سندھ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برت رہی ہے: فردوس شمیم نقوی

سندھ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برت رہی ہے: فردوس شمیم نقوی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما و اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برت رہی ہے۔ اس سال این ایف سی میں گزشتہ سال سے زیادہ رقم صوبہ سندھ کو دی گئی ہے۔ اس کا حساب دیں اور بتائیں کہ وہ پیسے کہاں خرچ ہوئے۔ وہ تحریک انصاف سمیت اپوزیشن کی دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرر ہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی جس کا مطالبہ وفاق میں کر رہی ہے، وہ ہمیں سندھ میں چاہئے۔ ہم کسی غیر ضروری چیز کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ چارٹر آف ڈیموکریسی پر بے نظیر بھٹو کے دستخط ہیں۔ لکھا ہے کہ پی اے سی کا چیئرمین وفاقی و صوبائی دونوں حکومتوں میں اپوزیشن کودیں گے۔ خیبر پختونخواہ میں آفتاب شیر پاؤ نے قواعد میں لکھا کہ اسپیکر کو پی اے سی دی جائے گی۔ ہم نے پیشکش کی کہ اگر آپ کو خیبر پختونخواہ میں پی اے سی چاہئے تو وہاں بھی دلوائیں گے، یہاں تو دیجئے۔ اگر کسی کو چارٹر آف ڈیماکریسی کی اس شق پر ہمارے دستخط چاہئیں تو پی ٹی آئی، جی ڈی اے اور ایم کیو ایم تینوں اپوزیشن جماعتیں تیار ہیں۔ ہم چاہے حکمراں جماعت بنیں یا اپوزیشن، ہم اس اصول پر چلنے کو تیارہیں کہ پی اے سی چیئرمین ہر حال میں اپوزیشن سے بنایا جائے۔ باقی کمیٹیاں بھی انہوں نے جس طرح بنائی ہیں، اس کا جواب وہ دیں گے۔ ہمارا احتجاج جاری رہے گا جب تک ہمارے جائز مطالبات پورے نہیں ہوتے۔ دراصل یہ ان کے اپنے مطالبات تھے ۔ہم صرف اتنا کہہ رہے ہیں کہ جو ایک جگہ مانگتے ہو، دوسری جگہ دینے کو بھی تیار رہو۔ یہ منافقت والا رویہ نہیں چلے گا اور اس لیے نہیں چلے گا کہ منافقین کے خلاف خدا تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ آپ کو معلوم ہے۔ دوسری بات بہت اہم ہے۔ آج سندھ اسمبلی اجلاس کو چلتے ہوئے پچاسی دن سے زائد گزر چکے ہیں ۔ رول نمبر 143 کے مطابق ہر سال صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امورمکیش چاؤلہ پر لازم ہے کہ جنوری اور مارچ کے درمیان وہ بجٹ سے قبل کم از کم پانچ دن کی گفت و شنید کا اہتمام کریں گے جس میں ممبران اسمبلی کو موقع دیا جائے گا کہ وہ بجٹ کے لیے اپنی تجاویز دے سکیں۔ اگر مذکورہ گفت و شنید جمعہ کے دن سے شروع ہو تو بمشکل سات دن پورے ہوں گے۔ میں نے اس بات پر صوبائی وزیر قانون وپارلیمانی امور کو خط بھی لکھ دیا ہے۔ سندھ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برت رہی ہے۔ رول نمبر 144کے مطابق ہر تین ماہ بعد حکومت کی کارکردگی پربحث و تمحیص لازمی ہے۔ فروری کے آغاز میں ہم نے یہ نکتہ اٹھایا تھا اور سندھ حکومت نے بحث و تمحیص کے اہتمام کا اقرار کیا۔ اس اسمبلی کو چھ ماہ گزر چکے ہیں اور ابھی تک کوئی بحث و تمحیص عمل میں نہیں آسکی۔ اے ڈی پی کا صرف سترہ فیصد خرچ ہوا ہے اور اس کا بہانہ یہ ہے کہ وفاق نے ہمیں پیسے پورے نہیں دئیے۔ میں آج اس ڈائس پر کھڑے ہو کر چیلنج کرتا ہوں کہ اسد عمر کا بیان آپ سب نے دیکھ لیا کہ اس سال گزشتہ سال سے زیادہ رقم صوبہ سندھ کو دی گئی ہے۔ اس کا حساب دیں اور بتائیں کہ وہ پیسے کہاں خرچ ہوئے۔ ہمیں سندھ حکومت کی چھتر چھایا میں صرف چوری چکاری اور بربادی نظر آتی ہے۔ اس بات پر ہمیں سخت تشویش ہے اور تمام اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ بجٹ سے قبل ہونے والی خصوصی بحث و تمحیص فوری عمل میں لائی جائے۔ حکومت سندھ جواب دے کہ وہ اے ڈی پی اور موجودہ اخراجات درست طور پر کی ہے یا نہیں۔ سندھ حکومت نے ہمیں این ایف سی ایوار ڈ کی رپورٹ نہیں دی۔ اسلامک آئیڈیالوجی کونسل کی رپورٹ نہیں دی۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پر بحث نہیں ہوسکی۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ مارچ 2017ء سے جاری ہوچکی ہے۔ اس پر بھی بحث و تمحیص ضروری تھی۔ میں سندھ اسمبلی میں دس دن ایسے دکھا سکتا ہوں جن میں حکومت نے کوئی کام نہیں کیا۔ صوبائی ترقیاتی پروگرام کا صرف 17فیصدخرچ کیا گیا۔ پا پا کی چوری چھپانے کے لیے اسمبلی کو استعمال کیا جارہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں اپوزیشن لیڈر سندھ فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ جب آپ کے تمام راستے بند کردئیے جاتے ہیں تو واحد راستہ احتجاج ہوتا ہے لیکن ہم ایسے عمل کا حصہ نہیں بن سکتے جس سے صوبے کو نقصان پہنچے۔ ہم نے سندھ کے عوام کی خدمت کا عہد کیا ہے۔

مزید : صفحہ اول