3ہفتوں میں بڑی خوشخبردونگا، نریندر مودی کی ریٹنگ نیچے جارہی ہے، بھارت کے الیکشن تک خطرہ ہے ہمیں ، تیار رہنا ہو گا، کالعدم تنظیموں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ، نیب کو ہر کیس کھولنے کے بجائے مخصوص مقدمات پر توجہ دیںی چاہیے : عمران خان

3ہفتوں میں بڑی خوشخبردونگا، نریندر مودی کی ریٹنگ نیچے جارہی ہے، بھارت کے ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی الیکشن میں ریٹنگ نیچے جارہی ہے اس لیے ہمیں زیادہ تیار رہنا ہوگا تین ہفتوں میں قوم کو بہت بڑی خوشخبری دوں گا۔اسلام آبادمیں سینئر صحافیوں سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں الیکشن مہم پاکستان سے نفرت کی بنیاد پر ہورہی ہے،ہم بھارت کے حوالے سے ہونے والی کسی بھی مہم جوئی کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں تاہم انتخابات تک خطرہ ہے اس لیے زیادہ تیار رہنا ہے۔معاشی صورتحال پر وزیراعظم نے بتایا کہ جب حکومت سنبھالی تو معیشت زبوں حالی کا شکار تھی،غیر مستحکم اور غیر یقینی کی صورتحال میں سب سے بڑا چیلنج ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا تھا،ابتدا میں آئی ایم ایف سے رابطہ کیا تو انہوں نے سخت شرائط رکھیں لیکن دوست ممالک سے فنڈز اکٹھے کیے اور اب آئی ایم ایف سے معاملات کنٹرول میں ہیں۔،کالعدم تنظیموں سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے دوٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ کالعدم تنظیموں کو کسی صورت برادشت نہیں کیا جائے گا، ماضی میں کالعدم تنظیموں کے حوالے سے بڑی غلطی ہوئی اب عالمی برادری ہم پر انگلیاں اٹھاتی ہے،کوئی بھی ملک مسلح جتھوں کو رکھنے کی اجازت نہیں دیتا ہم بھی مسلح ملیشیا کے وجود کو برادشت نہیں کریں گے۔۔وزیراعظم نے سرکاری اخراجات کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ شہبازشریف نے طیارے پر 35کروڑ روپے خرچ کیے لیکن میں نے 22لاکھ روپے کا خرچہ کیا وہ بھی سرکاری منصوبوں کے افتتاح کی مد میں کیا گیا۔وزیراعلی پنجاب کی تبدیلی کے افواہوں پر وزیراعظم نے عثمان بزدار کا مکمل دفاع کیا اور کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ، لیڈر بننے میں تھوڑا وقت تو لگتا ہے۔صحافیوں سے گفتگو میں وزیراعظم عمران خان کا مزیدکہنا تھا کہ حکومت کا نیب پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ ہر کیس کھولنے کے بجائے نیب کو مخصوص مقدمات پر توجہ دینی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک پر 30ہزار کروڑ روپے کا قرض چڑھانے والے قومی مجرم ہیں ان کا حساب ہونا چائیے ۔ پہلے شریف خاندان شورمچارہاتھا،اب زرداری خاندان شورمچارہاہے، حکومت کانیب پرکوئی دباؤنہیں، ہرکیس کھولنے کے بجائے نیب کومخصوص مقدمات پرتوجہ دینی چاہیے، پی آئی اے میں بڑے بڑے کنویں ہیں جہاں اربوں روپے چلے جاتے ہیں، اسٹیٹ لائف میں بھی خسارہ 50 ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔ عمران خان نے سابق وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے بیرون ملک اپنے بیٹوں کے نام پر اربوں روپے اکٹھے کیے۔۔وزیراعظم نے کہا کہ بیوروکریٹ کام نہیں کر رہے جس سے حکومت کی مشکلات بڑھ رہی ہیں، بیوروکریسی سمجھتے ہیں جتنی انکوائریاں کھل چکی ہیں نیب کے پاس افرادی قوت نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نیب بڑے بڑے لوگوں کو عبرتناک سزائیں دے گا، بڑوں کو سزا ملنے پر چھوٹے بدعنوان خودبخود راہ راست پر آجائیں گے۔ جے یو آئی ف کے سربراہ پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری بدقسمتی سے ہم نے دین کا ٹھیکیدار مولانا فضل الرحمان اور ان جیسے دیگر لوگوں کو بنا دیا۔نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے نیشنل ایکشن پلان پر اتفاق کیا، لیکن سابقہ حکومتوں نے نیشنل ایکشن پلان پر عملی اقدامات نہیں اٹھائے۔پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت میں عام انتخابات تک ہماری سرحدوں پر خطرات منڈلاتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ پلوامہ واقعہ کے بعد بلوچستان میں دشمن کی دہشت گردی بڑھنے کی انٹیلی جنس رپورٹس ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ بھارت کے علاوہ افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدوں کو محفوظ بنا رہے ہیں۔

