مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ جماعت کے بانی اور پہلے منتخب امیر تھے

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ جماعت کے بانی اور پہلے منتخب امیر تھے

لاہور ( نمائندہ خصوصی) جماعت اسلامی پاکستان کے قیام ہی سے اس کا نظم جمہوری اور شورائی بنیادوں پر استوار چلا آرہا ہے۔دستورِ جماعت اسلامی کے تحت ہر پانچ سال بعد ،امیر جماعت کے باقاعدہ انتخاب ہوتے ہیں۔ آج تک ان میں کبھی کوئی تعطل نہیں آیا۔مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ،جماعت کے بانی اور پہلے منتخب امیر تھے جو1941ء تا 1972ء انتخاب کے ذریعے جماعت اسلامی کے امیر منتخب ہوتے رہے۔ان کے بعد میاں طفیل محمد ؒ 1972ء تا 1987 ء باقاعدہ امیر جماعت منتخب ہوتے رہے۔ان کے بعد قاضی حسین احمد ؒ 1987ء 2009ء تک باقاعدہ انتخاب کے ذریعے امیر جماعت منتخب ہوتے رہے۔اسی طرح سید منورحسن بھی 2009ء سے 2014ء کے پانچ سالہ دورانیہ کے لئے امیر جماعت منتخب ہوئے تھے۔2014ء میں انتخاب کے ذریعے پانچ سالہ دورانیہ کے لئے سراج الحق ،امیر جماعت منتخب ہوئے تھے۔جماعت اسلامی کے دستور کی دفعہ ۳۷ (الف) کے تحت’’ انتخابی کمیشن‘‘ ایک دستوری ادارہ موجودہے ۔جس کا صدر اور چار ممبران،مرکزی مجلسِ شوری تین سال کے لئے منتخب کرتی ہے۔انتخابی کمیشن کا یہ دستوری ادارہ، امیر جماعت،مرکزی مجلسِ شوریٰ اور مرکزی مجلسِ عاملہ کے انتخابات کے انعقاد کا اہتمام کرتا ہے۔اس کے موجودہ منتخب صدر اسداللہ بھٹو ہیں اور اس کے منتخب چار ممبران میں بلال قدرت بٹ ، ڈاکٹر سید وسیم اختر ، محمد حسین محنتی اور مولانا عبدالحق ہاشمی شامل ہیں۔مرکزی شعبہ انتخابات ،انتخابی کمیشن کے سیکرٹریٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔جماعت اسلامی کے دستورکی دفعہ ۱۳ کے مطابق پارٹی انتخابات میں کوئی امیدوار نہیں ہوتا۔البتہ قواعد انتخاب امیر جماعت اسلامی پاکستان کی شق نمبر۶کے تحت ،مرکزی مجلسِ شوریٰ خفیہ رائے دہی کے ذریعے ،ارکانِ جماعت کی راہنمائی کے لئے ،تین نام تجویز کرتی ہے۔جو حروفِ تہجی کی ترتیب سے بیلٹ پیپرز پردرج کئے جاتے ہیں۔تاہم ارکانِ جماعت ان تین ناموں کے علاوہ بھی کسی اور رکنِ جماعت کے حق میں اپنی رائے کا استعمال کرنے میں آزاد ہوتے ہیں۔اس دفعہ مرکزی شوریٰ نے جو تین نام تجویز کئے ،ان میں سراج الحق ، لیاقت بلوچ اور (پروفیسر) محمد ابراہیم کے نام شامل تھے۔واضح رہے کہ دستور جماعت کی روشنی میں جماعت اسلامی کے تمام انتخابات میں نہ کوئی امیدوار ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی compaignہوتی ہے۔دستورِ جماعت کے مطابق ان کی اجازت نہیں ہے۔نیزہر رکن اپنے علاوہ کسی بھی رکنِ جماعت کے حق میں اپناووٹ استعمال کرسکتاہے۔نتائج کے مطابق اس انتخاب میں *۔کل ووٹرز(ارکان جماعت) کی تعداد 39,124تھی۔*۔جن میں 34,266مرد ارکان، *۔4,858 خواتین ارکان شامل ہیں۔ *۔امیر جماعت اسلامی پاکستان کے انتخابات برائے مدت 2019 ء تا2024ء ( پانچ سال) کے نتائج کے مطابق سراج الحق ،امیر جماعت منتخب ہوئے ہیں۔دعا ہے اللہ تعالیٰ انہیں اس عظیم ذمہ داری کے لئے توفیق اور استقامت سے نوازے۔

امیر

مزید : صفحہ آخر