قاتلانہ حملے میں بچ جانے والے مفتی تقی عثمانی کا موقف بھی سامنے آگیا

قاتلانہ حملے میں بچ جانے والے مفتی تقی عثمانی کا موقف بھی سامنے آگیا
قاتلانہ حملے میں بچ جانے والے مفتی تقی عثمانی کا موقف بھی سامنے آگیا

  


کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )قاتلانہ حملے میں بچ جانے والے دارالعلو علوم کراچی کے شیخ الحدیث مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ حملے کے وقت کچھ اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے ،اللہ کا شکر ہے حملے میں اہل خانہ محفوظ رہے ۔حملے کے بعد میڈ یا سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حملے کے وقت اہلیہ اور 2 پوتے بھی ساتھ تھے،اللہ کا شکر ہے سب محفوظ رہے۔ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور پہلے آگے گئے اور پھر پیچھے مڑ کر فائرنگ کی۔انہوں نے مزید کہا کہ کچھ اندازہ ہی نہیں ہوا کہ ہو کیا رہا ہے،ایسے محسوس ہوا جیسے گاڑی پر گولیوں کی بوچھاڑ ہوگئی۔

واضح رہے کہ آج دوپہر کراچی کے علاقے نیپا چورنگی میں نا معلوم افراد نے مفتی تقی عثمانی کی گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ان کا ڈرائیور اور سیکیورٹی گارڈ جاں بحق ہو گئے تاہم اہل خانہ اس حملے کے نتیجے میں محفوظ رہے ۔

مزید : قومی