پاکستان بار کونسل کی کال پر نئی جوڈیشل پالیسی کیخلاف وکلاء کی ہڑتال ‘ ریلیاں

پاکستان بار کونسل کی کال پر نئی جوڈیشل پالیسی کیخلاف وکلاء کی ہڑتال ‘ ریلیاں

ملتان (بیورو رپورٹ ‘خبر نگار خصو صی ) پاکستان بار کونسل کی کال پر نئی جوڈیشل (بقیہ نمبر21صفحہ12پر )

پالیسی کے خلاف ملک بھر کی طرح ملتان کے وکلاء کی جانب سے ہڑتال کی گئی۔ اس ضمن میں ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کی جانب سے ارجنٹ مقدمات کی سماعت کے بعد جبکہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کی جانب سے مکمل ہڑتال کی گئی۔ گزشتہ روز وکلاء مقدمات کی پیروی کیلئے عدالتوں میں پیش نہ ہوئے جس کی وجہ سے بیشتر مقدمات کی سماعت ملتوی کردی گئیں۔پاکستان بار کونسل کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ جب تک غیر قانونی اور غیر آئینی 22A , 22 B، چار دن میں مقدمہ قتل کا فیصلہ ، قانون جانشینی، اور ضمانت بذریعہ تھانیدار کی مجوزہ ترمیم واپس لی جائے پاکستان اور پنجاب بار کونسل کی کال پر گز شتہ روز بھی مکمل ہڑتال کی گئی۔ وکلاء نے کہا کہ 22 اے ختم کرنا نوجوان وکلاء کا معاشی قتل ہے۔چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ ہے کہ نئی جوڈیشل پالیسی کے تحت 22 اے ختم کرنے کا فیصلہ فوری واپس لیا جائے۔پاکستان بار اور پنجاب بار کونسل کی کال پر ڈسٹرکٹ بار وہاڑی کے وکلاء نے مکمل ہڑتال کی اس موقع پر صدر بار چوہدری شکیل احمد تارڑ اور جنرل سیکرٹری علی اعجاز چوہدری نے وکلاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک غیر قانونی اور غیر آئینی 22A, 22 B، چار دن میں مقدمہ قتل کا فیصلہ، قانون جانشینی، اور ضمانت بذریعہ تھانیدار کی مجوزہ ترمیم واپس نہ لی گئی ہڑتال جاری رہے گی اور غیر آئینی ترمیم کی واپسی تک چیف جسٹس پاکستان سے وہاڑی سمیت ملک بھر کے تمام وکلاء نمائیدگان ملاقاتیں منسوخ کردی گئی ہے ڈسٹرکٹ بار میں ہڑتال کے باعث کوئی وکیل عدالتوں میں پیش نہیں ہوگا.

جوڈیشل پالیسی

مزید : ملتان صفحہ آخر