نو منتخب امیر جماعت اسلامی سے توقعات اور درپیش چیلنجز

نو منتخب امیر جماعت اسلامی سے توقعات اور درپیش چیلنجز
 نو منتخب امیر جماعت اسلامی سے توقعات اور درپیش چیلنجز

  


سینیٹرز سراج الحق دوسری دفعہ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر منتخب ہو چکے ہیں۔ 2014ء میں ارکان جماعت اسلامی نے جماعت اسلامی کی تاریخ میں اَپ سیٹ کیوں کیا؟ امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کی موجودگی اور دیگر سینئر ترین جماعتی رہنماؤں کی موجودگی میں سراج الحق کو کیوں امیرمنتخب کیا۔2014ء میں سراج الحق سے کیا توقعات تھیں اب سوال اُٹھتا ہے پانچ سال پہلے وابستہ کی گئی توقعات کس حد تک پوری ہوئیں۔2019ء میں دوبارہ امیر کے لئے ووٹ دینے والوں نے اب کیا توقعات وابستہ کر لی ہیں۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ارکان جماعت اسلامی اور نوجوان نسل کو جو توقعات تھیں، پانچ سال گزارنے کے باوجود پوری نہ ہو سکیں، کارکنان جماعت کے مطابق گزشتہ 5سال میں نظریاتی جماعت کا تشخص بحال نہ ہو سکا۔ اپنا نشان، منشور نعرے سے عمل تک کا سفر مکمل نہیں ہوا،بولڈ فیصلے کرنے میں ناکام رہے، بیانیہ میں واضح تضاد پایا گیا، جماعتی ادارے نظر انداز ہوئے، تنظیم، دعوت اور تربیتی امور کے لئے وقت نہ نکال سکے۔ ایک ایک فقرے پر اگر بحث کی جائے تو بعض مخصوص حلقے جو جماعت اسلامی کو نظریات سے ہٹ کر افراد کے درمیان فٹ بال بنانے میں کامیاب رہے وہ تو سرا سر الزام قرار دیں گے۔ تزکیہ کے لئے ان کو سراج الحق صاحب کی مینارِ پاکستان میں کی گئی ولولہ انگیز تقریر کو دوبارہ سننا ہو گا، جس میں جماعت اسلامی کو اپنے، اصل کی طرف لانے، نظریاتی تشخص بحال کرنے، اپنے نام، نشان اور نصب العین کا لوہا منوانے کے اعلانات شامل تھے اس بیانیہ کا ہم نے مذاق کس طرح اڑایا۔

خیبرپختونخوا میں پانچ سال تک پی ٹی آئی کی حکومت کا حصہ رہے،جب الیکشن لڑنے کا وقت آیا تو پی ٹی آئی کی سب سے بڑی مخالف جماعت سے اتحاد کر لیا۔ عوام سوال کرتے رہ گئے آپ پانچ سال تک ٹھیک تھے یا اب مولانا فضل الرحمن نے آپ کا قبلہ درست کروایا ہے۔دوسری مثال امیر جماعت اسلامی نے میاں نوازشریف کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر کے بڑے جہاد کا اعلان کیا، جب کرپشن کے خلاف بیانیہ مقبول عام ہونے لگا تو آزاد کشمیر میں مسلم لیگ(ن) سے انتخابی اتحاد کر لیا۔عوام کو تو سیاست دانوں کی طرح نظر انداز کیا جا سکتا ،مگر سوشل میڈیا نے جو درگت بنائی اس کا خمیازہ ہم2018ء کے الیکشن میں بھگت چکے ہیں۔

گزشتہ پانچ سال میں دور اندیشی نظر نہیں آئی،البتہ بعض حلقوں نے تاثر دیا کہ10سیٹیں مل جاتیں تو سب ٹھیک کہا جاتا، اتنا شور نہ مچتا۔ اس کے ساتھ الیکشن میں عبرتناک شکست کے بعد امیر جماعت اسلامی کے ارکان سے اضلاع وڈویژن کی سطح کے اجتماعات میں خطابات کو سراہا گیا اس میں کوئی شک نہیں۔امیر جماعت اسلامی نے مایوس کارکنان کو حوصلہ دیا، ٹوٹتے بندھن دوبارہ جوڑے، ڈوبتی کشتی کو پھر کنارے لگا دیا یہ کریڈٹ کس کو دیں ایک فرد کو یا جماعتی کارکنان کو جو نظر انداز کئے جانے، بھوکے پیاسے رہنے، ٹوٹ جانے کے باوجود صف بندی نہیں چھوڑتے، کیونکہ وہ سید مودودیؒ کی فکر سے جڑے ہوئے ہیں۔

