے نام منگوانے کی احمقانہ روایت کب ختم ہو گی؟آخر بیورو کریسی کا اس سارے سلسلے سے تعلق کیا بنتا ہے۔کوئی تو معیار مقرر ہونا چاہئے۔

مہوش حیات کو ابھی شوبز میں آئے جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے ہیں، اسے تمغۂ حسن کارکردگی مل رہا ہے، جو فنکار نصف صدی سے بھی زیادہ گزار چکے ہیں، وہ کسی شمار و قطار میں نہیں آتے۔پھر یہ قومی ایوارڈ ہیں،ان کی تقسیم پورے ملک کے ادیبوں، شاعروں، فنکاروں،ہنر مندوں، مصوروں اور فنون لطیفہ کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات میں میرٹ پر ہونی چاہئے، مگر آج تک کسی کو معلوم نہیں ہو سکا کہ ان ایوارڈز کی تقسیم کا میرٹ کیا ہے، طریقہ کار کس نے بنایا ہے؟ لگتا یہی ہے کہ جو شاہ کے مصاحب ہوتے ہیں، یا جنہیں درباری کمزوریوں کا علم ہوتا ہے، وہی یہ اعزاز پاتے ہیں۔

ہر سال اِن ایوارڈز کی تقسیم میرٹ سے انحراف اور اقربا پروری کی کئی کہانیاں چھوڑ جاتی ہے،اس کا دہرا نقصان ہوتا ہے،جنہیں یہ ایوارڈ اور تمغے ملتے ہیں، وہ بھی اُن لوگوں کی وجہ سے جنہیں سفارش یا سیاسی وابستگی کے باعث تمغے ملتے ہیں، اپنے استحقاق کو ثابت نہیں کر سکتے اور دوسرا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ملک کے طول و عرض میں کم وسائل کے باوجود فن کی شمعیں جلانے والے اِن اعزازات کی بندر بانٹ پر کڑھتے رہتے ہیں۔ اِس بار حکومت یہ عذر پیش کر سکتی ہے کہ اُسے زیادہ وقت نہیں ملا،اِس لئے پرانے طریقہ کار کے مطابق شخصیات کا انتخاب کیا گیا،لیکن کیا آئندہ کے لئے وزیراعظم عمران خان اس حوالے سے کوئی پالیسی بنائیں گے۔

کیا اُس میں پورے ملک کے لوگوں کو نمائندگی ملے گی؟ پانچ کروڑ آبادی کے علاقے جنوبی پنجاب سے اگر ایک شخص نہیں ملتا اور لاہور سے دس مل جاتے ہیں تو یہ میرٹ نہیں،بلکہ اقربا پروری ہے۔ویسے یہ بات تو وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے پوچھنی چاہیے کہ کیا وہ اپنے علاقے سے کسی ایک کو کسی تمغے کا مستحق نہیں سمجھتے یا ’’صوبے کے حقیقی حکمران‘‘ نے انہیں اس سلسلے میں کسی مشورے کے لائق ہی نہیں سمجھا۔

اسی طرح دیگر صوبوں میں صرف بڑے شہروں کی شخصیات کو ہی نہیں،بلکہ دور دراز کے علاقوں میں علم وہنر کی آبیاری کرنے والوں پر بھی نظر ڈالی جائے، تاکہ پورے پاکستان کے اہلِ علم و ادب اور فن و ثقافت کے دِلوں میں یہ احساس تفاخر پیدا ہو کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، وہ کار زیاں ثابت نہیں ہو رہا۔

مزید : رائے /کالم