کابل ،جشن نوروز کے دوران 3بم دھماکے6افراد ہلاک ،23زخمی

کابل ،جشن نوروز کے دوران 3بم دھماکے6افراد ہلاک ،23زخمی

کابل (این این آئی )افغانستان کے دارالحکومت کابل میں جشن نوروز کے دوران 3 بم دھماکوں کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔وزارت صحت کے ترجمان واحداللہ مایر نے بتایا کہ کابل میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک اور 23 زخمی ہو گئے، وزارت داخلہ نے بھی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔دوسری جانب طالبان کی جانب سے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو ایک پیغام بھیجا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ طالبان کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔پولیس کے مطابق دھماکے پہلے سے نصب بارودی مواد کی وجہ سے ہوئے جنہیں مسجد کے باتھ روم، ہسپتال کے عقب میں نصب کیا گیا تھا۔یہ دھماکے کابل یونیورسٹی اور کرتے سخی مزار میں ہوئے جہاں لوگ نئے ایرانی سال ’نوروز‘ کا جشن منانے کیلئے جمع ہوئے تھے۔افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ دراصل جس وقت ہم ایک دوسرے کو ساتھ ملا کر رکھنے والا یہ دن منا رہے ہیں، کابل میں ہمارے ساتھی شہریوں نے ایک اور بربادی کا دن دیکھا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پرامن شہریوں کو بزدل دشمن کے ہاتھوں گنوا دیا جس کی کوئی حدود نہیں۔کابل پولیس کے ترجمان بشیر مجاہد نے کہا کہ کابل یونیورسٹی کے قریب چوتھی بارودی سرنگ کو ناکارہ بنا دیا گیا جبکہ حکام علاقے میں مزید دھماکا خیز مواد کی تلاش کر رہے ہیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ بارودی سرنگیں نوروز کا جشن منانے والوں سے دور نصب کی گئی تھیں جس سے جانی نقصان نسبتاً کم ہوا۔دریں اثناء افغانستان میں شدید بارشوں اور بدترین سیلاب کی صورتحال کے باعث اقوام متحدہ کے ہنگامی امداد کے ادارے نے کہاہے کہ افغانستان میں شدید بارشوں کے نتیجے والے آنے والے سیلاب کے باعث تقریباً ایک لاکھ بائیس ہزار شہری متاثر ہوئے ۔ سیلاب کی وجہ سے کم از کم تریسٹھ افراد ہلاک اور بتیس زخمی بھی ہوئے۔ پانچ ہزار مکانات مکمل طور پر تباہ اور سات ہزار پانچ سو کے قریب جزوی طور پر منہدم ہو گئے۔ یہ شدید بارشیں گزشتہ کئی برسوں سے جاری خشک سالی کے بعد ہوئیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز ایک بیان میں اقوام متحدہ کے ہنگامی امداد کے ادارے نے بتایاکہ ان متاثرین کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔ بتایا گیا ہے کہ شدید بارشوں سے افغانستان کے چونتیس صوبوں میں سے چودہ بری طرح متاثر ہوئے۔ پانچ ہزار مکانات مکمل طور پر تباہ اور سات ہزار پانچ سو کے قریب جزوی طور پر منہدم ہو گئے۔ یہ شدید بارشیں گزشتہ کئی برسوں سے جاری خشک سالی کے بعد ہوئیں۔

افغانستان

مزید : صفحہ آخر