ظلم بھی مجھ پر، دہشتگرد بھی میں ہوں

ظلم بھی مجھ پر، دہشتگرد بھی میں ہوں

  

یہ کہانی بہت پرانی ہے، یہ مائنڈ سیٹ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بنایا گیا ورنہ کیا ہوا ایسا کہ جو میں روس کی جنگ میں برادرز آف امریکہ تھا یا بریو لائنز تھا دہشتگرد کیسے بن گیا؟ سوال ہے نا کہ مجھے اپنے مقاصد کے لئے بنانے اور تربیت دینے کے ہیلری کلنٹن کے آن دی فلور اعتراف، ایراق ماس ویپن ، 911 سیمت دیگر واقعات کی حقیقت پوری دنیا کے سامنے کھل جانے کے بعد بھی ظالم مجھے بنانے والے نہیں ، میں ہوں ،،کشمیر میں اب تک مظالم کی زد میں میں ہوں، افغانستان اور ایراق میں مائیں بہنیں بھائی بچے بزرگ میرے ہی ہیں روز اپنے سامنے ان کے جنازے اٹھتے دیکھتا ہوں ،،فلسطین میں دھماکوں کے بعد ننھے بے بس بے جان پھولوں بوڑھوں عورتوں کی لاشوں کی دردناک ویڈیوز تو منظر عام پر آتی ہیں ساحل پر مردہ بچے کی تصویر تک پوری دنیا کو چھنجھوڑ نہیں پاتی اس لئے کے وہ ظلم مجھ پر ہے،، میں ہی ہوں جو بوسنیا میں ہوں ،،،جس کے ساتھ چیچنیا میں بھی وہ سلوک ہو رہا ہے جس کو دیکھ کر شیطان اور حیوان بھی سہم جائیں مگر کسی کو نظر ہی نہیں آتا ،،انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش تماشائی ہیں شائد میں انسان نہیں ہوں میرے ساتھ جو بھی ہو سب جائز ہے کیوں کہ بات مجھ سے شروع نا بھی ہو ، ختم مجھ پر ہی ہو رہی ہے،کیوں میں دنیا کے بیشتر ممالک میں مذہبی رسومات ادا نہیں کر سکتا،، مگر خاموش!! ،،پوری دنیا میں میرے لئے ویزہ پالیسی بھی مختلف ہے،،جس کا دل کرے 68میرے جیسے بے قصور سمجھوتہ ایکسپریس میں جلا دے ،سینکڑوں کو انتہا پسند اور دہشتگرد کا خود ساختہ ٹائٹل دے کر قتل کر دے،، میرا تو خون بہانا گویا ان نام نہاد انسانیت کے علم برداروں کے لئے ثواب کا کام ٹھہرا،، بین القوامی طور پر اگر مجھے فلموں اور ڈراموں میں بھی لیا جاتا ہے تو داڑھی چوغا اور زبردستی دہشتگرد کا روپ ہی دیا جاتا ہے،، مجھ سے زبردستی مجھے بنانے والوں کو اغوا کروایا جاتا ہے میں صرف فلموں اور ڈراموں کی حد تک ان کو قتل کرتا ہوں اور پھر مجھے بنانے والوں کا ایک کمزور ہیرو آتا ہے اور مجھے مار کر تالیوں کی گونج میں چلا جاتا ہے،،،بچوں کے کارٹونز میں بھی مجھے دشمن کے طور پر ہی لیا جاتا ہے،،بچپن سے بچوں کے دماغ میں گھبر نہیں میں ڈالا جاتا ہوں تاکہ نفرف اپنی انتہا کو پہنچ سکے،پاکستان میں تو بھارتی ایجنٹ کلبھوشن بھی ملا ،، اعتراف بھی کیا کہ وہ دہشتگردی کرواتا رہا،،تانے بانے بھارت سے کھل کر سامنے آ گئے ،،ملک میں دشمن اجنسیوں کی معاونت سے ہونے والے دہشتگردی کے واقعات میں ہزاروں لوگوں کو جان چلی گئی مگر سیکولر تھا اور ویسے بھی دشمن کا دشمن تو دوست ہوتا ہے ناں،،اپنی ہی دھرتی پر آپریشن کیا اپنوں کو اپنوں کے خلاف کیا پاک دھرتی کو اس ناسور سے پاک کر دیا مالی اور جانی نقصان کیا مگر پھر بھی آوازیں وہی ہیں،،ڈو مور،،، پھر نیوزی لینڈ کا سانحہ ہوا عیسائی دہشتگرد نے 50 مسلمانوں کو مساجد میں گھس کر شہید کر ڈالا،،درندہ صفت نے فیس بک پر لائیو کوریج کی اور دنیا کو ہلا ڈالا مگر نام نہاد منصفوں کا دوہرا معیار تو دیکھئے کہ ان کے نذدیک یہ دہشتگردی تھی ہی نہیں بلکہ ماس کلنگ تھی،،حیران ہوں میں ایک بار پھر کیوں پوری دنیا کا میڈیا اس کو دہشتگردی کہنے سے گریزاں ہے کیوں اگر میرے سے کوئی غلطی ہو یا کروائی جائے تو صرف وہی دہشتگردی ہے؟کیوں کوئی اور کہیں بھی میرے پر جتنی مرضی بڑی ظلم کی داستان رقم کر دے وہ دہشتگردی کے زمرے میں نہیں آتی؟اپنی آنکھ کا شطیر نظر نہیں آتا میرے تنکہ بھی پوری دنیا کے سامنے گناہ بنا دیا جاتا ہے،، کیوں اس حیوانیت کی صفائیاں بھی اسٹیریلوی سینیٹر دیتا ہے اور اس کی بات کو اہمیت دی جاتی ہے،،کیا میرا خون بہانا جرم نہیں ؟کیا سر عام مجھے گولیوں سے عبادت گاہ میں بھون دینا جائز ہو گیا؟ واہ کیا خود ساختہ اور یک طرفہ معیار ہے کون ہوں میں جس پر مظالم کی انتہا ہے اور قصوروار بھی میں ہوں ،،میں مسلمان ہوں ،،، کیا تھا اور کیا بنا دیا گیا،، کس بلندی سے کس پستی پر لا پھینگا ان بین القوامی قوتوں اور کچھ میرے ہی منافق دوستوں نے،،پیٹھ پر چھرا مارا،،مگر اب نہیں ،،، جاگنا ہو گا،،دنیا کو فخر سے بتانا ہو گا کہ ہاں میں مسلمان ہوں میرا مذہب دہشتگردی کی اجازت نہیں دیتا، میرا دین امن کی راہ کا درس دیتا ہے، میں دہشتگرد نہیں ہو میں کسی جانور تک کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا میں ویسا نہیں ہوں جیسا اپنے مقاصد کے لئے دوسرے مجھے دیکھاتے ہیں، میں ہمدرد ہوں دوست ہوں اور ہاں یاد رکھو کہ اب مجھے کوئی استعمال نہ کر سکے گا ،،،دہشتگرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ،،جو بھی معصوموں کا خون بہائے گا ناانصافی کرے گا وہ دہشتگرد ہی ہو گا،،،اور کوئے کہے نہ کہے میں چیخ چیخ کر بتاوں کا کہ میں نہیں تم ہو، ہمیشہ سے تم ہی تھے،،،

مزید :

رائے -کالم -