جماعتی تاریخ اس کوہلنے نہیں دیتی، ملک پر مشکل وقت آیا، طاغوتی قوتیں سب کچھ ملیا میٹ کرنے میں مصروف تھیں، جماعت نے پوری قوم کو بیدار کیا، سی ٹی بی ٹی پر دستخط نہ ہونے دیئے، سوشلزم کمیونزم کا منہ موڑا، ختم نبوت کی تحریک میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چاہنے والوں کو تسبیح میں پرو دیا، دشمنانِ دین نے فرقہ واریت کی بھٹی میں قوم کو جھوکنے کی کوشش کی، ملی یکجہتی کونسل کے نام پر بیداری عوام مہم چلائی اور شیعہ سُنی فسادات کے آگے پُل باندھ دیا۔ کشمیر ہو یا افغانستان، اُمت کو متحد کیا، قوم کو پاک فوج کی پشت پر کھڑا کیا، ایسے درجنوں ایشو ہیں جس میں جماعتی قیادت نے قوم کی حقیقی رہنمائی کی۔ سب سے بڑی توقعات جو 2014ء میں سراج الحق سے وابستہ کی گئی تھیں وہ تھیں تنظیم کی ری سٹرکچرنگ، شاندار نتائج دینے والی باصلاحیت اور یکسو ٹیم کا انتخاب!

بعض جماعتی حلقے اس کو منفی انداز میں لیتے ہیں، ان کا موقف ہے سراج الحق کی ناکامی کا تاثر سیکرٹری جماعت کی تبدیلی سے منسوب کیا جاتاہے، مَیں ذاتی طور پر اِس بات کو درست نہیں سمجھتا۔ سیکرٹری جماعت اسلامی نے جتنا پانچ سال میں کام کیا ہے پوری جماعتی قیادت مل کر اتنا نہیں کر سکی،زمینی حقائق کو سمجھنا چاہئے۔جماعت اسلامی کے سینئر افراد کو ان کا جائز مقام دینا امیر جماعت اسلامی کا فرض ہے۔البتہ بزگ ذمہ داران کا فرض ہے کہ وہ قربانی دیں اور صرف سرپرستی کریں، نوجوان باصلاحیت قیادت کو راستہ دیں، میری ذاتی رائے اور کارکنان جماعت اسلامی کے ملنے والے خطوط کی روشنی میں2019ء میں دوبارہ منتخب ہونے والے امیر جماعت اسلامی سے وابستہ گزشتہ توقعات پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہیں اور نومنتخب امیر جماعت اسلامی کے لئے جو چیلنجز ہیں وہ پہلے سے بھی زیادہ مشکل اور اہم ہیں۔جماعتی کارکن سرعام کہہ رہا ہے ابھی نہیں تو کبھی نہیں، اب سراج الحق نے فیصلہ سازی میں مصلحت دکھائی، بولڈ فیصلے نہ کئے، صحیح افراد کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق ذمہ داریاں نہ دیں تو تاریخ اُنہیں معاف نہیں کرے گی۔

بعض حلقے کارکنان کے ان جذبات کو غلط رنگ دے رہے ہیں! معاشرے ہمیشہ اداروں سے بنتے ہیں، کردار سے بنتے ہیں، اعمال سے بنتے ہیں۔ جماعت اسلامی کی بدقسمتی رہی ہے کہ افراد نے ادارے بنائے جماعت اسلامی کے نام پر،مگر جماعت کو کچھ نہ دے سکے، افراد امیر ہوتے گئے اور جماعت کمزور۔

سید مودودیؒ کی جماعت اسلامی مصلحتوں سے پاک، من پسند افراد کو نوازنے سے مبرا، تضادات اور دوعملی سے پاک ہوتی ہے۔جماعتی کارکن کا مورال بلند کرنے کے لئے جماعت اسلامی کے موجودہ ڈھانچے جس میں مسجد کمیٹی بھی میرٹ پر نہیں بن رہی، ادارے بھی تعلق کی بھینٹ چڑھائے جا رہے ہیں، تنظیم میں ری سٹرکچرنگ کی ضرورت ہے، بیانیہ کے تضادات کو دور کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ جماعت کی نظریاتی فکر کو لانے کے لئے نعروں سے زیادہ عمل کی ضرورت ہے، تھینک ٹینک کا قیام، تربیتی نظام کے لئے موثر نظام کی تشکیل خوش آئند جماعتی قیادت کو اوپر سے نیچے تک ایک بیانیہ پر یکسو کرنا، مساجد اور مدارس کو مرکز بنانا، دعوتی لٹریچر کو عام کرنا،تربیتی نظام کو موثر بنانے کے چیلنجز سے نپٹنے کی ضرورت ہے۔

نومنتخب امیر جماعت اسلامی سراج الحق صاحب یہ سب کچھ شاید ایک دو افراد کی تبدیلی سے ممکن نہ ہو اس کے لئے موثر قیادت کو بروقت اور اہم فیصلے کرنا ہوں گے، شاندار باصلاحیت ٹیم شاندار نتائج دے سکتی ہے۔ جماعتی کارکنان نے ایک دفعہ پھر آپ سے لاؤ لگا لی ہے،ان کی بھی سنئے، ان کے لئے وقت نکالئے، کراچی سے خیبر تک کارکن آپ کا منتظر ہے۔ آپ کے ساتھ پوری قیادت کو زمین پر آنا پڑے گا۔ پاکستان میں قیادت کا بحران شدت اختیارکر رہا ہے۔ آپ جماعتی کارکنان کے ساتھ پاکستانی عوام کی امیدوں کا مرکز و محور بن سکتے ہیں بس اب کچھ کر گزریئے۔

مزید : رائے /کالم