مفتی تقی عثمانی کے ساتھ گاڑی میں موجود اہلیہ اور پوتے بھی حملے میں محفوظ رہے : مفتی تقی عثمانی کی سینئر صحافی کے ساتھ گفتگو

مفتی تقی عثمانی کے ساتھ گاڑی میں موجود اہلیہ اور پوتے بھی حملے میں محفوظ رہے : ...
مفتی تقی عثمانی کے ساتھ گاڑی میں موجود اہلیہ اور پوتے بھی حملے میں محفوظ رہے : مفتی تقی عثمانی کی سینئر صحافی کے ساتھ گفتگو

  


کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )مفتی تقی عثمانی کی گاڑی پر کراچی میں نرسری کے علاقے میں حملہ کیا گیا جس دوران ان کا محافظ اور پولیس اہلکار ان کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہو گئے ہیں تاہم مفتی تقی عثمانی محفوظ رہے ہیں ۔

نجی ٹی وی جیونیوزکے صحافی ’ انصار عباسی ‘ نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں انہوں نے حملے کے فوری بعد مفتی تقی عثمانی کے ساتھ ہونے والی گفتگو اور واقعہ سے متعلق بتایا ہے ۔

رپورٹ کے مطابق مفتی تقی عثمانی کے دو گارڈ اس حملے میں شہید ہوئے ہیں جن میں سے ایک ان کا ذاتی محافظ تھا جبکہ دوسرا سندھ پولیس کا اہلکار تھا جبکہ جس گاڑی میں وہ سوار تھے وہ دارالعلوم کورنگی کے نام پر رجسٹرڈ ہیں ۔مفتی تقی عثمانی کا کہناتھا کہ گاڑی میں ان کے ساتھ ان کی بیوی اور دو پوتے موجود تھے تاہم وہ بھی اس حملے میں محفوظ رہے ہیں ۔

مفتی تقی عثمانی نے بتایا کہ دہشتگردوں نے پہلے گاڑی کے پیچھے کھڑے ہو کر فائرنگ کی اور پھر وہ آگے چلے گئے اور سامنے کھڑے ہو کر بھی فائرنگ کی۔ ایس پی گلشن طاہر نورانی نے دو مختلف مقامات پر ہونے والی گاڑیوں پر حملے کی خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ایک ہی جگہ پر دو گاڑیوں پر ہوا ہے ۔

مولانا تقی عثمانی سیاہ رنگ کی ہنڈا سوک پر سفر کر رہے تھے اور ان کی فیملی بھی ان کے ہمراہ تھی جبکہ دوسری گاڑی میں ان کا ڈرائیور اور محافظ سوار تھے ، جس وقت حملہ آوروں نے فائرنگ کی تو دونوں گاڑیاں ایک ساتھ ہی چل رہی تھی ۔

سب سے پہلے حملہ آوروں نے مولانا تقی عثمانی کے محافظوں کی گاڑی پر فائرنگ کی جس دوران ان کا ڈرائیور کو گولی لگی ، ان کے ڈرائیور نے گاڑی کو تیزی کے ساتھ لیاقت نیشنل ہسپتال کی طرف موڑا اور وہاں پہنچ گیا جبکہ دوسری گاڑی چورنگی کے مقام پر ٹکرا گئی جس میں صنوبر خان شہید ہوئے جبکہ ڈرائیور عامر زخمی ہوا ۔

جناح ہسپتال کی ترجمان ڈاکٹر سیمی جمالی نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ” سیکیورٹی گارڈ صنوبر خان کو جس وقت ہسپتال لایا گیا تو وہ جاں بحق ہو چکے تھے جبکہ عامر صاحب شدید زخمی ہیں اور انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا ہے ۔

آئی جی سندھ کلیم امام کا کہناہے کہ ” تحقیقات جاری ہیں ، حملے میں ایک پولیس کا جوان بھی شہید ہو اہے جو کہ مولانا کی حفاظت کر رہاتھا جس کی شناخت محمد فارو ق کے نام سے ہوئی ہے ۔حکام کا کہناہے کہ تحقیقاتی ٹیمز موقع واردات پر پہنچ گئیں اور شواہد اکھٹے کیے جارہے ہیں ۔

پولیس کا کہناہے کہ موقع سے 9 ایم ایم پستول کی گولیاں برآمد کی گئی ہیں جبکہ دوسری جانب کاﺅنٹر ٹریرازم ڈپارٹمنٹ کے انچارج راجا عمرخطاب کا کہناہے کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار حملہ آوروں نے فائرنگ کی ۔

مزید : اہم خبریں /قومی