ملائیشین وزیراعظم کا دورہ سے تعلقات میں اضافہ ہو گا‘ افتخار علی ملک

ملائیشین وزیراعظم کا دورہ سے تعلقات میں اضافہ ہو گا‘ افتخار علی ملک

لاہور ( این این آئی) سارک چیمبر کے سینئر نائب صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کا دورہ پاکستان دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین معاشی تعاون اور باہمی تعلقات کے فروغ کے ضمن میں سنگ میل ثابت ہو گا۔ جمعرات کو یہاں پاک۔ملائیشیا ٹریڈرز کے 10 رکنی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال جنوب مشرقی ایشیا میں پاکستان ملائیشیا کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر تھا۔ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کے فروغ کی بے پناہ گنجائش موجود ہے اس لئے انہیں مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں سمیت نئے مواقع کی تلاش کیلئے تمام تر اقدامات کی کوشش کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دو طرفہ تجارت میں موجودہ اضافہ 2007 میں آزادانہ تجارتی معاہدے پر دستخط کے بعد شروع ہوا تھا۔ دو طرفہ تجارت میں پاکستان کا حصہ صرف 257 ملین ڈالر ہے جس کی وجہ سے تجارت کا توازن ملائیشیا کے حق میں ہے۔ اس عدم توازن پر قابو پانے کیلئے ملائیشیا کو پاکستانی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کی ضرورت ہے۔ یونائیٹڈ بزنس گروپ کے مرکزی چیئرمین افتخار علی ملک نے کہا کہ پاکستانی کاروباری برادری ملائیشیا کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے اور نئے تجارتی امکانات کو فروغ دینے کیلئے پر عزم ہے۔ ملائیشیا اور دیگر برادر ممالک کے ساتھ پاکستان کے بہتر تعلقات تجارت کا فروغ عوامی خوشحالی کیلئے انتہائی ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملائیشیا کی کمپنیاں پاکستان میں کاروبار کیلئے رابطہ دفاتر، برانچ آفس یا کسی پاکستانی کمپنی کے قیام یا اس کے ملکیتی ماتحت ادارے یا مشترکہ منصوبے کے طور پر کسی بھی طریق کار کا انتخاب کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامک فنانس، حلال فوڈ انڈسٹری، توانائی، کم لاگت ہاؤسنگ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ٹیلی مواصلات اور تعلیم کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے لئے بہت زیادہ گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا اور پاکستان کے مابین 1957 میں سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے قریبی دوستانہ تعلقات استوار ہیں اور مختلف علاقائی اور بین الاقوامی امور غیر وابستہ ممالک کی تحریک، اسلامی کانفرنس اور جی۔77 تنظیم سمیت ان کا نکتہ نظر یکساں ہے اور پاکستان آسیان کا ڈائیلاگ پارٹنر اور آسیان ریجنل فورم کا بھی رکن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی قدر مشترک ہے کہ دونوں ممالک میں نئی حکومتیں قائم ہوئی ہیں اور دونوں ہی کرپشن کیخلاف جنگ اور سرکاری و نجی شعبوں میں گڈ گورننس کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہیں اس سے بھی دونوں ممالک کے درمیان مزید تعاون کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ پاکستان کو چاہیئے کہ ملائیشیا کو سی پیک کے میگا منصوبوں میں حصہ لینے کے لئے دعوت دے۔ پاکستان ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ سرمایہ کاری کے لئے سب سے زیادہ پر کشش ملک ہے اور وزیراعظم عمران خان نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے بہترین مراعاتی پیکیج بھی پیش کیا ہے جبکہ سیاحوں اور سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لئے انتہائی لبرل ویزا رجیم کا بھی اعلان کیا گیا ہے، اس سے بھی ملائیشین بزنس کمیونٹی کو فائدہ اٹھانا چاہیے ۔

مزید : کامرس