عمران خان

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے نیوزی لینڈ کی ہم منصب جیسنڈا آرڈرن کو فون کیا اور انہیں سانحہ کرائسٹ چرچ کے بعد ان کے ردعمل کی تعریف کی اورکہا دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کیساتھ ساتھ مسلمانوں سے باعزت برتاؤ قابل تحسین اقدامات ہیں جن پر پاکستانی قوم شکر گزار ہے، وزیر اعظم نے نیوزی لینڈ کے مقامی حکام کی جانب سے سانحہ پر تیز رد عمل پر خراج تحسین پیش کیااور کہا اسلامو فوبیا اور عالمی انتہا پسندی سے نمٹنے کیلئے وزیراعظم آرڈرن نے دیگر رہنماؤں کو راستہ دکھایا ہے، آپکی قیا د ت اور رویے کے باعث پاکستان میں آپ نے بہت سے لوگوں کے دل جیت لیے ہیں۔ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا، غم کی اس گھڑی میں پاکستان نیوزی لینڈ کی حکومت اور عوام کیساتھ ہے۔اس موقع پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے کہا اس حادثے کے باعث نیوزی لینڈ صدمے میں ہے، ہم نے فوری طور پر آٹومیٹک گنز اور رائفلز پر پابندی عائد کی،جیسنڈا آرڈن نے سانحہ میں پاکستان کے نعیم رشید کی جرات و بہادری کی تعریف کی اور کہا نیوزی لینڈ مسلمانوں کی آزادی اور تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گا،وزیراعظم عمران خان نے انہیں پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔بعدازاں وفاقی وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان نے وزیراعظم عمران خان سے اہم ملا قا ت کی،اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے گیس کی اووربلنگ کیخلاف جاری تحقیقات کو تیز کرنے اور عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے والے ذمہ داران کیخلاف سخت ترین کارروائی کے احکامات بھی جاری کیے ،غلام سرور خان نے واضح کیا کہ عوام سے زائد گیس بل وصولی کی ایک ایک پائی عوام کو ہر قیمت پر واپس دلوائی جائے گی ،مزیدبرآں30جون تک صارفین کے کیسز کی تصدیق کی جائے گی اور ان کو زائد رقم واپس کی جاے گی۔ اووربلنگ کے ذمہ داران کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا اور کڑی سزا کے عمل سے کوئی بھی بچ نہیں پائے گا ۔اسکے علاوہ وزیر پیٹرولیم نے ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور کہا پیپلزپارٹی کی منفی سیاست ملک کو غیر مستحکم کرنے کی ناکام کوشش ہے ،بلاول بھٹو اور زرداری مودی کی زبان بول رہے ہیں اورملک کو دہشت گردی کی آماجگاہ قرار دے رہے ہیں،جو سراسر غلط ہے کیونکہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔دریں اثناوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے شام کو وزیراعظم پاکستان عمران خان سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور انہیں سابقہ فاٹا میں ترقیاتی اصلاحات اور فلاحی سرگرمیوں سمیت پشاور اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں صوبائی حکومت کی طرف سے جاری مختلف بڑے پراجیکٹس پر بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کو صوبے اور مرکز کے مختلف ڈویژنز اور اداروں کیساتھ ہونے والے اجلاسوں اور کوآرڈینیشن سے بھی آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے ضم شدہ اضلاع کی ترقی ، خوشحالی ، آبادکاری اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے لئے ایک مکمل پلاننگ اور وسائل کے استعمال کی ہدایت کی اور کہا کہ ترقیاتی اور فلاحی سرگرمیوں کا محور غریب عوام ہونا چاہیئے۔حکومت نے وسائل کی فراہمی کا آغاز کردیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں عوامی فلاح کیطرف بتدریج لیکن تیز رفتاری کیساتھ آگے بڑھنا ہے۔ ہمارے وسائل انسانی ترقی پرخرچ ہونے چاہئیں، پھر ہمارے لوگ خود اپنی ترقی اپنی مرضی سے پلان کرسکیں گے۔ وزیراعظم نے سابقہ قبائلی علاقے کو قومی ترقی کے دھارے میں لانے والے اقدامات ، منصوبہ بندی اور سکیموں کے اجراء کو سراہا۔

وزیر اعظم

مزید : صفحہ اول