شانگلہ میں ترقیاتی منصوبوں میں ناقص میٹریل کا استعمال ، انتظامیہ کی چپ سادہ

شانگلہ میں ترقیاتی منصوبوں میں ناقص میٹریل کا استعمال ، انتظامیہ کی چپ سادہ

ا لپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر)شانگلہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں ناقص مٹریل کا استعمال عروج پر ،کمیشن مافیا نے منصوبوں میں سرگرم عمل ۔ بالائی علاقوں ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی نہ ہونے کے برابر۔ سی اینڈ ڈبلیو کے بعد اب بلدیاتی نمائندے ،ناظمین،لوکل سیکرٹریز ٹھیکوں میں شامل ہیں،اپنی ترقیاتی فنڈپر سن ٹیج پر لیکر منصوبہ غیر معیاری بناکر متعلقہ ٹھیکدار کو ایڈوانس میں کمپلیشن سرٹیفیکیٹ اور این او سی جاری کرنے کا انکشاف۔ ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص حکومت کے کروڑو ں کا فنڈ خورد بردہو جاتا ہے،ورکس اینڈ سروسیز ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ساتھ محکمہ بلدیات اور ناظمین بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں،شانگلہ میں بلدیاتی نظام کے بعد شروع ہونے والی کرپشن میں کروڑوں روپے ترقیاتی منصوبوں کے بجائے کچھ مخصوص ٹھیکداروں ۔بلدیاتی کونسلروں اور کچھ ضلعی افسران کے جیبوں میں چلے گئے ،شانگلہ کرپشن میں پہلی نمبر والا ضلع میں تحریک انصاف کے انصاف کی حکومت میں بھی کرپشن ختم کرنے میں ناکام رہا ، محکمہ ورکس اینڈ سروسیز میں اپنے مرضی کے افسران لاگاکرمفادات وصول کرتے ہیں،شانگلہ اس وقت ٹھکیداران کی رحم وکرم پرجو افسر ٹھکیداران سے ٹینڈر ،اسٹیمیٹ کے مطابق کام مانگے گا ان کا شانگلہ سے تبدیل کرنا معمول بن چکا ہے۔ان محکموں میں ملازمین کی تنخواہیں چند ہزار جب کہ اثاثے کروروں کے ہوتے ہیں۔ بلدیاتی نظام کے تحت چار سال کے دوران ہونے والے ٹینڈروں میں مبینہ گھپلوں کے باوجود باربار ٹینڈرز جاری ہوئے ،منصوبوں میں متعلقہ ناظمین نے ٹھکیدار کو محکمہ کے اہلکاروں کو پرسنٹیج دے کر غلط مٹیریل استعما ل کیا اور بعض منصوبہ کو ہوا میں پاس کرکے پیسے جیبوں میں رکھدئے ۔صحت،تعلیم کا فنڈ بھی مبینہ طور پرنام نہاد ترقیاتی منصوبوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ٹینڈر میں پرانے سکیموں کو شامل کرکے اس پر بھی پیسے نکلوائے، ان منصوبوں کا جس کو پوچھنا تھا وہ خود ٹھیکوں میں شامل رہا ۔کروڑوں مالیت سے منصوبوں میں ناقص میٹریل کا استعمال گنگا میں پیسے بہانا جیسا ہے ،صوبائی حکومت سارے صورت حال سے اگاہ ہونے کے باوجود خاموشی اختیار کر رکھی ہیں ۔ تحصیل وضلعی کونسلران نے اپنے حلقوں میں فنڈ اور غیر سرکاری تنظیموں سے ملنے والے پرانے سکیم کو نئے ٹینڈرز میں شامل کر کے اس پر دوبارہ پیسے نکلواتے ہیں۔ محکمہ ورکس اینڈ سروسیز۔ محکمہ بلدیات اس تمام تر کاروائی میں متعلقہ محکمہ کے انجینئرز ۔افسرز سے لیکر نائب قاصد تک سارے اپنا حصہ لیتے ہیں،بلدیاتی نظام کے تحت پہلے سال کے کام کا جائزہ لیا جائے ناقص میٹریل کے استعمال کرنے،محکمہ کی جانب سے مانیٹرنگ ،چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے سے ناظمین کی ملی بھگت اور سرپرستی کی وجہ سے وہ منصوبے ٹوٹ پھوٹ کا شکار اور اکثر منصوبے تو سرے ہی سے ختم ہو چکے ہیں۔ محکمہ سی اینڈ ڈبلیوکے جاری ترقیاتی منصوبوں میں بھی ٹھکیدار کے مرضی کے مطابق ہے یہ محکمہ کمیشن لیکر بل پاس کر لیتے ہیں۔ شانگلہ میں کرپشن عروج پر ہیں جبکہ اس مضبوط مافیا کے خلاف کوئی بھی کارروائی کیلئے عملی اقدامت نظر نہیں ارہی ہیں۔۔

مزید : پشاورصفحہ آخر